اسلام حقوق ا لعباد اورانتخابات(46 ) ۔شمس جیلانی

0
143

آجکل انتخابات کا دور دورہ ہے۔ ایک مسلمان کی حیثیت ایسے شاید چند ہی لوگ پورے ملک میں نکلیں جنہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو، جو ووٹ کو امانت سمجھتے ہوں اور اس کا صحیح استعمال جانتے ہوں ۔ جب جانتے ہی نہیں تو اس کا صحیح ادراک کیسے ہوگا؟ جبکہ تمام ماڈرن مسلمان عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور مذہب کو سیاست سے علیٰحدہ ہونا چاہیے؟ یہ ہی سبق میڈیا بھی پڑھا رہا ہی سوائے ایک آدھ چینل کے؟ دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ اسلام میں جموریت ہی نہیں ہے جو کہ قطعی غلط ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک کو اسلامی جمہوریہ تو بنادیا گیا اور دکھا وے کے طور پر اس کے دستور میں یہ دفعات بھی شامل کردی گئیں کہ ملک پر حاکمیتِ اعلٰی، اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ہوگی،آئندہ بننے والے سارے قوانین قر آن سنت کے مطابق ہونگے۔ جو نہیں ہیں انہیں قرآن اور سنت کے مطابق دس سال بنالیاجا ئے گا؟ لیکن نہ ہی اس کا نفاذ ہوا اور نہ ہی کوئی مہم چلا کر عوام میں اس سلسلہ میں بیداری پیدا کی گئی؟ اس کے لیے علماء اور حکمراں دونوں ہی مساوی طور پر ذمہ دار ہیں اورکو ئی بھی خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتا؟
پھریہ سب کچھ ایک عرصہ طویل تک معلق رہا اور کاروبار حکومت چلتا رہا؟ اس کے بعد ایک“ آمر “ جوکہ اسلامی نظام نافذ کرنے کے نام پر آئے تھے۔ انہوں نے بظاہر مونچھوں کو بالا ئی لگادی کہ قرارداد مقاصد کوشیلف سے اتارا اسکی گرد جھاڑی جوکہ پہلے وزیر اعظم کے دور سے پڑتے پڑتے جم گئی تھی؟ پھر اسکی آڑ لیکر حدود آرڈینس نافذ کردیااور جب پارلیمان بن گئی تو اس کانام مجلسِ شوریٰ رکھدیا ؟کیونکہ ان کے پاس ہر سوال کا ایک ہی جواب تھا کہ“ میرے پاس کوئی گیڈر سنگی نہیں ہے کہ ایک دن میں سارے مسائل حل کردوں“ حالانکہ کے وہ ان کے پاس تھی؟ اس لیے کہ میرے ایک دوست جو کسی کے چکر میں نہیں آئے تھے وہ بھی ان کے چکر میں آگئے اور انکو انہوں نے وزیر اوقاف اور مذہبی امور بنا دیاان کا نام تھا مولانا وصی مظہر ندوی (رح)وہ اپنے آخری وقت تک اس عقیدہ پر قائم رہے کہ وہ کرنا تو چاہتے تھے مگر ان بیچاروں کو موقع نہیں ملا ؟ جبکہ دوسرے فولادی آدمی جوکہ میرے دوست تو نہیں تھے مگر میرے مربیّ ضرور تھے ان کا نام تھا نوابزدہ نصرا للہ خان؟ وہ بھی ان صاحب کے چکر میں آگئے اور اپنے چند آدمی بطور وزیر دیدیئے اور پھر وہ ہمیشہ خود کوا پنے اس فعل پر ملامت کرتے رہے؟اس آمر کو دس سے زیادہ سال ملے اور تھے بھی آمرِ مطلق ،نہ کوئی ان کے ہاتھ کو روک سکتا نہ ان کی بات کو ئی ٹال سکتا تھا؟انہوں نے ہی دستور میں یہ دفعات شامل کیں کہ کوئی شخص مجلس شوریٰ کا رکن نہیں ہو سکتا جوکہ صادق اور امین نہ ہو ؟ اس پر عمل وہ بھی نہیں کراسکے ،البتہ وہ اسلام کے نام پر اپنے سیاسی مخالفین کوڑے ضرور لگواتے رہے؟ جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا؟ مگر ان کا ہاتھ کسی نہیں پکڑا آخر پھر ان کو بھی اللہ نے نشانِ عبرت بنادیا؟ مگر وہ جاتے جاتے اپنا خلیفہ دے گئے ان الفاظ کہ ساتھ کہ خدا کرے میری عمر بھی اس کو لگ جائے ،جسے قوم ہنوز بھگت رہی ہے؟ جبکہ خلیفہ نے پہلا کام یہ کیا کہ جب علماء کے ایک ریاستی ادارے نے سود کو حرام قرار دینے کہ لیے حکم دیا، تو انہوں نے عدالت سے حکم امتناعی لے لیا جو آج تک چلا آرہا ہے۔ اس تمہید سے ٓآپ سمجھ گئے ہونگے اللہ سبحانہ تعالیٰ سے کیے ہو ئے وعدے کو پورا کرنے کی نیت کسی کی بھی نہیں تھی، جبکہ یہ ملک بنا اسی کے نام پر تھا؟ اگر دستور پر عمل ہوتا تو مسلمان جانتے ہو تے کہ ووٹ کیا ہے اور ان کی ذمہ داری کیا ہے؟ دوسری طرف ان کے اوپر ماڈرن دنیا کا دباؤ ہے کہ تم بھی ہماری طرح ہوجاؤ تاکہ حممام میں یکسانیت نظر آئے؟ جبکہ مسلمانوں کو اپنی ذمہ داریاں معلوم ہی نہیں ہیں لہذا وہ اس مسافر کی طرح ہیں جو دشت بیابان میں ہے او ر راستہ بھول گیا ہے؟ اور سامنے دورہا ہے؟
اگر علماء اپنے فرائض پورے کرتے تو مولانا شبیر احمد عثمانی(رح) اور ان کے اکیاون ساتھی علماء کی طرح حکومت کے سامنے ڈٹ جاتے اور مدد کے لیے عوام کو آواز دیتے تو یہ صورتِ حال پیدا نہ ہوتی؟اگر وہ صرف مسلمانوں کو ،“ مسلمان “ کے معنی سمجھا دیتے تو بھی پاکستانی اس پریشانی میں مبتلا نہ ہوتے؟ جوکہ بہت مختصر سے ہیں کہ “ مسلمان کہ معنی یہ ہیں کے اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سامنے خود کو بندہ پوری طرح سرنگوں کردے؟ لہذا کلمہ پڑھنے کے بعد ایک مسلمان کا ہر فعل اللہ کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیئے۔ پھر طریقہ حیات یہ ہوتا کہ جب بھی کسی کوئی مسئلہ در پیش ہوتا تو وہ پہلے قرآن کی طرف دیکھتا، جب وہاں نہ ملتاتو حضور (ص) کے ا سوہ حسنہ میں تلاش کرتا اگر وہاں بھی نہیں ملتا تو پھر با صلاحیت ہوتا تو خود دین کی روشنی میں فیصلہ کرتا؟ورنہ علماء اور اہلِ علم سے راہنما ئی حاصل کرتا ؟ یہاں میں نے کوئی بات اپنی طرف نہیں کہی ہے؟ یہ حضور (ص) کے ارشادات ہیں کہ جب وہ (ص) تاریخ اسلام کے پہلے گورنر حضرت معاذ بن جبل(رض) کو یمن کی طرف رخصت فرما رہے تھےتو ،انہیں پہلی ہدایت دی کہ دیکھو ! دین میں آسانی پیدا کرنا مشکلات نہیں ؟ پھر ان سے ہی پوچھا کہ تم وہاں انصاف کیسے کروگے؟ تو یہ ان کے جوابات تھے جن پرحضور (ص)نے گلے لگاکر ان کو سراہا کہ تم “ راہ راست پاگئے“؟ اس کی روشنی میں سب سے پہلے اپنے گریبان میں منہ ڈالکر ہر ایک کو دیکھنا چاہیئے کہ میں اس پر کتنا عمل کررہاہوں ؟ اگر نہیں کررہا ہوں تو کیوں؟جبکہ اللہ سبحانہ نے ہمیں کہیں بھی بغیر ہدایت کے نہیں چھوڑا؟ اگر جو ایسا کرتے ہیں وہ پختہ مسلمان ہیں؟ جو نہیں کرتے ان کے بارے میں میں کچھ نہیں کہہ سکتا اس کا جواب وہ خود قرآن سنت میں تلاش کرلیں کہ کس زمرہ (کٹاگری) میں آتے ہیں؟ انشا ء ا للہ، وہ خود انکی رہنمائی فرما ئے گا؟ اب آئیے ووٹ کے بارے میں کہ اسکی اہمیت کیا ہے؟ٰیہاں ہدایت یہ ہے کہ جب تم اپنے میں سے امام منتخب کرنے لگو تو جو تم میں سے سب سے زیادہ متقی ہو اس کو ترجیح دو؟یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ اپنے رشتہ داروں ترجیح دو ، ذات اور برادری کو ترجیح دو ، اپنے“ گرائیں“ کو ترجیح دوہم وطنوں کو تر جیح دو؟ کیونکہ مسلمان وطنیت کی قید سے آزاد ہے اور ہر مسلمان بلا امتیاز مساوی حقوق رکھتا ہے۔ پھر حکم دیا گیا ہے کہ صرف بھلائی کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو ظلم میں نہیں ؟ جبکہ جو ظالم کی مدد کرے وہ ظالم ہے اور ظالموں پر قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے۔ اورظلم کیا چیز ہے؟ اللہ اور بندے میں سے کسی کے حقوق کی ادائیگی نہ کرنا ظلم ہے اور اس فعل کاکرنے ظالم ہے؟ پھر حکم ہوتاہے شہادت مت چھپاؤ چاہے وہ تمہارے اپنے ہی خلاف کیوں نہ ہو؟ مسلمان ہونے کا تقاضہ یہ ہے کہ اگر آپ اہل نہیں ہیں تو خود امید وار نہ بنیں؟ جو امیدوار ہیں ان کی اچھائی یا برائی جو بھی آپ کے علم ہوبیان کردیں ۔ ورنہ اگر آپ کے کسی کے عیب چھپانے یا غلط حمایت کر نے سے کوئی غلط آدمی منتخب ہوگیا تو جوبرائی وہ کرے گا اس کے ساتھ آپ کے کھاتے میں بھی لکھی جا ئیں گی۔؟اگر آپ کسی اچھے کے حامی ہیں تو اس کی اچھا ئیاں جو وہ کریگا وہ بھی آپ کے کھاتے میں لکھی جائیں گی؟ بہت سے لوگوں کو ہم نے یہ کہتے سنا کہ ہم ووٹ دیتے ہی نہیں ؟ یہاں بھی یہ کہہ جان نہیں چھٹے گی؟ اگر آپ کےووٹ نہ ڈالنے سے کوئی غلط آدمی منتخب ہوگیا تو پھر وہی سزا ہے؟ اس سے آپ کی سمجھ میں آگیا ہوگا کہ ووٹ اسلام میں کتنی بڑی امانت ہے اس کا ایماندارنہ استعمال کتنا ضروری ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فر ما ئے( آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY