احتساب عدالت نے صاف پانی کمپنی کیس میں ملوث راجہ قمر الاسلام اور وسیم اجمل کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا ہے۔
احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن بخاری نے کیس کی سماعت شروع کی تو صاف پانی کمپنی کے سابق سی ای او وسیم اجمل کے وکیل نے بتایا کہ وسیم اجمل نے وزیراعلیٰ پنجاب کے تمام تر احکامات پر عملدرآمد کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے صاف پانی کمپنی کے چھ کے قریب سی ای او تبدیل کیے جبکہ موجودہ سی ای او کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے سامنے ہیش ہوچکے ہیں۔وکیل نے موقف اختیار کیا کہ انہیں سمجھ نہیں آئی کہ وسیم اجمل کو پکڑنے کا کیا جواز تھا، تمام سابق سی ای اوز اور وزراء کو گرفتار کرتے۔
جبکہ نیب کے پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ نے بتایا کہ دوران تفتیش مزید باتوں کا انکشاف ہوا ہے، ملزمان سے مزید تحقیقات کرنی ہیں۔ استدعا ہے کہ ملزمان کا مزید ریمانڈ دیا جائے۔
جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ ملزم نے ایسا کیا کیا اور آپ کو مزید ریمانڈ کس بنیاد پر چاہیے؟جس پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ دنیا پور میں آٹھ تحصیل میں ضمنی انتخاب میں فائدہ پہنچانے کیلئے پلانٹ لگائے گئے، جس کی لاگت کا صحیح سمت میں تعین بھی نہیں کیا گیا تھا اور صاف پانی کمپنی کے سابق سی ای او وسیم اجمل بھی پلانٹ کی تنصیب میں شامل تھے۔
عدالت نے راجہ قمرالسلام اور وسیم اجمل کو 14 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا ہے












