دیکھو مجھےجودیدہءعبرت نگاہ ہو ،طاہرہ ؔمسعود

6
200

پچھلے کئی برسوں سے پاکستان کے حکمرانوں کے خلاف بد عنوانیوں کی نشاندہی ہورہی تھی۔ عقلمند کو اشارہ کافی ہوتا ہے جسے عزت عزیز ہو وہ سنبھل جاتا ہے۔ لیکن جب حرام رگ و ریشے میں سرایت کر جائے اور دولت ہی معبود بن جائے تو انسان کا ضمیر مر جاتا ہے اور انسان عزت ذلت کا معیار دنیا کی دولت کو بنا لیتا ہے۔ دولت ہو تو اللہ کے ساتھ کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتا۔۔ یہی حال ہمارے حکمرانوں کا ہو ا۔ جو یوں تو ایک متوسّط خاندان سے تھے۔ کسی نہ کسی طرح پاکستان کے سیاہ وسفید کامالک بن بیٹھے۔ لیکن ناک ناک تک حرام دولت اکٹھی کرنے کے بعد بھی بجائے اس کے کہ خدا کا خوف کر کے ا سی پر اکتفاء کر لیتے۔ انہوں نے اس کو اپنا فرضِ منصبی سمجھا کہ جو چاہیں کریں۔ عوام جن کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آ ئے وہ انہی کو بھول گئے۔ کیا کیا معاشی اور اقتصادی عذاب نہیں دیے گئے غریب عوام کو۔ کچھ اپنی نااہلی ا ور بے بصیرتی کے ہاتھوں اور کچھ لالچ کی وجہ سے۔ ان کی یہ جہنمی بھوک خدا کے فرمان کے مطابق “ھل من مزید ” کہتے ہوئے بڑھتی ہی گئی اور وہ اپنے اندر سے اٹھتی آواز کی صدا پر بہ قلبِ صمیم صاد کرتے رہے۔۔ حتیٰ کہ قومی سطح پر ان کے خلاف ان کی بد اعتدالیوں اور بد عنوانیوں کے خلاف احتساب کا مطالبہ کیا گیا جس کے لیے دھرنا کئی ماہ تک جاری رہا۔ لیکن حکمرانوں کا اپنی بدتدبیری پہ اعتماد مکافات عمل کے ڈر پر حاوی ہو گیا۔ اور وہ مزید دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار کرتے رہے۔ ۔ بلکہ الٹا نشاندہی کرنے والوں کو للکارا جاتا۔” یوں کہ یہ تو وہی مثال ہو گئی، چورا ور پھر چتر؟”۔
کہاوت ہے کہ سو دن چور کا اورایک دن سادھ کا۔ ( معاف کیجیے گا مجھے حکمرانوں کی شایانِ شان کہاوتیں سوجھ رہی ہیں) تو کرنا خدا کا یہ ہو اکہ ان کا کوئی بڑا بول سامنے آگیا یا ہمارے پیارےاللہ تعالیٰ کو ہمارے پاک وطن ہماری سوہنی دھرتی پر رحم آگیا ۔ یا پاکستانیوں کی کوئی نیکی بھا گئی ۔ کوئی دعا پسند آگئی کہ اک خدائی فوجدار نے”نیب” کی صورت میں ظہور کیا۔(جس نے بھی اس شعبے کانام رکھا ہے اس کو دلی داد۔) “نیب” یوں تو نیشنل اکاؤنٹ بیورو ہے۔ لیکن انگریزی میں نیب “پکڑ” کو بھی کہتے ہیں۔ جسے پنجابی میں “نپ لیناں ” کہہ سکتے ہیں ۔ تو جناب حکمران “نپّے “گئے۔ یعنی پکڑ میں آگئے۔ بدعناوان حکمرانوں کے احتساب کے مطالبے کے اس عزم صمیم کے پیچھے کوئی ایسا مرد مومن تھا جو کسی بات سے کسی دھمکی سے نہین ڈرا۔جس کو کوئی خرید نہیں سکا۔ وہ انبیاء کی طرح ا س مشن پرمامور ہو چکا تھا ۔
دوسری طرف ساون کے اندھے حکمرانوں کو ہرا ہرا ہی سوجھتا ہے۔ وہ نوشتہ ء دیوار نہ پڑھ سکے۔ جب اقتدار کا نشہ دولت کے نشے سے ملتا ہے تو انسان خود کو خدائی کا دعویٰ کیے بغیر ہی خدا سمجھ لیتا ہے۔ کیونکہ وہ خود بکاؤ ہوتا ہے ا س لیے سمجھ لیتا ہے ہر کہ کسی کو خرید لوں گا۔ اسے نہ تو فراعین کا انجام یاد رہتا ہے۔ نہ اگلے وقتوں کے بادشاہوں کے پر تعیش محل جو اب عجائب گھروں میں بدل چکے ہیں کے عبرتناک ماضی یاد رہتے ہیں۔ یہ بے چارے دولت سمیٹنے میں ا س قدر انتھک طور پر مامور ہوتے تھے کہ وقت نہیں ہوتا تھا ، کہ زمینی حقائق دیکھیں۔ تکبر ان کی ناکوں سے شعلوں کی طرح برآمد ہوتا نظر آیا کرتا تھا۔
