ایرانی آرمی چیف میجر جنرل محمد باقری کے دورہ پاکسستان کے موقع چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات میں پاکستان اور ایران کے درمیان باہمی فوجی تعاون کومزید فروغ دینے پر رضامندی کا اظہار کیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایرانی فوج کے سرابراہ 3 روزہ دورے پر پاکستان آئے تھے، ان کے اس دورے کو خاصی اہمیت کی نظر سے دیکھا جارہا ہے کیوں کہ پاکستان اور ایران کے مابین فوجی تبادلے نہ ہونے کے برابر ہیں اس کی وجہ دونوں مماک کے درمیان باہمی اعتماد کی کمی ہونا ہے جو انہیں تقسیم کیے رکھتی ہے۔

دورہ پاکستان کے موقع پر ایرانی جرنیل نے نگراں وزیر خارجہ عبداللہ حسین ہارون سے دفتر خارجہ میں ملاقات کی جس کے بعد وہ پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کیلئے جنرل ہیڈ کوارٹر ( جی ایچ کیو) راوالپنڈی پہنچے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق ملاقات میں آرمی چیف نے پاکستان اور ایران کے مابین باہمی فوجی تعلقات میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا، ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و استحکام کیلئے اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

ت

آرمی چیف کی پیشکش پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی کمانڈر نے دونوں برادر ممالک کے تعلقات بہتر بنانے کیلئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

خایل رہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو فوجی سطح پر پاک ایران تعلقات بہتر بنانے کا معمار سمجھا جاتا ہے، اس ضمن میں گزشتہ برس انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ کیلئے ایران کا دورہ بھی کیا تھا، بعد ازاں چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر بھی جون میں ایران کے دورے پر تھے۔

خیال رہے کہ باہمی فوجی تعلقات بہتر بنانے کی بنیاد سرحد پر سیکیورٹی تعاون اور بارڈر مینیجمنٹ پر تبادلہ خیال ایرانی جنرل کی ملاقات کا مرکزی ایجنڈا رہا، جبکہ ملاقات میں خطے کی سالمیت پر بھی گفتگو ہوئی۔

اس حوالے سے ایک سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعلقات کو فروغ دینا اتنا آسان نہیں، تاہم دونوں ملک مل کر اس راہ میں حائل رکاوٹوں اور چیلنجز سے نبرد آزما ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں ایرانی خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے اسلام آباد میں خطے کے دیگر ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کے ہونے والےاجلاس می شرکت کی جس میں خاص طور پر افغانستان میں قدم جماتی داعش کے سےخطے کو لاحق خطرات کا جائزہ لیا گیا۔

دوسری جانب نگراں وزیر خارجہ ہارون عبداللہ نے باہمی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

اس کے ساتھ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر ایرانی قیادت کی حمایت کو بھی سراہا۔

SHARE

LEAVE A REPLY