سپریم کورٹ نے اسحاق ڈار کا پاسپورٹ منسوخ کرنے کے بعد کی صورتحال اور وطن واپسی کے طریق کار سے متعلق نیب، ایف آئی اے اور وزرارت خارجہ سے 11 ستمبر تک جواب طلب کرلیا ہے، چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ایک اشتہاری شخص لندن کی سڑکوں پر گھوم رہا ہے، عدالت کے بلانے پر بھی نہیں آتا۔

سپریم کورٹ میں اسحاق ڈار کی وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سابق وزیر خزانہ کی وطن واپسی کے طریق کار سے متعلق نیب، ایف آئی اے اور وزرارت خارجہ سے 11 ستمبر تک جواب طلب کیا گیا ہے۔ اشتہاری ملزم اسحاق ڈار کو انٹرپول یا ملزمان تبادلے کے معاہدے کے تحت ہی واپس لایا جاسکتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ احتساب عدالت سے اشتہاری قرار دیے جانے کے بعد وزارت داخلہ نے اسحاق ڈار کی حوالگی کیلئے انٹرپول کو درخواست دی جو زیرالتواء ہے۔ نئی حکومت برطانیہ کیساتھ ملزمان حوالگی کے معاہدے کے لیے کوشش کر رہی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایک اشتہاری شخص لندن کی سڑکوں پر گھومتا پھرتا ہے لیکن عدالت کے بلانے پر نہیں آتا، اسحاق ڈار کو ایسی چک پڑی ہے کہ معاملہ ہی چکا گیا ہے۔ اگر کوئی پاکستانی عدالت کے طلب کرنے پر بھی نہیں آتا تو کیا اس کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوسکتی ہے؟ بتائیں اگر اسحاق ڈار کا پاسپورٹ منسوخ کر دیں تو اس کے نتائج کیا ہوں؟

پراسیکیوٹر نیب نے بتایا کہ ایف آئی اے اور وزرارت خارجہ سے مل کر اسحاق ڈار کے پاسپورٹ منسوخی کے بعد کی صورتحال اور ان کی واپسی کا طریقہ کار طے کرکے 2 روز میں تفصیلات پیش کر دیں گے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11 ستمبر تک ملتوی کردی۔

SHARE

LEAVE A REPLY