جب گناہ کا پلڑا نیکیوں سے بھاری ہوجائے تو سزا ضرور ملاکرتی ہے۔ چنانچہ جیسا کہ اک زمانے سے دیکھ رہے ہیں تاریخ شاہد ہے کہ بڑے بڑے عظیم الشان محلات خالی بھنڈا ربن گئے۔ جدی پشتی شاہزادے قتل ہوئے۔ جنگلوں میں فرار ہوئے۔ انکے جانشینوں نے چائے کے ڈھابے لگائے۔ وہ سلطنتیں ڈوب بھی گئیں جن پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ تو یہ کس کھیت کی مولی تھے۔ یہ کھیل اگر زیادہ دیر جاری رہے تو اس کا اختتام زندان تک ہی ہوتا ہے۔ وہی بچتا ہے جو اس وقت سٹیج کو چھوڑ دے جب لوگ تالیاں بجارہے ہوں۔ وہی ہیرو کہلاتا ہےا ور یاد رکھاجاتا ہے اسٹیج کو گرم چھوڑدے۔۔ وہ حکمران جن کو رعایا رد کردے ۔ جو ان سے زبردستی خدمت کے بہانے اقتدار سے چمٹے عوام کا کون چوستے رہیں ان کا حال وہی ہوتا ہے اور جو ہمیشہ سے منقطقی طور پہ ہوتا ہے۔جو آج بھی ہو رہا ہے۔ مکافات عمل کسی کو نہیں بخشتا۔ بہتر ہوتا کہ حکمران خاندان ان حقائق پر نظر کر لیتا۔ ان کو دیکھ کر عبرت حاصل کرلیتا۔
ہو سکتا ہے کہ آنحضرات نے کچھ فلاحی کام بھی کیے ہوں ۔ شاید اقرباء کے لیے۔ یا ان موقعوں پہ جہاں سے پلٹ کرفائدہ خود ان کو ہی آجاتا ہو۔ ان کی فاؤنڈری کو ہی خام مال مل جاتا ہو۔ لیکن افسوس کروڑوں عوام کو روٹی پانی کے لالے ڈال کراپنے من پسند لوگوں کو مراعات ، خیرات دینا کام نہیں آیا۔ ۔ وہ پکڑ ہوئی جو دنیا نے دیکھی۔ پاکستانی بہن بھائیو!بیٹو بیٹیو! دو دو نفل شکرانے کے تو بنتے ہیں نا؟
گزشتہ حکمرانوں کی کم عقلی پے ترس بھی آتا ہے اور اس وقت وہ جس حال میں ہیں بخدا خواہش تھی کہ اس سے بچ جاتے۔ لیکن انہوں نے خودا س سلسلے میں اپنی کوئی مدد نہیں کی۔ صرف دولت بچانے کی کوشش میں وقت ضائع کیا کوئی مثبت حکمت عملی اپنے لیے بھی نہ کرسکے۔ بے تدبیری سی بے تدبیری ہے۔ ملک کو تو ڈبویا تھا۔ اپنی لُٹیا بھی ڈبو بیٹھے ہیں بے چارے۔ وائے بے بصیرتی۔ان کو بہت بہت مہلت دی گئی۔۔ چاہتے تو اقتدار سے الگ ہوکر باقی کی زندگی چین کی بانسری بجاتے۔ شاید کچھ عزت رہ جاتی مگر بھلا ہو خوش فہمی اور لالچ کا۔ خدا جانے انسان کی حرص کی جہنم کیسی ہے کہ بھرتی ہی نہیں۔ شاید ایسے ہی لوگوں کے لیے کہا گیا کہ اگر ان کے پاس ایک پہاڑ کےبرابر سونا آجائے تو یہ لوگ اس طرح کے ایک اور پہاڑ کی خواہش کریں گے۔اللہ سب کو اس لالچ سے بچائے۔آمین
آئندہ حکمرانوں سے استدعا ہے کہ ان کے حالات سے اپنی خاطر ہی عبرت پکڑیں۔ اتنا ہی کھائیں جو ان کو خود کو نہ کھا جائے۔عوام کو اگر اپنے جیسی اعلی درجے کی اشیائے صرف نہیں دے سکتے تو کم ازکم انہیں ایک اوسط درجے کے معیار کی سہی مگر سب کی سب ضروریات زندگی بلا تعّطل، وافر طور پر میّسر کریں۔ زخم خوردہ عوام کا حکمرانوں پہ اعتماد بحال کریں۔ حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ عوام کو بجلی پانی گیس اور آٹے دال کے پھیر سے باہر نکالیں۔ ان کو بھی عزت سے جینے کا حق دیں۔ اگر اگلے جہان میں آسانی چاہتے ہیں تو یہاں رعایا کو آسانیاں مہیاکرنی ہوں گی۔
طاہرہ ؔمسعود کینیڈا

SHARE

6 COMMENTS

  1. یہ تبدیلی کا خواب ہمیشہ خواب ہی رہے گا ۔ اس لئے کہ عوامی شعور اہم ہے جب شعور ہی نہ ہو تو لاکھ مضامین لکھ لیں کچھ فائدہ نہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ قوم نفرت تعصب اور فرقہ واریت کی دلدل میں دھنسی
    ہوئی ہے ۔

LEAVE A REPLY