نوازشریف،مریم نواز کے خلاف ریفرنسز کی سماعت کھلی عدالت میں ہوگی، وفاقی کابینہ

0
1068

وفاقی کابینہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف قومی احتساب عدالت (نیب) کی جانب سے دائر دیگر 2 ریفرنسز کی سماعت اڈیالا جیل کے بجائے کھلی عدالت میں کرنے کی منظوری دے دی۔

اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نگراں وزیرِ قانون و اطلاعات علی ظفر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے نیب کی درخواست پر نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت میں ہونے والے ٹرائل کی سماعت سیکیورٹی وجوہات کے باعث اڈیالا جیل منتقل کردیا تھا۔

علی ظفر کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت ٹرائل کو شفاف بنانے کے لیے وفاقی کابینہ نے نواز شریف کے خلاف دونوں ریفرنسز کی سماعت جوڈیشل کمپلیکس میں کھلی عدالت میں کرنے کی بھی منظوری دی ہے اور اب آئندہ اس کیس کی سماعت احتساب عدالت میں ہی ہوگی۔

نگراں وزیرِقانون و اطلاعات کا کہنا تھا کہ اگر وزارتِ داخلہ کو کسی مرحلے میں سیکیورٹی خطرات کا خدشہ ہو تو دوبارہ وفاقی کابینہ کو سماعت کے مقام کی منتقلی کے لیے درخواست دے سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ نواز شریف سمیت کسی بھی قیدی کو وہ تمام سہولیات ملنی چاہئیں جو پنجاب جیل مینوئل میں درج ہیں، اگر ایسا نہیں ہے تو یہ خلاف قانون ہوگا۔

خیال رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور دامار کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف دائر ایون فیلڈ ریفرنس پر فیصلہ سناتے ہوئے بالتریب 10، 7 اور ایک سال کی قید سنائی تھے جس کے بعد نواز شریف اور مریم نواز کو 13 جولائی کو لندن سے واپسی پر لاہور ائرپورٹ سے اڈیالا جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔

نواز شریف کی جیل منتقلی کے بعد وفاقی وزارت قانون و انصاف نے دیگر ریفرنسز کی سماعت اڈیالا جیل میں کرنے کی منظوری دی تھی جس پر مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف دیگر رہنماؤں نے شدید مذمت کرتےہوئے خلاف قانون قرار دیا تھا۔

شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جیل میں ٹرائل دہشت گردوں کا کیاجاتا ہے جبکہ نواز شریف کے خلاف دہشت گردی کا کیس نہیں ہے اور نہ ہی کرپشن ثابت ہوئی ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نگران حکومت ایمان داری کے ساتھ اپنے مینڈیٹ کے تحت قانون اور آئین کے مطابق کام کر رہی ہے، نگران حکومت کے تمام وزرا اپنے اپنے شعبوں میں اپنی مہارت کے مطابق کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں زیربحث آنے والے دیگر معاملات سے آگاہ کرتے ہوئے نگراں وزیر قانون و اطلاعات کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبے کے زیر انتظام سابقہ قبائلی علاقے فاٹا اور پاٹا کے عوام سے کیے گئے وعدے وفاقی حکومت پورے کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کے عوام سے منافع پر انکم ٹیکس اور بجلی کی مد میں سیلز ٹیکس بھی وصول نہیں کیا جائے گا۔

وفاقی وزیرِ طلاعات نے بتایا کہ ان علاقوں میں صنعتوں اور ریٹیلرز سے ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا، تاہم اب جو بھی نئی فیکٹری یا کارخانہ لگے گا ان سے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فاٹا اور پاٹا میں وعدے کے مطابق رقوم خرچ کی جائیں گی جبکہ وفاق اور صوبے سے ملنے والے فنڈز صرف فاٹا کے لیے استعمال ہوں گے۔

نگراں وزیرِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ فاٹا میں ٹیکس کے نظام سے متعلق بھی کابینہ میں فیصلہ کیا گیا ہے جس کے مطابق فاٹا میں انضمام کے بعد ابھی کوئی نیا ٹیکس نہیں لگے گا۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ فاٹا اور پاٹا علاقوں میں ٹیکس کے حوالے سے اس کی پہلے والی پوزیشن ہی برقرار رہے گی تاہم ٹیکس قوانین کے حوالے سے کچھ تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے اس حوالے سے جو آرڈیننس تیار کیا ہوا ہے اسے منظوری کے لیے صوبائی کابینہ گورنر کو ارسال کرے گی، اور یہ کام آئندہ چند روز میں مکمل کر لیا جائے گا۔

نگراں وزیرِ اطلاعات کا یہ بھی کہنا تھا کہ فاٹا کا انفرا اسٹرکچر جادو کی چھڑی سے مکمل نہیں ہو سکتا، فاٹا میں وہی قانون نافذ ہوگا جو پورے ملک میں ہے۔

وزیرِ اطلاعات علی ظفر نے بتایا کہ کابینہ کے اجلاس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے جو وقت دیا ہے اس دوران قانونی اقدامات کرنے ہیں اور اسی حوالے سے کابینہ کے اجلاس میں فیصلے کیے گئے ہیں۔

انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان پالیسی فیصلوں سے آئندہ منتخب حکومت کے لیے آسانی ہو گی کہ ایف اے ٹی ایف کے مقرر کردہ اہداف پورے کرنے کے لیے حکومت کو کیا اقدامات اٹھانے ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نگران حکومت کے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کا مینڈیٹ نہیں ہے تاہم نگران حکومت آئی ایم ایف سے بات چیت کر سکتی ہے۔

روپے کی قدر میں مسلسلی کمی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں استحکام کے لیے ایک مصنوعی طریقہ اختیار کیا گیا تھا جس کے بعد ڈالر کی قیمت میں ایک دم اضافہ ہوا کیونکہ ڈالر کی قیمت کا تعین طلب و رسد کو مدنظر رکھتے ہوئے فارمولے کے تحت ہوتا ہے۔

بریفنگ کے دوران پشاور اور مستونگ میں ہونے والے خودکش بم حملوں کی تعزیت میں کچھ دیر کے لیے خاموشی اختیار کی گئی جبکہ ان حملوں میں جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔

علی ظفر کا کہنا تھا کہ عبوری حکومت کا ایک مینڈیٹ یہ بھی ہے کہ صاف، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون یقینی بنایا جائے، اس کے ساتھ ساتھ نگران حکومت روزمرہ کے امور بھی نمٹا رہی ہے۔

میڈیا کے حوالے سےبات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات پر حکومت نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگیولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو خود مختار بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں جس کی بدولت اب پیمرا مکمل آزاد ریگولیٹری ادارہ بن چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیمرا پرائیویٹ میڈیا کو کسی بھی حوالے سے ایڈوائس جاری کر سکتا ہے، اگر میڈیا ہاؤسز سمجھیں کہ یہ ایڈوائس خلاف قانون ہے تو وہ ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY