پاکستان میں چین کا قونصلر سیکشن بند؛ ‘سیکیورٹی سے متعلق بیجنگ کے خدشات جائز ہیں’

0
1121

چین نے پاکستان میں سیکیورٹی صورتِ حال کے پیشِ نظر اپنے شہریوں اور چینی کمپنیوں کو انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے جب کہ تیکنیکی وجوہات کی بنا پر سفارت خانے میں اپنا قونصلر سیکشن بھی بند کر دیا ہے۔

چین کی وزارتِ خاجہ کے قونصلر ڈپارٹمنٹ کی جانب سے ہفتے کو جاری ہونے والی ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ چینی شہری پاکستان میں ایسے علاقوں میں جانے سے گریز کریں جہاں ان کی سلامتی کو بڑا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

ایڈوائزری میں چین نے پاکستان میں اپنے شہریوں اور کاروباری اداروں کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتِ حال سنگین ہونے کے پیشِ نظر چوکس رہیں اور غیر ضروری سرگرمیوں سے گریز کریں۔

ایڈوائزری کے تین روز بعد پاکستان میں چین کے سفارت خانے نے اپنے قونصلر سیکشن ہال کو غیر معینہ مدت کے لیے تیکنیکی وجوہات کی بنا پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لیکن چینی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے ویزے کے حصول کا طریقۂ کار متاثر نہیں ہوگا تاہم چینی سفارت خانے نے تیکنیکی وجوہات کی تفصیل بیان نہیں کی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بھی بظاہر سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نطر کیا گیا ہے تاکہ ویز ے کے حصول کے لیے لوگ سفارت خانے آنے کے بجائے جیریز ویزا سروس کی خدمات حاصل کریں۔

چین کی جانب سے یہ اقدامات ایسے وقت میں لیے گئے ہیں جب گزشتہ ماہ کے آخر میں پشاور کی پولیس لائنز مسجد میں ہونے والے خود کش حملے میں 100 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

نومبر کے آخر میں کالعدم تحریکِ طالبان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے جنگ بندی ختم کرنے کے اعلان کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

‘چین کے سیکیورٹی سے متعلق تحفظات ہیں’

ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے اپنے شہریوں اور سرمایہ کاروں کے سیکیورٹی سے متعلق خدشات جائز ہیں کیوں کہ حالیہ عرصے میں داسو سے لے کر کراچی تک چینی مفادات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

یادر ہے کہ گزشتہ سال اپریل میں کراچی یونیورسٹی اور جولائی 2021 میں صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان میں داسو ہائیڈرو پاور منصوبے پر کام کرنے والے چینی کارکنوں کی بس پر ہونے والے حملوں میں متعدد چینی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

ان حملوں کے بعد چین کی قیادت کی طرف سے پاکستان کو باور کرایا گیاتھا کہ پاکستان سی پیک منصوبے پر کام کرنے والے چینی شہری اور چینی سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

اسلام آباد میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز سے منسلک دفاعی امور کے تجزیہ کار سید نذیر کہتے ہیں کہ پاکستان میں بڑھتے ہوئے عسکریت پسندی کے واقعات کو روکنا اب ایک چیلنج بن گیا ہے۔

سید نذیر کہتے ہیں کہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں کی طرح چین کی توقع ہے کہ جہاں چینی کمپنیاں سرمایہ کاری کریں اس ملک کا ماحول پرامن ہو۔ لیکن پاکستان میں سیاسی تناؤ اور سیکیورٹی کی صورتِ حال کی وجہ سے چین کو نہ صرف اپنی سرمایہ کاری بلکہ پاکستان میں اپنے شہریوں کے تحفظ کے بارے میں بھی خدشات لاحق ہو گئے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY