خیبر پختوانخوا اسمبلی کے حلقہ پی کے 23 شانگلہ میں خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ کم ہونے کے باعث، الیکشن کمیشن کے حکم پرآج دوبارہ پولنگ ہو رہی ہے۔

25 جولائی کوہو نے والے عام انتخابات میں پی کے 23 شانگلہ سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار شوکت یوسفزئی 17 ہزار 399 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے، جبکہ ان کے مخالف مسلم لیگ ن کے امیدوارمحمد ارشاد خان نے 15 ہزار 523 ووٹ لئے تھے۔

الیکشن سے متعلق حلقہ کے عوام کہتےہیں کہ جیت چاہے کسی کی بھی ہو علاقے میں سڑکوں کی تعمیر، اچھے اسکول اور اسپتال کا مسئلہ حل طلب ہے۔

ضلع شانگلہ کا شمار خیبر پختونخواہ کے پسماندہ ترین اضلاع میں ہو تا ہے، ضلع بھر میں تعلیمی اداروں اور اسپتالوں کی کمی، سڑکوں کی ابتر صورتحال اور انفراسٹرکچر کی خستہ حالی سے شہری پریشان نظر آتے ہیں۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے مطابق پی کے 23 شانگلہ کے اس حلقے میں خواتین ووٹرز کی تعداد 86 ہزار698 ہے لیکن 25 جولائی کو پولنگ کے دن صرف تین ہزار 505 خواتین نے ووٹ ڈالے۔

10 ستمبر کو ہونے والے انتخابات میں جیت کا سہرہ کس کے سر سجے گا یہ تو آنے ولا وقت ہی بتا ئے گا، تاہم پسماندہ ضلع کے شہری سڑکوں کی تعمیر، اچھے اور معیاری اسکولوں کے قیام اور اسپتالوں کے منتظر ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY