منزہ سہام دُہائی دینے لگی
ظفر معین بلے جعفری
بہرے ہیں سبھی لوگ صدا کون سُنے گا
مظلوم کی فریاد ، بتا کون سُنے گا
دیوار پہ دستک کبھی دی تو نہیں جاتی
دے بھی دوں میں دستک تو بھلا کون سُنے گا
تُو بھی لب ِ خاموش سے چلا تو رہی ہے
دُنیا ہے یہ بہری تو بتا کون سُنے گا
آنکھوں سے بھی سُن لیتے تھے ہم بولتے منظر
ہے شور بپا ، تیرا کہا کون سُنے گا
مظلوموں کی چیخیں توسبھی سُنتے رہے ہیں
اِس ملک کی بیٹی کی صدا کون سُنے گا
طوفان گزرنے پہ قیامت کی خموشی
سناٹے سے ہے شور بپا کون سُنے گا
یہ سوچ کے بھی آج منزہ ہے پریشان
منصف نے نہیں ، مجھ کوسُناکون سنے گا
مظلوم کی فریاد بتا کون سنے گا؟
منزہ سہام دُہائی دینے لگی
ظفر معین بلے جعفری













