سیاسی اثر ورسوخ برداشت نہیں کریں گے۔سپریم کورٹ

0
46

ڈی پی او پاک پتن کے تبادلے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت میں عدالت نے ریمارکس دیے کہ اتنی عجلت میں رات کو ایک بجے تبادلے کا نوٹفکیشن جاری کیا گیا،سیاسی مداخلت اور اثر ورسوخ برداشت نہیں کریں گے، ہم دیکھتے ہیں کس طرح دباؤ کے تحت تبادلہ ہوتا ہے۔عدالت نے خاور مانیکا، ابراہیم مانیکا اور احسن جمیل کو آج شام 4 بجے طلب کر لیا۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ( ڈی پی او) پاکپتن رضوان گوندل کے تبادلے پر سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں 3رکنی بینچ کررہا ہے،عدالت میں آئی جی پنجاب پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا یہ کیا قصہ ہے؟ 5دن سے پوری قوم اس کے پیچھے لگی ہوئی ہے،ایک بات باربار کہہ رہاہوں پولیس کوآزاداور بااختیار بنانا چاہتے ہیں،اگروزیراعلیٰ یا اسکےپاس بیٹھےشخص کےکہنےپرتبادلہ ہواتویہ درست نہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ خاور مانیکا کہاں ہے؟جمیل گجر کہاں ہے؟ڈیرے پر بلا کر معافی مانگنے کا کیوں کہا گیا؟ رات کو ایک بجے تبادلہ کیا گیا،کیاصبح نہیں ہونی تھی؟

اس پر آئی جی پنجاب کلیم امام نے عدالت کو بتایا کہ مجھ پر تبادلے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ہے، محکمانہ طور پر ڈی پی او کا تبادلہ کیا گیا،اسپیشل برانچ اوردیگرذرائع سےپتہ چلارضوان گوندل درست معلومات نہیں دےرہے،تبادلہ سزا نہیں ہوتا۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں اونچی آواز میں بات نہ کریں۔

جسٹس عمرعطابندیال نے ریمارکس دیے کہ آپ کہہ رہےہیں میں نےفلاں بات کی آپ کون ہوتےہیں؟

آئی جی پنجاب نے کہا کہ بطور کمانڈر ہم 24 گھنٹے کام کرتے ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈی پی اورضوان گوندل کو بلایا .

سابق ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کا پہلا بیان

آئی جی پنجاب کے بعد سابق ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے پی ایس او حیدر کی کال آئی کہ میں وزیراعلیٰ پنجاب سے ملوں، 23 اور 24 اگست والے واقعے کا قائم مقام آر پی او کو بتایا اور پورے واقعہ کا آئی جی پنجاب کو واٹس ایپ پیغام بھیجا۔

رضوان گوندل نے کہا کہ واقعے والے دن 4 بجے فون آیا آپ رات دس بجے سے پہلے وزیراعلیٰ ہاوس پہنچ جائیں جس کے بعد رات 10 بجے وہاں پہنچا تو احسن جمیل کو وزیراعلیٰ پنجاب نے بطور بھائی متعارف کرایا۔

سابق ڈی پی او پاکپتن نے مزید کہا کہ احسن جمیل نے ان سے پوچھا کہ مانیکا فیملی کا بتائیں، لگتا ہے ان کے خلاف سازش ہورہی ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کو ناکے پر روکنے والے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) کا ٹرانسفر کر دیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے جمعرات 23 اگست کو خاور مانیکا کو ناکے پر رکنے کا اشارہ کیا مگر وہ نہ رکے، لیکن جب پولیس نے ان کی کار کو روکا تو انہوں نے غلیظ زبان استعمال کی۔

رضوان گوندل کو ہٹانے کےمعاملے کی انکوائری رپورٹ

سابق ڈی پی اوپاکپتن رضوان گوندل کوعہدےسےہٹانے کےمعاملے کی انکوائری رپورٹ آئی جی پنجاب کو بھجوا دی گئی۔

ذرائع کے مطابق انکوائری رپورٹ میں سابق ڈی پی اورضوان گوندل نےرول کی خلاف ورزی کی اورمعاملےکوسوشل میڈیاپرغلط رنگ دےکرپیش کیا۔

مانیکافیملی نےاہلکاروں کی بدتمیزی کی شکایت کی جس پرکارروائی نہیں کی گئی،ڈی پی او پاکپتن نےاہلکاروں کےخلاف کارروائی نہیں کی اوردرخواست مانگتے رہے۔انکوائری رپورٹ کے مطابق اتنےاہم معاملےکوآئی جی پنجاب سےچھپایاگیا۔

رضوان گوندل کا دوسرا تحریری بیان

پولیس ذرائع کے مطابق رضوان گوندل نےاپنےدوسرے تحریری بیان میں کہاہےکہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ان سےمتعدد بارخاور مانیکا کےڈیرے پر جاکر معافی مانگنے پر اصرار کیا گیا۔ْ

انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا،تو وہیں پر انہیں تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ، وزیراعلیٰ کے پرسنل سیکریٹری نےانہیں فوری طورپرچارج چھوڑنے کا کہہ دیا، اس کےصرف 20 منٹ بعد ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز نے انہیں چارج چھوڑنے کا حکم جاری کردیا،پولیس آفیسر نے مانیکا فیملی کی طرف سے پولیس اہلکاروں کودی گئی غلیظ گالیوں کوبھی انکوائری کا حصہ بنانے کی درخواست کی ہے۔

دوسری جانب معلوم ہواہےکہ 3 روز میں انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی،جبکہ انکوائری کمیٹی کے سامنے مانیکا فیملی کی طرف سے کوئی بیان نہیں دیا گیا ،صرف ای میل کی گئی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY