
امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کے دورہ پاکستان سے ایک روز قبل پینٹاگون کی جانب سے اس تاثر کو مسترد کردیا گیا کہ امریکا نے پاکستان کی امداد منسوخ کی ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون ترجمان لیفٹننٹ کرنل کون فالکر نے ایک بیان میں واضح کیا کہ پاکستان کے لیے سیکیورٹی امداد کی معطلی کا اعلان جنوری 2018 میں کیا گیا تھا اور ہفتے کو پینٹاگون کی جانب سے کانگریس سے مطالبہ کیا تھا کہ کوالیشن سپورٹ فنڈ (سی ایس ایف) کی مد سے پاکستان کی معطل کی گئی 30 کروڑ ڈالر کی امداد کو ’ری پروگرام‘ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ امداد کی معطلی میں سی ایس ایف شامل ہے اور یہ اپنی جگہ برقرار رہے گا کیونکہ یہ کوئی نیا فیصلہ یا نیا اعلان نہیں ہے، تاہم انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ جولائی میں درخواست کی تھی کہ میعاد ختم ہونے سے قبل فنڈز کو ری پروگرام کیا جائے۔
امریکا کی جانب سے وضاحتی پیغام سے پاکستان کی نئی حکومت کو یہ پیغام دیا گیا کہ واشنگٹن وزیر اعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کو ’کچھ جگہ‘ دینا چاہتا ہے تاکہ وہ ان مسائل سے خود کو واقف کرسکیں جس سے امریکا نمٹنا چاہتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ پیغام بھی دیا گیا کہ امریکا اور پاکستان کے تعلقات پر اثرانداز ہونے کے لیے کوئی بھی نیا فیصلہ اسی صورت میں ہوگا جب واشنگٹن کے پاکستان قیادت کے ساتھ کافی روابط ہونگے۔
دوسری جانب پینٹاگون حکام کی جانب سے اب تک اس بات پر کوئی زور نہیں دیا گیا کہ واشنگٹن کس طرح اسلام آباد کے ساتھ تعلقات دوبارہ قائم کرنا چاہتا ہے۔
کون فالکر کا کہنا تھا کہ ’ علاقائی استحاکم اور سلامتی کے لیے دہشت گرد گروہوں کو شکست دینے کے مشترکہ عزم کی بنیاد پر ہم جنوری سے پاکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت سے مسلسل رابطے میں ہیں، ساتھ ہی ہم دونوں افغانستان کے پر امن مستقبل کے مشترکہ وژن پر بھی تبادلہ خیال کر رہے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ ہم پاکستان پر دباؤ جاری رکھیں گے کہ وہ حقانی نیٹ ورک سمیت دہشت گردوں کے تمام گروہوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے، ساتھ ہی ہم یہ بھی مطالبہ جاری رکھیں گے کہ پاکستان طالبان کی قیادت کو گرفتار اور بے دخل کرے یا پھر انہیں مذاکرات کی میز پر لائے‘۔
پینٹاگون حکام کا کہنا تھا کہ امریکی کی جانب سے دہشت گرد گروہوں میں لشکر طیبہ بھی شامل ہے جو افغانستان کے بجائے بھارت کی جانب توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
کون فالکر نے مزید بتایا کہ واشنگٹن کی جانب سے پاکستان کے لیے امریکی سیکیورٹی امداد کی معطلی کا فیصلہ جنوری میں کیا گیا جبکہ جولائی میں پاکستان کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کی جنوبی ایشیائی اسٹریٹجی کی حمایت میں فیصلہ کن کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے بقیہ 30 کروڑ ڈالر پر نظرثانی کی گئی کیونکہ اگر اس کو ری پروگرام نہیں کرتے تو یہ فنڈز 30 ستمبر تک ختم ہوجاتے۔












