جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کا پس منظر

0
551

مئی 2019 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں صدر مملکت کی جانب سے بھجوائے گئے تھے۔ ریفرنس میں جسٹس عیسیٰ پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کو چھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کے نام ہیں۔

صدارتی ریفرنس میں اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

بعد ازاں سات اگست 2019 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو ذاتی طور پر عدالت عظمیٰ میں چیلنج کر دیا اور 300 سے زائد صفحات پر مشتمل تفصیلی درخواست دائر کی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے۔ لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ درخواست پر فیصلہ آنے تک سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکی جائے۔

عدالت عظمیٰ نے 19 جون 2020 کو جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کالعدم قرار دیا تاہم دس میں سات ججز نے فائز عیسیٰ کے خلاف عائد الزامات پر ایف بی آر کو تحقیقات کا حکم دیا تھا جس کے خلاف جسٹس فائز عیسیٰ اور مختلف بار کونسلز نے نظرثانی کی اپیلیں دائر کی تھیں۔

ان اپیلوں کی سماعت اب تک شروع نہیں ہوئی تھی اور عدالت نے جسٹس فائز عیسیٰ کی طرف سے ان نظرثانی اپیلوں کو براہ راست دکھانے کے لیے ایک درخواست پر سماعت کی تھی جس کے فیصلہ میں یہ براہ راست دکھانے کی درخواست مسترد کر دی گئی۔

اب عدالت نے نظرِثانی اپیلیں منظور کر لی ہیں جس کے نتیجے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ریفرنس تو پہلے ہی کالعدم قرار دے دیا گیا تھا اور اب ان کے اہل خانہ کے خلاف ایف بی آر کی تحقیقاتی رپورٹس بھی کالعدم قرار دے دی گئی ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY