ھائی لینڈ کے غار پھنسے ہوئے نوجوان لڑکوں میں سے آٹھویں لڑکے کو بھی نکال لیا گیا ہے۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق اسے آج پیر کے روز سٹریچر پر غار سے باہر لایا گیا اور ہسپتال پہنچا دیا گیا۔
سیلابی پانی سے بھری ہوئی غار میں اب چار بچے اور ان کا کوچ باقی رہ گیا ہے۔
امدادی کارکنوں نے غار میں پھنسے ہوئے باقی فٹ بال کھلاڑیوں اور اُن کے کوچ کو باہر نکالنے کی کارروائیاں آج صبح پھر شروع کیں۔
اس موقع پر ریسکیو مشن کے کمانڈر نارونگسک اوسوٹیناکورن نے میڈیا کو بتایا کہ وہ تمام ضروری سامان کے ساتھ اپنی کارروائیوں کیلئے تیار ہیں۔ اس سلسلے میں آکسیجن کی ٹیوب بھی نصب کر دی گئی ہے۔ اُنہوں نےبتایا کہ امدادی کارروائیاں آج صبح مقامی وقت کے مطابق 11 بجے شروع کی گئیں۔
اس سے قبل اتوار کے روز مقامی اور بین الاقوامی غوطہ خوروں کی ایک ٹیم نے گزشتہ ڈھائی ہفتوں سے ایک غار میں پھنسے جونیئر فٹ بال ٹیم کے 12 میں سے چار کھلاڑیوں کو بحفاظت باہر نکالا۔
حکام کے مطابق چاروں افراد کو علاقے میں قائم ایک عارضی میڈیکل کیمپ میں ابتدائی طبی امداد دی جارہی ہے جس کے بعد انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے بڑے اسپتال منتقل کیا جائے گا۔
غار میں پھنسے ان بچوں کو بچانے کی کارروائی تھائی حکام نے بین الاقوامی ٹیموں کی مدد سے اتوار کو شروع کی تھی۔
حکام کے مطابق ریسکیو مشن میں 13 غیر ملکی اور پانچ تھائی غوطہ خور شریک ہیں اور ہر بچے کو دو غوطہ خور اپنے ہمراہ لے کر غار سے باہر آئیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تمام بچوں کو بحفاظت باہر نکالنے میں دو سے چار دن لگ سکتے ہیں۔
بچوں کو غار سے نکالنے کی کارروائی علاقے میں مزید بارشوں کے خدشے کے پیشِ نظر اتوار کو ہنگامی طور پر شروع کی گئی تھی۔
محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا تھا کہ علاقے میں آئندہ چند روز کے دوران طوفانی بارشوں کا خدشہ ہے جس کے باعث پہلے سے زیرِ آب غار میں مزید پانی بھر سکتا ہے۔
علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق علاقے میں بارش شروع ہو چکی ہے جس کے باعث غار میں پانی کا لیول بڑھنے سے وہاں آکسیجن کم ہورہی ہے۔
بچوں کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ایک تھائی غوطہ خور جمعرات کو غار میں آکسیجن ختم ہونے کی وجہ سے ہلاک ہوگیا تھا۔












