حمیرا احمد کا صدر کی پرنسپل سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دینے سے انکار

0
779

پرنسپل سیکرٹری ہٹانے کےلیے صدر مملکت کے احکامات کی تعمیل نہ ہوسکی، الیکشن کمیشن کی اجازت کے بغیر پوسٹنگ تبادلے ہوسکتے ہیں نہ حکومت پر صدر کی درخواست لازم ہے۔

نارکوٹکس ڈویژن کی سیکرٹری کی حیثیت سے کام کرنے والی 22 گریڈ کی افسر حمیرا احمد نے صدر پاکستان کی پرنسپل سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دینے سے انکار کر دیا ہے۔

صدر عارف علوی نے پیر کو وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری سید توقیر حسین شاہ سے کہا تھا کہ ان ( صدرپاکستان ) کے پرنسپل سیکرٹری وقار احمد کو ہٹایا جائے ۔

اس اقدام کے پس منظر میں وہ تنازع تھا جو دو سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے حوالے سے صدرپاکستان عارف علوی نےشروع کیا تھا۔

’اعلیٰ ذرائع‘ نے دی نیوزکو پیر کی شام کو آکربتایا کہ صدر کے احکامات کی تعمیل نہیں ہوسکی کیونکہ صدر نے یہ راستہ اپنے سیاسی محرکات اور حکومتی عہدیداروں کو ’ سیاسیانے‘ کی خواہش کے تحت اپنایا۔

یہ بھی پڑھیں
بلز کی فائلز صدارتی چیمبر میں ہیں، ریکارڈ پیش کرکے بےگناہی ثابت کروں گا: صدر کو سیکرٹری کا خط
صدر مملکت نے اپنے سیکرٹری وقار احمد کی خدمات واپس کردیں
وقار احمد ایک اور دیانتدار افسر ہیں جو سیکرٹریٹ گروپ سے ہیں اور 22 گریڈ کے افسر ہیں، انہوں نے صدر پاکستان عارف علوی کے مؤقف کو کھلے بندوں چیلنج کیا ہے۔

صدر نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا۔ اس پیشرفت پر جب ایوان صدر کے پریس سیکرٹری سے تبصرے کےلیے کوشش کی گئی تو وہ دستیاب نہیں ہوسکے۔

دریں اثنا ذرائع نے کہا ہے کہ قومی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اجازت کے بغیر کوئی پوسٹنگ نہیں ہوسکتی۔

تین دن قبل بڑے پیمانے پر ہونے والی تبدیلیوں جن میں صوبائی چیف سیکرٹری اور وفاقی سیکرٹریوں کی بڑی تعداد تبدیل کر دی گئی اور انہیں کہا گیا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کریں ۔

مسز حمیرا احمد جنہیں پہلے صدرکی پرنسپل سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کےلیے کہا گیا تھا انہوں نے یہ اسائنمنٹ اپنی درخواست پرچھوڑ دی اور انہیں وفاقی سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی لگایا گیا ہے جب کہ بعدازاں انہیں سیکرٹری نارکوٹکس ڈویژن لگا دیا گیا۔

وہ ایک باوقار افسر خیال کی جاتی ہیں اور ان کے پاس اپنے فرائض انجام دینے کی مہارت موجود ہے۔

ذرائع نے یاددلایا کہ پاکستان کے صدر مملکت کے پاس کسی سرکاری افسر کو تبدیل کرنے کا استحقاق نہیں ہے۔ کسی بھی تبدیلی کےلیے انہیں حکومت سے رابطہ کرنا ہوتا ہے اور ذرائع نے اپنی بات میں اضافہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ حکومت پر یہ لازم بھی نہیں ہے کہ ان ( صدر مملکت) کی درخواست مانے۔

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

صدر مملکت عارف علوی کے سیکرٹری وقار احمد نے صدر کو خط لکھ دیا ہے۔

خط میں وقار احمدکا کہنا ہےکہ صدر مملکت نے میری خدمات واپس کردیں لیکن میں حقائق سامنے رکھنا چاہتا ہوں، ایسا تاثر دیا گیا کہ سیکرٹری مذکورہ بلوں سے متعلق کسی بے ضابطگی کا ذمہ دار ہے۔

وقار احمدکے مطابق پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2 اگست کو ایوان صدر میں وصول ہوا، صدر مملکت کو یہ بل تین اگست کو بھیج دیا گیا، حقائق واضح ہیں نہ میں نے بلز کے معاملے میں تاخیر کی اور نہ بے قاعدگی اور نہ صرف نظر، حقیقت یہ ہےکہ فائلز ابھی بھی صدارتی چیمبر میں موجود ہیں۔

وقار احمدکا کہنا ہےکہ صدرکا سیکرٹری کی خدمات واپس کرنےکا فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں، صدر مملکت نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی نہ منظوری دی نہ تحریری طور پر واپس پارلیمنٹ بھیجنےکوکہا، مذکورہ فائل 21 اگست تک سیکرٹری کے آفس میں واپس نہیں بھجوائی گئی۔

وقار احمد نے صدر مملکت سے درخواست کی ہےکہ وہ ایف آئی اے یا کسی بھی ایجنسی سے تحقیقات کرالیں، انکوائری کروا کر اگرکسی نے کوتاہی کی ہے تو ذمہ داری ڈالی جائے، اگر سپریم کورٹ یا کسی عدالت نے بلایا تو میں ریکارڈ کے ساتھ جا کر حقائق بتاؤں گا، میں ریکارڈ پیش کرکے اپنی بےگناہی ثابت کروں گا۔

وقار احمد کا کہنا ہےکہ میں نے ایوان صدرکے دفترکے وقار کو کم نہیں کیا، آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل 8 اگست کی شام آفس بند ہونے کے بعد ایوان صدر کو وصول ہوا، آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل 9 اگست کو صدر مملکت کو بھجوایا گیا، صدر مملکت ان دونوں بلز پر حقائق اچھی طرح جانتے ہیں، میں حلف پر بیان دینےکو تیار ہوں، صدر مملکت سے درخواست ہےکہ میری خدمات واپس کرنےکا خط واپس لیں۔
خیال رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے سیکرٹری وقار احمد کی خدمات واپس کردی ہیں۔سیکرٹری کی تبدیلی کا فیصلہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی ایکٹ پر صدر کے گزشتہ روز کے بیان کے تناظر میں کیا گیا۔

ایوان صدر سیکرٹریٹ نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو خط لکھ کر سیکرٹری کی تبدیلی کے فیصلے سے آگاہ کیا۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ وقار احمد کی خدمات کی مزید ضرورت نہیں۔

ایوان صدر کے خط میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کی گریڈ 22 کی خاتون افسر حمیرا احمد کو صدر کا سیکرٹری لگانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

آفیشل سیکریٹ ایکٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بلز پر دستخط نہیں کیے: صدر
خیال رہےکہ گزشتہ روز صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا تھا کہ اللہ گواہ ہے میں نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط نہیں کیے۔

صدر عارف علوی نے اپنے بیان میں کہا کہ میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل سے اتفاق نہیں کرتا، میں نے اپنےعملے کو کہا کہ بل کو بغیر دستخط کے واپس بھیجیں۔

صدر پاکستان نے مزید کہا میں نے عملے سے کافی بار تصدیق کی کہ بلز بغیر دستخط کے واپس بھیج دیے گئے ہیں، مجھے آج معلوم ہوا کہ میرے عملے نے میری مرضی اور حکم کو مجروح کیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY