پاکستان پریس کلب انٹرنیشنل برطانیہ کے زیر اہتمام لندن میں سینئر صحافی اور معروف اینکر پرسن سیدہ عاصمہ شیرازی کی کتاب “کہانی بڑے گھر کی” کی تقریب رونمائی دو دسمبر پیر کی شام ہوئی ہوئی جس میں لندن کے سینئر صحافیوں، سول سوسائٹی اور ادب سے وابستہ شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
عاصمہ شیرازی نے کہا کہ ان کی کتاب اس بڑے گھر کی کہانی ہے کہ جس نے چار سالوں میں ایک صفحے پر مشتمل ہائبرڈ رجیم کے زریعے ملک میں وہ تجربہ کیا کہ جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو سالوں تک بھگتنا پڑے گا۔ کتاب “کیسا ہو گا نیا پاکستان” سے “مجھے یوں نکالا” کے بیچ چار سالوں کی کہانی اور دستاویز ہے جب آئین کی عمل داری کو خواہشات کی بھینٹ چڑھایا گیا۔ ایک صفحے کی حکومت نے آزادی اظہار پر قدغنیں لگائیں اور آوازیں دبانے کے لیے ہر حربہ اختیار کیا۔ عاصمہ شیرازی نے کہا کہ صحافی پاکستان کی نظریاتی حدود، آئین پاکستان، آزادی اظہار کے محافظ ہیں اور رہیں گے۔
معروف شاعر صفدر ہمدانی نے کہا کہ عاصمہ شیرازی کی کتاب حق کی آواز ہے۔ سچ بولنے کی سزا آپ کو بھگتنا پڑتی ہے، عاصمہ شیرازی نے ثابت کیا کہ خواتین مردانہ وار صلاحیتوں کی حامل ہوتی ہیں اور حق بات کرنے میں کسی خوف کو خاطر میں نہیں لاتیں۔
انہوں نے کہا کہ 432 صفحات میں 191 کالم کی عاصمہ شیرازی کی کتاب کہانی بڑے گھر کی دراصل اس عہد کی عکاسی ہے جب ریاست مدینہ کے دعوےداروں نے مدینہ تو نہ بنایا ملک کو کوفے سے بدتر بنا دیا جہاں اختلاف رائے کی وجہ سے عاصمہ سمیت کتنی ہی خواتین صحافیوں کو گالی بنایا اور انکے گھروں پر دھاوے بولے اور لفافہ صحافی کی رٹ لگانے والوں نے اپنی سوشل میڈیا بریگیڈ میں لفافے تقسیم کیئے۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے بتایا کہ چند برس پہلے عاصمہ سے میری ملاقات میرے مرحوم شاگرد ارشد مراد نے کروائی تھی اور اس دن سے عاصمہ شیرازی نے محبت اور عزت کا رشتہ برقرار رکھا ہے۔ اس مہذب خاتون نے اس طالب علم سے دس نہیں تو بیس لفظ سیکھے ہونگے لیکن ان ہی چند لفظوں کے عوض مجھے اپنا محسن بنائے ہوئے ہے جبکہ میں ایسے محسن کُشوں کے درمیان رہتا ہوں کہ جنکی دو دو کتابیں مکمل درست کر کے دیں وہ کہتے ہیں صفدر ھمدانی کی اردو ادب میں کنٹری بیوشن کیا ہے۔۔۔۔۔۔ کالم کا معیار مولانا چراغ حسن حسرت مولانا عبدلمجید سالک اور احمد ندیم قاسمی نے بنایا تھا لیکن مرحوم عبدالقادر حسن نے کالم کو روزنامچہ بنا دیا۔۔ تا ہم خوشی ہے کہ عاصمہ نے کالم کی ہیئت اور روایتی معیار کو بھی بہت حد تک برقرار رکھا اور اس بات کو بھی غلط ثابت کیا کہ کالم بس ایک روز کے لیئے ہوتا ہے اگلے روز ردی بن جاتا ہے۔ عاصمہ شیرازی اس قافلے کی رکن ہے جنہوں نے کالم کو تاریخی سند اور دستاویز بنایا اور بڑے گھر کی کہانی میں یہ تاریخ ہر کالم میں موجود ہے

صدر پاکستان پریس کلب انٹرنیشنل برطانیہ شوکت ڈار نے کہا کہ عاصمہ شیرازی کی کتاب کی لندن میں رونمائی پاکستان پریس کلب کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ عاصمہ شیرازی کو یقین دلاتے ہیں پاکستان پریس کلب انٹرنیشنل کے صحافی ان کے ساتھ ہیں اور ساتھ دیتے رہیں گے۔
تقریب رونمائی میں نظامت کے فرائض ترجمان پاکستان پریس کلب انٹرنیشنل عرفان الحق نے سرانجام دیے جبکہ سینئر نائب صدر پاکستان پریس کلب انٹرنیشنل سید کوثر کاظمی، سیکرٹری جنرل پاکستان پریس کلب انٹرنیشنل فرید قریشی، اظہر جاوید، تیمور اقبال، میرا زمانہ میری کہانیفیصل پاشا اور معروف براڈ کاسٹر و مصنفہ مہ پارہ صفدر نے بھی اظہار خیال کیا جنکی اپنی یاداشتوں کی کتاب ۔۔۔میرا زمانہ میری کہانی ۔۔۔۔ ابھی شائع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے سیاسی نظام میں فوج کی عشروں سے مداخلت سے انکار ممکن نہیں لیکن اس سے بھی انکار نہیں کہ ملکی سیاسی جماعتوں نے بھی ہر دور اسی فوج کو اپنی بیساکھی بنایا اور ووٹ دینے والے عوام کو مایوس کیا
تقریب اجرا پُر تکلف عشایئے پر اختتام پزیر ہوئی
رپورٹ ، سید کوثر کاظمی













