تین شعبان امام حسین علیہ السلام کا یوم ولادت

0
146

نام اک ذہن پہ اترا ہے، حسین ابن علی
دل میں مجلس تری برپا ہے حسین ابن علی

یہ جو دنیا کے سمندر ہیں رواں صدیوں سے
ہر سمندر تجھے روتا ہے حسین ابن علی

یوں تو لکھنے کے لیئے لفظ شہادت ہے فقط
اور اس لفظ کا چہرہ ہے حسین ابن علی

سچ تو یہ ہے کہ ہر اک عہد کا بے ظرف یزید
ذکر سےتیرے ہی ڈرتا ہے حسین ابن علی

نور اک اترا مری سوچ کے ویرانے میں
لکھنے سے پہلے جو سوچا ہے حسین ابن علی

ہے یقیں کوئی بلا آ نہیں سکتی ہے یہاں
گھر کے دروازے پہ لکھا ہے حسین ابن علی

اکبر و قاسم و اصغرہیں یہ آیات جلی
مثل قرآن صحیفہ ہے حسین ابن علی

عرش سے فرش تلک گونجتا ہے نام حسین
عالمیں میں ترا چرچا ہے حسین ابن علی

میں جو اس دنیا میں آیا ہوں تو صفدر میں نے
لفظ جو بولا ہے پہلا ہے حسین ابن علی

قیام امام حسینؑ اورخطبات امام حسینؑ

آپ کی ولادت

ابھی آپ کی ولادت نہ ہونے پائی تھی کہ بروایتی ام الفضل بنت حارث نے خواب میں دیکھا کہ رسول کریم کے جسم کاایک ٹکڑا کاپ کرمیری آغوش میں رکھا گیا ہے اس خواب سے وہ بہت گھبرائیں اوردوڑی ہوئی رسول کریم کی خدمت میں حاضرہوکرعرض پرداز ہوئیں کہ حضورآج ایک بہت برا خواب دیکھا ہے۔ حضرت نے خواب سن کرمسکراتے ہوئے فرمایا کہ یہ خواب تونہایت ہی عمدہ ہے۔ اے ام الفضل کی تعبیر یہ ہے کہ میری بیٹی فاطمہ کے بطن سے عنقریب ایک بچہ پیدا ہو گا جو تمہاری آغوش میں پرورش پائے گا ۔

آپ کے ارشاد فرمانے کوتھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ خصوصی مدت حمل صرف چھ ماہ گزرکرنورنظررسول امام حسین بتاریخ ۳/ شعبان ۴ ء ہجری بمقام مدینہ منورہ بطن مادرسے آغوش مادرمیں آ گئے۔ (شواہدالنبوت ص ۱۳، انوارحسینہ جلد ۳ ص ۴۳ بحوالہ صافی ص ۲۹۸، جامع عباسی ص ۵۹، بحارالانوار و مصاح طوسی ابن نما ص ۲ وغیرہ)۔

ام الفضل کا بیان ہے کہ میں حسب الحکم ان کی خدمت کرتی رہی، ایک دن میں بچے کولے کر آنحضرت کی خدمت میں حاضرہوئی آپ نے آغوش محبت میں لے کرپیارکیا اور آپ رونے لگے میں نے سبب دریافت کیا توفرمایا کہ ابھی ابھی جبرئیل میرے پاس آئے تھے وہ بتلاگئے ہیں کہ یہ بچہ امت کے ہاتھوں نہایت ظلم وستم کے ساتھ شہید ہوگا اور اے ام الفضل وہ مجھے اس کی قتل گاہ کی سرخ مٹی بھی دے گئے ہیں (مشکواة جلد ۸ ص ۱۴۰ طبع لاہور)۔

اورمسن امام رضا ص ۳۸ میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا دیکھو یہ واقعہ فاطمہ سے کوئی نہ بتلائے ورنہ وہ سخت پریشان ہوں گی، ملا جامی لکھتے ہیں کہ ام سلمہ نے بیان کیا کہ ایک دن رسول خدا میرے گھراس حال میں تشریف لائے کہ آپ کے سرمبارک کے بال بکھرے ہوئے تھے اورچہرے پرگرد پڑی ہوئی تھی ، میں نے اس پریشانی کودیکھ کرپوچھا کیا بات ہے فرمایا مجھے ابھی ابھی جبرئیل عراق کے مقام کربلامیں لے گئے تھے وہاں میں نے جائے قتل حسین دیکھی ہے اوریہ مٹی لایا ہوں اے ام سلمہ اسے اپنے پاس محفوظ رکھو جب یہ خون ہوجائے توسمجھنا کہ میرا حسین شہید ہوگیا ۔الخ(شواہدالنبوت ص ۱۷۴) ۔

آپ کااسم گرامی

امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ ولادت کے بعد سرور کائنات صلعم نے امام حسین کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایا اور اپنی زبان ان کے منہ میں دے کر بڑی دیرتک چسایا، اس کے بعد داہنے کان میں اذان اوربائیں کان میں اقامت کہی، پھردعائے خیرفرما کر حسین نام رکھا (نورالابصار ص ۱۱۳) ۔

علماء کابیان ہے کہ یہ نام اسلام سے پہلے کسی کا بھی نہیں تھا، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ نام خود خداوندعالم کا رکھا ہوا ہے (ارجح المطالب و روضة الشہداء ص ۲۳۶) ۔

کتاب اعلام الوری طبرسی میں ہے کہ یہ نام بھی دیگرآئمہ کے ناموں کی طرح لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔

آپ کاعقیقہ

امام حسین کانام رکھنے کے بعد سرور کائنات نے حضرت فاطمہ سے فرمایا کہ بیٹی جس طرح حسن کا عقیقہ کیا گیا ہے اسی طرح اسی کے عقیقہ کا بھی انتظام کرو، اوراسی طرح بالوں کے ہم وزن چاندی تصدق کرو، جس طرح اس کے بھائی حسن کے لیے کرچکی ہو، الغرض ایک مینڈھا منگوایا گیا اور رسم عقیقہ ادا کردی گئی (مطالب السؤل ص ۲۴۱) ۔

بعض معاصرین نے عقیقہ کے ساتھ ختنہ کا ذکرکیا ہے جومیرے نزدیک قطعا ناقابل قبول ہے کیونکہ امام کا مختون پیدا ہونا مسلمات سے ہے۔

کنیت و القاب

آپ کی کنیت صرف ابوعبداللہ تھی، البتہ القاب آپ کے بے شمارہیں جن میں سید وصبط اصغر، شہیداکبر، اورسیدالشہداء زیادہ مشہورہیں۔ علامہ محمد بن طلحہ شافعی کا بیان ہے کہ سبط اورسید خود رسول کریم کے معین کردہ القاب ہیں (مطالب السؤل ص ۳۱۲) ۔

خداوند عالم کی طرف سے ولادت امام حسین کی تہنیت اور تعزیت

علامہ حسین واعظ کاشفی رقمطرازہیں کہ امام حسین کی ولادت کے بعد خلاق عالم نے جبرئیل کوحکم دیاکہ زمین پرجاکرمیرے حبیب محمد مصطفی کومیری طرف سے حسین کی ولادت پرمبارک باد دے دو اورساتھ ہی ساتھ ان کی شہادت عظمی سے بھی مطلع کرکے تعزیت ادا کردو، جناب جبرئیل بحکم رب جلیل زمین پر وارد ہوئے اورانہوں نے آنحضرت کی خدمت میں شہادت حسینی کی تعزیت بھی منجانب اللہ اداکی جاتی ہے، یہ سن کرسرورکائنات کا ماتھا ٹھنکا اورآپ نے پوچھا، جبرئیل ماجرا کیا ہے تہنیت کے ساتھ تعزیت کی تفصیل بیان کرو، جبرئیل نے عرض کی کہ مولا ایک وہ دن ہوگا جس دن آپ کے چہیتے فرزند”حسین“ کے گلوئے مبارک پرخنجر آبدار رکھا جائے گا اورآپ کا یہ نورنظر بےیار و مددگار میدان کربلامیں یکہ و تنہا تین دن کا بھوکا پیاسا شہید ہوگا یہ سن کرسرور عالم محو گریہ ہوگئے آپ کے رونے کی خبرجونہی امیرالمومنین کوپہنچی وہ بھی رونے لگے اورعالم گریہ میں داخل خانہ سیدہ ہوگئے ۔

جناب سیدہ نے جوحضرت علی کوروتا دیکھا دل بے چین ہوگیا، عرض کی ابوالحسن رونے کاسبب کیا ہے فرمایا بنت رسول ابھی جبرئیل آئے ہیں اوروہ حسین کی تہنیت کے ساتھ ساتھ اس کی شہادت کی بھی خبردے گئے ہیں حالات سے باخبرہونے کے بعد فاطمہ کے گریہ گلوگیر ہوگیا، آپ نے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوکرعرض کی باباجان یہ کب ہوگا، فرمایاجب میں نہ ہوں گا نہ توہوگی نہ علی ہوں گے نہ حسن ہوں گے فاطمہ نے پوچھا بابا میرابچہ کس خطا پرشہید ہوگا فرمایا فاطمہ بالکل بے جرم وخطا صرف اسلام کی حمایت میں شہادت ہوگی، فاطمہ نے عرض کی باباجان جب ہم میں سے کوئی نہ ہوگا توپھراس پر گریہ کون کرے گااوراس کی صف ماتم کون بچھائے گا،راوی کا بیان ہے کہ اس سوال کاحضرت رسول کریم ابھی جواب نہ دینے پائے تھے کہ ہاتف غیبی کی آواز آئی، اے فاطمہ غم نہ کروتمہارے اس فرزند کاغم ابدالآباد تک منایاجائے گا اوراس کا ماتم قیامت تک جاری رہے گا ایک روایت میں ہے کہ رسول خدا نے فاطمہ کے جواب میں یہ فرمایا تھا کہ خدا کچھ لوگوں کوہمیشہ پیدا کرتا رہے گا جس کے بوڑھے بوڑھوں پراورجوان جوانوں پراوربچے بچوں پراورعورتیں عورتوں پر گریہ وزاری کرتے رہیں گے۔

فطرس کا واقعہ

علامہ مذکور بحوالہ حضرت شیخ مفید علیہ الرحمہ رقمطرازہیں کہ اسی تہنیت کے سلسلہ میں جناب جبرئیل بے شمارفرشتوں کے ساتھ زمین کی طرف آرہے تھے کہ ناگاہ ان کی نظرزمین کے ایک غیرمعروف طبقہ پرپڑی دیکھا کہ ایک فرشتہ زمین پرپڑاہوا زاروقطار رو رہا ہے آپ اس کے قریب گئے اورآپ نے اس سے ماجرا پوچھا اس نے کہا اے جبرئیل میں وہی فرشتہ ہوں جوپہلے آسمان پرستر ہزار فرشتوں کی قیادت کرتا تھا میرا نام فطرس ہے جبرئیل نے پوچھا تجھے کس جرم کی یہ سزاملی ہے اس نے عرض کی ،مرضی معبود کے سمجھنے میں ایک پل کی دیرکی تھی جس کی یہ سزابھگت رہا ہوں بال وپرجل گئے ہیں یہاںکنج تنہائی میں پڑاہوں ۔

ائے جبرئیل خدارا میری کچھ مدد کروابھی جبرئیل جواب نہ دینے پائے تھے کہ اس نے سوال کیا ائے روح الامین آپ کہاں جا رہے ہیں انہوں نے فرمایا کہ نبی آخرالزماں حضرت محمدمصطفی صلعم کے یہاں ایک فرزند پیدا ہوا ہے جس کا نام حسین ہے میں خداکی طرف سے اس کی ادائے تہنیت کے لیے جا رہا ہوں، فطرس نے عرض کی اے جبرئیل خدا کے لیے مجھے اپنے ہمراہ لیتے چلو مجھے اسی درسے شفا اورنجات مل سکتی ہے جبرئیل اسے ساتھ لے کر حضورکی خدمت میں اس وقت پہنچے جب کہ امام حسین آغوش رسول میں جلوہ فرما تھے جبرئیل نے عرض حال کیا،سرورکائنات نے فرمایا کہ فطرس کے جسم کوحسین کے بدن سے مس کر دو، شفا ہوجائے گی جبرئیل نے ایسا ہی کیا اورفطرس کے بال وپراسی طرح روئیدہ ہوگیے جس طرح پہلے تھے ۔

وہ صحت پانے کے بعد فخرومباہات کرتا ہوا اپنی منزل”اصلی“ آسمان سوم پرجا پہنچا اورمثل سابق ستر ہزار فرشتوں کی قیادت کرنے لگا، بعد از شہادت حسین چوں برآں قضیہ مطلع شد“ یہاں تک کہ وہ زمانہ آیا جس میں امام حسین نے شہادت پائی اوراسے حالات سے آگاہی ہوئی تواس نے بارگاہ احدیت میں عرض کی مالک مجھے اجازت دی جائے کہ مین زمین پرجا کردشمنان حسین سے جنگ کروں ارشاد ہوا کہ جنگ کی ضرورت نہیں البتہ توستر ہزار فرشتے لے کر زمین پر جا اوران کی قبرمبارک پرصبح وشام گریہ ماتم کیا کر اوراس کا جو ثواب ہو اسے ان کے رونے والوں کے لیے ہبہ کردے چنانچہ فطرس زمین کربلا پرجا پہنچا اورتا قیام قیامت شب و روز روتا رہے گا(روضة الشہدا صص ۲۳۶ تا ۲۳۸ طبع بمبئی ۱۳۸۵ ئھ وغنیة الطالبین شیخ عبدالقادر جیلانی)۔

امام حسین سینہ رسول پر

صحابی رسول ابوہریرہ راوی حدیث کا بیان ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے یہ دیکھا ہے کہ رسول کریم لیٹے ہوئے اورامام حسین نہایت کمسنی کے عالم میں ان کے سینہ مبارک پرہیں، ان کے دونوں ہاتھوں کوپکڑے ہوئے فرماتے ہیں اے حسین تومیرے سینے پرکود چنانچہ امام حسین آپ کے سینہ مبارک پر کودنے لگے اس کے بعد حضورصلعم نے امام حسین کا منہ چوم کرخداکی بارگاہ میں عرض کی اے میرے پالنے والے میں اسے بے حد چاہتا ہوں توبھی اسے محبوب رکھ، ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت امام حسین کا لعاب دہن اوران کی زبان اس طرح چوستے تھے جس طرح کجھورکوئی چوسے (ارجح المطالب ص ۳۵۹ و ص ۳۶۱ ، استیعاب ج ۱ ص ۱۴۴، اصابہ جلد ۲ ص ۱۱، کنزالعمال جلد ۷ ص ۱۰۴، کنوزالحقائق ص ۵۹) ۔

جنت کے کپڑے اور فرزندان رسول کی عید

امام حسن اورا مام حسین کا بچپنا ہے عید آنے والی ہےاوران اسخیائے عالم کے گھرمیں نئے کپڑے کا کیا ذکر پرانے کپڑے بلکہ نان جویں تک نہیں ہے بچوں نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال دیں مادرگرامی اطفال مدینہ عید کے دن زرق برق کپڑے پہن کرنکلیں گے اورہمارے پاس بالکل لباس نونہیں ہے ہم کس طرح عید منائیں گے ماں نے کہا بچوگھبراؤ نہیں، تمہارے کپڑے درزی لائے گا عید کی رات آئی بچوں نے ماں سے پھرکپڑوں کا تقاضا کیا،ماں نے وہی جواب دے کرنونہالوں کوخاموش کردیا۔

ابھی صبح نہیں ہونے پائی تھی کہ ایک شخص نے دق الباب کیا، دروازہ کھٹکھٹایا فضہ دروازہ پرگئیں ایک شخص نے ایک بقچہ لباس دیا، فضہ نے سیدئہ عالم کی خدمت میں اسے پیش کیا اب جوکھولاتواس میں دوچھوٹے چھوٹے عمامے دوقبائیں،دوعبائیں غرضیکہ تمام ضروری کپڑے موجود تھے ماں کا دل باغ باغ ہوگیا وہ توسمجھ گئیں کہ یہ کپڑے جنت سے آئے ہیں لیکن منہ سے کچھ نہیں کہا بچوں کوجگایا کپڑے دئیے صبح ہوئی بچوں نے جب کپڑوں کے رنگ کی طرف توجہ کی توکہا مادرگرامی یہ توسفید کپڑے ہیں اطفال مدینہ رنگین کپڑے پہننے ہوں گے، امام جان ہمیں رنگین کپڑے چاہئیں ۔

حضور انورکواطلاع ملی، تشریف لائے، فرمایا گھبراؤ نہیں تمہارے کپڑے ابھی ابھی رنگین ہوجائیں گے اتنے میں جبرئیل آفتابہ لیے ہوئے آ پہنچے انہوں نے پانی ڈالا محمدمصطفی کے ارادے سے کپڑے سبزاورسرخ ہوگئے سبزجوڑاحسن نے پہنا سرخ جوڑاحسین نے زیب تن کیا، ماں نے گلے لگا لیا باپ نے بوسے دئیے نانا نے اپنی پشت پرسوارکرکے مہارکے بدلے زلفیں ہاتھوں میں دیدیں اورکہا،میرے نونہالو، رسالت کی باگ ڈورتمہارے ہاتھوں میں ہے جدھرچاہو موڑدو اورجہاں چاہولے چلو(روضة الشہداء ص ۱۸۹ بحارالانوار) ۔

بعض علماء کاکہناہے کہ سرورکائنات بچوں کوپشت پربٹھا کردونوں ہاتھوں اورپیروں سے چلنے لگے اوربچوں کی فرمائش پراونٹ کی آوازمنہ سے نکالنے لگے (کشف المحجوب)۔

امام حسین کا سردار جنت ہونا

پیغمبر اسلام کی یہ حدیث مسلمات اورمتواترات سے ہے کہ ”الحسن و الحسین سیدا شباب اہل الجنة و ابوہما خیر منہما“ حسن اور حسین جوانان جنت کے سردارہیں اوران کے پدر بزرگواران دنوں سے بہترہیں (ابن ماجہ)صحابی رسول جناب حذیفہ یمانی کا بیان ہے کہ میں نے ایک دن سرور کائنات صلعم کو بے انتہا مسرور دیکھ کرپوچھا حضور،افراط مسرت کی کیا وجہ ہے فرمایا اے حذیفہ آج ایک ایسا ملک نازل ہوا ہے جومیرے پاس اس سے قبل کبھی نہیں آیا تھا اس نے مجھے میرے بچوں کی سرداری جنت پرمبارک دی ہے اورکہا ہے کہ”ان فاطمة سیدة نساء اہل الجنة وان الحسن والحسین سیداشباب اہل الجنة“ فاطمة جنت کی عورتوں کی سردارہیں اورحسنین جنت کے مردوں کے سردارہیں (کنزالعمال جلد ۷ ص ۱۰۷، تاریخ الخلفاص ۱۲۳، اسدالغابہ ص ۱۲، اصابہ جلد ۲ ص ۱۲، ترمذی شریف، مطالب السول ص ۲۴۲، صواعق محرقہ ص ۱۱۴) ۔

اس حدیث سے سیادت علویہ کامسئلہ بھی حل ہوگیا قطع نظراس سے کہ حضرت علی میں مثل نبی سیادت کا ذاتی شرف موجود تھا اورخود سرورکائنات نے باربارآپ کی سیادت کی تصدیق سیدالعرب، سیدالمتقین، سیدالمومنین وغیرہ جیسے الفاظ سے فرمائی ہے حضرت علی کا سرداران جنت امام حسن اورامام حسین سے بہترہونا واضح کرتا ہے کہ آپ کی سیادت مسلم ہی نہیں بلکہ بہت بلند درجہ رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ میرے نزدیک جملہ اولاد علی سید ہیں یہ اوربات ہے کہ بنی فاطمہ کے برابرنہیں ہیں۔

امام حسین عالم نمازمیں پشت رسول پر

خدا نے جوشرف امام حسن اورامام حسین کوعطا فرمایا ہے وہ اولاد رسول اورفرزندان علی میں آل محمد کے سواکسی کونصیب نہیں ان حضرات کا ذکرعبادت اوران کی محبت عبادت، یہ حضرات اگرپشت رسول پرعالم نمازمیں سوارہوجائیں، تونمازمیں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا، اکثرایسا ہوتا تھا کہ یہ نونہالان رسالت پشت پرعالم نمازمیں سوار ہوجایا کرتے تھے اورجب کوئی منع کرنا چاہتا تھا توآپ اشارہ سے روک دیاکرتے تھے اورکبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ آپ سجدہ میں اس وقت تک مشغول ذکررہا کرتے تھے جب تک بچے آپ کی پشت سے خود نہ اترآئیں آپ فرمایا کرتے تھے خدایا میں انہیں دوست رکھتا ہوں توبھی ان سے محبت کر؟ کبھی ارشاد ہوتا تھا اے دنیا والو! اگرمجھے دوست رکھتے ہوتومیرے بچوں سے بھی محبت کرو(اصابہ ص ۱۲ جلد ۲ ومستدرک امام حاکم ومطالب السؤل ص ۲۲۳) ۔

حدیث «حسین منی

»
سرور کائنات نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ اے دنیا والو! بس مختصریہ سمجھ لوکہ ”حسین منی وانامن الحسین“حسین مجھ سے ہے اورمیں حسین سے ہوں ۔ خدا اسے دوست رکھے جوحسین کو دوست رکھے (مطالب السؤل ص ۲۴۲، صواعق محرقہ ص ۱۱۴، نورالابصار ص ۱۱۳ ،صحیح ترمذی جلد ۶ ص ۳۰۷ ،مستدرک امام حاکم جلد ۳ ص ۱۷۷ و مسند احمد جلد ۴ ص ۹۷۲، اسدالغابہ جلد ۲ ص ۹۱ ،کنزالعمال جلد ۴ ص ۲۲۱

)
مکتوبات باب جنت

سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ شب معراج جب میں سیرآسمانی کرتا ہوا جنت کے قریب پہنچا تودیکھا کہ باب جنت پرسونے کے حروف میں لکھا ہوا ہے۔

لاالہ الااللہ محمد حبیب اللہ علی ولی اللہ وفاطمة امةاللہ
والحسن والحسین صفوة اللہ ومن ابغضہم لعنہ اللہ


ترجمہ : خداکے سواکوئی معبودنہیں۔ محمدصلعم اللہ کے رسول ہیں علی، اللہ کے ولی ہیں ۔ فاطمہ اللہ کی کنیزہیں، حسن اورحسین اللہ کے برگزیدہ ہیں اوران سے بغض رکھنے والوں پراللہ کی لعنت ہے(ارجح المطالب باب ۳ ص ۳۱۳ طبع لاہور ۱۲۵۱

)
امام حسین اور صفات حسنہ کی مرکزیت

یہ تومعلوم ہی ہے کہ امام حسین حضرت محمد مصطفی صلی علیہ وآلہ وسلم کے نواسے،حضرت علی و فاطمہ کے بیٹے اورامام حسن کے بھائی تھے اورانہیں حضرات کو پنتن پاک کہا جاتا ہے اور امام حسین پنجتن کے آخری فرد ہیں یہ ظاہرہے کہ آخرتک رہنے والے اور ہردورسے گزرنے والے کے لیے اکتساب صفات حسنہ کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، امام حسین ۳/ شعبان ۴ ہجری کو پیدا ہو کرسرور کائنات کی پرورش و پرداخت اور آغوش مادرمیں میں رہے اورکسب صفات کرتے رہے، ۲۸/ صفر ۱۱ ہجری کوجب آنحضرت شہادت پا گئے اور ۳/ جمادی الثانیہ کوماں کی برکتوں سے محروم ہوگئے توحضرت علی نے تعلیمات الہیہ اورصفات حسنہ سے بہرہ ورکیا، ۲۱/ رمضان ۴۰ ہجری کوآپ کی شہادت کے بعد امام حسن کے سرپرذمہ داری عائد ہوئی ،امام حسن ہرقسم کی استمداد و استعانت خاندانی اورفیضان باری میں برابرکے شریک رہے، ۲۸/ صفر ۵۰ ہجری کوجب امام حسن شہید ہوگئے توامام حسین صفات حسنہ کے واحد مرکز بن گئے، یہی وجہ ہے کہ آپ میں جملہ صفات حسنہ موجود تھے اورآپ کے طرزحیات میں محمد وعلی و فاطمہ اورحسن کا کردارنمایاں تھا اورآپ نے جوکچھ کیا قرآن وحدیث کی روشنی میں کیا، کتب مقاتل میں ہے کہ کربلامیں حب امام حسین رخصت آخری کے لیے خیمہ میں تشریف لائے توجناب زینب نے فرمایا تھا کہ ائے خامس آل عباآج تمہاری جدائی کے تصورسے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ محمد مصطفی، علی مرتضی، فاطمةالزہراء، حسن مجتبی ہم سے جدا ہو رہے ہیں۔

امام حسین (ع) کا خطبہ

مدینہ سے روانگی

علماء کابیان ہے کہ امام حسین (ع) ۲۸/ رجب۶0 ھ یوم سہ شنبہ کومدینہ منورہ سے باارادہ مکہ معظمہ روانہ ہوئے علامہ ابن حجرکاکہناہے کہ ”نفرلمکتہ خوفا علی نفسہ“ امام حسین (ع) جان کے خوف سے مکہ تشریف لے گئے (صواعق محرقہ ص ۴۷) ۔

آپ کے ساتھ تمام مخدرات عصمت وطھارت اورچھوٹے چھوٹے بچے تھے البتہ آپ کی ایک صاحبزادی جن کانام فاطمہ صغری تھا اورجن کی عمراس وقت ۷/ سال تہی بوجہ علالت شدیدہ ہمراہ نہ جاسکیں امام حسین (ع) نے آپ کی تیمارداری کے لیے حضرت عباس کی ماں جناب ام البنین کومدینہ میں ہی چہوڑدیاتھا اورکچھ فریضہ خدمت ام المومنین جناب ام سلمہ کے سپردکردیاتھا، آپ ۳/ شعبان ۶۰ ہ یوم جمعہ کومکہ معظمہ پہنچ گئے آپ کے پہنچتے ہی والی مکہ سعیدابن عاص مکہ سے بھاگ کرمدینہ چلاگیا اوروہاں سے یزیدکومکہ کے تمام حالات لکھے اوربتایاکہ لوگوں کارجحان امام حسین (ع) کی طرف اس تیزی سے بڑھ رہاہے جس کاجواب نہیں ،یزیدنے یہ خبرپاتے ہی مکہ میں قتل حسین کی سازش پرغورکرناشروع کردیا۔

امام حسین (ع) مکہ معظمہ میں چارماہ شعبان،رمضان،شوال،ذیقعدہ مقیم رہے یزیدجو بہرصورت امام حسین (ع) کوقتل کرناچاہتاتھا اس نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ حسین اگرمدینہ سے بچ کرنکل گئے ہیں تومکہ میں قتل ہوجائیں اوراگرمکہ سے بچ نکلیں توکوفہ پہنچ کرشہیدہوسکیں، یہ انتظام کیاکہ کوفے سے ۱۲ ہزارخطوط دوران قیام مکہ میں بھجوائے کیونکہ دشمنوں کو یہ یقین تھاکہ حسین (ع) کوفہ میں آسانی سے قتل کئے جاسکیں گے ،نہ یہاں کے باشندوں میں عقیدہ کا سوال ہے اورنہ عقیدت کا یہ فوجی لوگ ہیں ان کی عقلیں بھی موٹی ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ شھادت حسین (ع) سے قبل جب تک جتنے افسر بھیجے گئے وہ محض اس غرض سے بھیجے جاتے رہے کہ حسین (ع) کوگرفتارکرکے کوفہ لے جائیں (کشف الغمہ ص ۶۸) ۔

اورایک عظیم لشکر مکہ میں شہیدکئے جانے کے لیے ارسال کیااور ۳۰ / خارجیوں کوحاجیوں کے لباس میں خاص طورپربھجوادیاجس کاقائد عمرابن سعدتھا (ناسخ التواریخ جلد ۶ ص ۲۱ ،منتخب طریحی خلاصة المصائب ص ۱۵۰ ،ذکرالعباس ص ۱۲۲) ۔

عبدالحمید خان ایڈیٹر رسالہ مولوی دہلی لکہتے ہیں کہ ”اس کے علاوہ ایک سازش یہ بھی کی گئی کہ ایام حج میں تین سو شامیوں کوبھیج دیاگیا کہ وہ گروہ حجاج میں شامل ہوجائیں اورجہاں جس حال میں بھی حضرت امام حسین (ع) کوپائیں قتل کرڈالیں (شہیداعظم ص ۷۱) ۔
خانہ کعبہ بھی جائے امن نہ بن سکا

یہ واقعہ ہے کہ امام حسین (ع) مدینہ منورہ سے اس لیے عازم مکہ ہوئے تھے کہ یہاں ان کی جان بچ جائے گی لیکن آپ کی جان لینے پرایسا سفاک دشمن تلا ہوا تھا جس نے مکہ معظمہ اورکعبہ محترمہ میں بھی آپ کو محفوظ نہ رہنے دیا اوروہ وقت آگیا کہ امام حسین (ع) مقام امن کومحل خوف سمجھ کر مکہ معظمہ چھوڑنے پرمجبور ہو گئے اور قریب تھاکہ آپ کوعالم حج و طواف میں قتل کردیں۔

امام حسین (ع) کو جیسے ہی سازش کا پتہ لگا،آپ نے فوراً حج کو عمرہ منفردہ سے بدلااور ۸/ ذی الحجہ۶۰ ھ کوجناب مسلم کے خط پربھروسہ کرکے عازم کوفہ ہوگئے ابھی آپ روانہ نہ ہونے پائے تھے کہ اعزاء واقربا نے کمال ہمدردی کے ساتھ التوائے سفر کوفہ کی درخواست کی ،آپ نے فرمایا کہ اگرچیونٹی کے بل میں بھی چھپ جاؤں تو بھی ضرور قتل کیاجاؤں گا اورسنو میرے نانا نے فرمایا ہے کہ حرمت مکہ ایک دنبہ کے قتل سے برباد ہوگی میں ڈرتا ہوں کہ وہ دنبہ میں ہی نہ قرار پاؤں میری خواہش ہے کہ میں مکہ سے باہرچاہے ایک ہی بالشت پرکیوں نہ ہوں قتل کیاجاوں گا(تاریخ کامل جلد ۴ ص ۲۰ ،ینابع المودة ص ۲۳۷ ، صواعق محرقہ ص ۱۱۷) ۔

یہ واقعہ ہے کہ کہ یزیدکا ارادہ بہرصورت امام حسین (ع) کوقتل کرنااوراستیصال بنی فاطمہ تھا۔(کشف الغمہ ص ۸۷) ۔

یہی وجہ ہے کہ جب امام حسین (ع) کے مکہ معظمہ سے روانہ ہونے کی اطلاع والی مکہ عمربن سعیدکوہوئی تواس نے پوری طاقت سے آپ کوواپس لانے کی سعی کی اوراسی سلسلہ میں اسی نے یحی بن سعیدابن العاص کوایک گروہ کے ساتہ آپ کوروکنے کے لیے بھیج دیا”فقالوا لہ انصرف این تذہب“ ان لوگوں نے آپ کو روکااورکہاکہ آپ یہاں سے کہاں نکلے جارہے ہیں فورا لوٹیے ،آپ نے فرمایا ایسا ہرگز نہیں ہوگا،یہ روکنا معمولی نہ تھا بلکہ ایسا تھا جس میں مار پیٹ کی بھی نوبت آئی )دمعةساکبة ص ۳۱۶) مقصدیہ ہے کہ والی مکہ یہ نہیں چاہتاتھاکہ امام حسین (ع) ا سکے حدوداقتدار سے نکل جائیں اوریزید کے منشاء کو پورا نہ کرسکے کیونکہ اس کے پیش نظروالی مدینہ کی برطرفی یاتعطل تھا،وہ دیکھ چکا تھا کہ حسین کے مدینہ سے سالم نکل آنے پر والی مدینہ برطرف کردیاگیاتھا۔

مقامِ منی میں ےامام حسین (ع) کا خطبہ

سلیم بن قیس کہتے ہیں: امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد امت میں
فتنہ و فساد بہت زیادہ پیدا ہوگیا تھا۔ صورتحال یہ تھی کہ ہر اللہ کا
دوست اپنی موت کے بارے خائف تھا یا شہر سے نکالے جانے کے ڈر میں مبتلا
تھا جبکہ ہراللہ کا دشمن انتہائی آزادی سے اپنے خیالات کا اظہار کر رہا
تھا۔

امام حسین علیہ السلام، جنابِ عبداللہ بن عباس اور عبداللہ ابن جعفر کو
ہمراہ لئے حج بیت اللہ کیلئے مشرف ہوئے تو امام علیہ السلام نے بنی ہاشم
کے مردوں، عورتوں اور غلاموں کے علاوہ اپنے آپ کو پہچاننے والے لوگوں کو
اور اپنے اہلِ بیت کو اکٹھا کیا، یہاں تک کہ سات سو سے بھی زیادہ لوگ ،
جن میں اکثر تابعین تھے اور تقریباً ۲۰۰ آدمی اصحابِ پیغمبر میں سے تھے،
یوں خطبہ دیا۔

حمد ِ الٰہی کے بعد فرمایا:

بہرحال اس سرکش اور تجاوز کرنے والے نے ہم پر ایسے ایسے ظلم روا رکھے ہیں
کہ جن کے متعلق تم خود شاہد ہو۔ اس کے مظالم کے متعلق تم تک پوری خبریں
پہنچ چکی ہیں۔ ایسی صورتحال میں تم سے پوچھتا ہوں۔

اگر میں سچ بولوں تو میری تصدیق کرو اور اگر خلافِ واقعہ بیان کروں تو
میری تکذیب کرو۔ سب سے پہلے میں اللہ اور رسولِ خدا اور سے اپنی قرابت
داری کے حق کے متعلق سوال کرتا ہوں۔ میری باتوں کو غور سے سنو اور ضبطِ
تحریر میں لاؤ۔ جب بھی تم اپنے اپنے شہروں میں ، اپنے قبیلے کے افراد کے
پاس جاؤ تو ان میں سے جن لوگوں کے متعلق تم یقین اور وثوق رکھتے ہو،
ہمارے ان حقوق کے متعلق پردہ اٹھاؤکیونکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ حق کہنہ
ہوکر ختم ہوجائے یا اہلِ باطل اس پر غالب آ جائیں۔ہاں! یہ بات مسلّم ہے
کہ خدا اپنے نور کو مکمل کرکے ہی رہے گا ، چاہے کافروں کیلئے سخت ناگوار
ہی کیوں نہ گزرے۔

سلیم بن قیس کہتے ہیں:جو کچھ قرآن میں ان کے والدین اور اہلِ بیت اطہار
کے بارے نازل ہوا ہے، جو کچھ پیغمبر نے ان کے بارے ارشاد فرمایا، انہوں
نے بیان کردیا۔

ہر بات پر صحابہ کرام اس طرح تائید کرتے رہے کہ ہاں! ہم نے یہ بات سنی
تھی اور گواہی دیتے ہیں جبکہ تابعی یوں تائید کرتے کہ ہم نے اپنے
موردوثوق صحابہ کرام سے سنی ہے۔ پھر امام علیہ السلام یوں گویا ہوئے: خدا
کی قسم! یہ باتیں اپنے قابل اعتماد دوستوں کو بتاؤ۔

سلیم بن قیس کہتے ہیں کہ سب سے سخت اور رقت آمیز گفتگو یہ تھی:

فرمایا: خدا کی قسم! کیا تم جانتے ہوکہ جب پیغمبر اسلام(ص) نے صحابہ کرام
کے درمیان برادری قائم کی تو اس وقت علی علیہ السلام کو اس طرح اپنا
بھائی بنایا: فرمانے لگے کہ اے علی ! دنیا اور آخرت میں میں تمہارا اور
تم میرے بھائی ہو۔ تمام حاضرین نے بیک زبان تائید کی۔

پھر فرمایا: خدا کی قسم!کیا تم جانتے ہو کہ جب پیغمبر اسلام(ص)نے اپنی
مسجد تعمیر کرنے کیلئے زمین خریدی، پھر مسجد تعمیر کی، پھر مسجد کے اطراف
میں دس گھر بنائے جن میں سے نو گھر اپنے لئے اور ایک گھر جو درمیان میں
تھا، ہمارے والد گرامی کیلئے بنایا۔ پھر مسجد کی طرف تمام کھلنے والے
دروازوں کو بند کردیا، سوائے میرے والد ِگرامی کے دروازے کے۔ جب لوگوں نے
اس حوالہ سے باتیں کیں تو فرمایا کہ جس طرح نہ میں نے تمہارے دروازے اپنی
مرضی سے بند کئے، اسی طرح علی علیہ السلام کا دروازہ بھی اپنی مرضی سے
کھلا نہیں رکھا بلکہ یہ سب کچھ حکمِ خداوندی کے تحت ہوا ہے۔ پھر سوائے
علی علیہ السلام کے تمام کو مسجد میں سونے سے منع فرما دیا جبکہ اُسی
مسجد میں پیغمبر اسلام(ص)کیلئے اولادیں پیدا ہوئیں۔

اس بات پر بھی سب نے تائید کی۔

کیا تم جانتے ہو کہ جب حضرت عمر بن خطاب نے اپنے گھر سے مسجد کی طرف ایک
چھوٹا سا سوراخ رکھنے پر اصرار کیا لیکن پیغمبر اسلام(ص)نے ایک نہ مانی
بلکہ یوں خطبہ ارشاد فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں
ایسی پاک و پاکیزہ مسجد تیار کروں جس میں علی اور ان کے دو بیٹے فقط رہ
سکتے ہیں۔

پھر بھی سب لوگوں نے تائید کی۔

میں تمہیں خد اکی قسم دیتا ہوں ، کیا تم نہیں جانتے کہ پیغمبر اسلام(ص)نے
غدیر خم میں میرے والد گرامی کو یوں منصوب کیا کہ بلند آواز میں ان کی
ولایت کا اعلان کیا اور فرمایا کہ ضروری ہے کہ حاضرین وغائبین کو اطلاع
کردیں۔

پھر سب لوگوں نے تائید کی۔پھر فرمایا:

خدا کی قسم! کیا تم نہیں جانتے ہو کہ پیغمبر اسلام(ص)نے غزوئہ تبوک میں
میرے والد گرامی سے یوں فرمایا تھا کہ آپ کی میرے ساتھ وہی نسبت ہے جو
حضرت ہارون کی حضرت موسیٰ سے تھی اور میرے بعد تمام موٴمنین کے ولی و
سرپرست ہیں۔
پھر بھی سب نے تائید کی۔پھر فرمایا:

خدا کی قسم کھا کے بتاؤ کہ کیا اہلِ نجران کے ساتھ مباہلہ کرنے کیلئے
پیغمبر اسلام(ص)سوائے ہم پنجتن کے کسی کو بھی ہمراہ لے کر گئے تھے؟

پھر بھی سب نے تائید کی۔ اس کے بعد فرمایا:

خدا کی قسم! کیا تم جانتے ہو کہ جنگ خیبر میں پیغمبر اسلام(ص)نے علمدار
علی علیہ السلام کو بنایا اور فرمایا کہ آج پرچم ایسے شخص کو دے رہا ہوں
کہ جسے اللہ اور اللہ کا رسول دوست رکھتے ہیں اور وہ خدا اور رسولِ خدا
کو دوستے رکھتا ہے۔ مزید اس کی نشانی یہ ہے کہ پلٹ پلٹ کر حملے کرتا ہے
اور میدانِ جنگ سے فرار کرنے والا بھی نہیں ہے۔ یقینا خدا اُس کے ہاتھوں
ہی اسلام کو فتح دیتا ہے۔

پھر بھی سب نے تائید کی۔ پھر فرمایا:

کیا تم جانتے ہو کہ رسولِ خدا نے میرے والد کو سورة برأت مکہ پہنچانے
کیلئے بھیجا اور فرمایا کہ اس سورة کو خود میں یا کوئی میرے جیسا ہی مکہ
میں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔

اس پر بھی سب نے تائید کی۔پھر آپ نے فرمایا:

کیا تم جانتے ہو کہ ہر مشکل گھڑی میں پیغمبر نے میرے والد ِ گرامی کو آگے
کیا کیونکہ ان کے بارے میں وثوق رکھتے تھے۔ کبھی بھی پیغمبر نے ان کو نام
سے نہیں پکارا بلکہ کہتے تھے:” اے بھائی علی “، یا کہتے تھے کہ میرے
بھائی کو بلاؤ۔

اس پر پھر سب نے تائید کی۔ اس کے بعد آپ یوں مخاطب ہوئے:

کیا تم جانتے ہو کہ پیغمبر اسلام(ص)نے ان کے اور حضرت جعفر، حضرت زید کے
درمیان قضاوت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اے علی ! تم مجھ سے ہو اور میں تم
سے ہوں۔تم میرے بعد تمام موٴمنوں کے ولی اور سرپرست ہو۔

پھر سب نے تائید کی۔پھر فرمایا:

کیا تم نہیں جانتے کہ میرے والد گرامی ہر دن اور رات میں پیغمبر
اسلام(ص)سے تنہائی میں ملاقات کرتے تھے۔ جب بھی انہوں نے سوال کیا،
پیغمبر اسلام(ص)نے جواب دیا اور جب بھی وہ خاموش ہوئے،رسولِ خدا نے گفتگو
کا آغاز فرمایا۔
اس کی بھی سب نے بھرپور تائید کی۔ پھر امام علیہ السلام نے فرمایا:

کیا تم نہیں جانتے کہ پیغمبر اسلام(ص)نے علی علیہ السلام کو جنابِ جعفر
اور حضرت حمزہ پر یوں کہہ کر برتری دی کہ اے فاطمہ ! تمہارا اپنے خاندان
میں سب سے اچھے آدمی کے ساتھ عقد کیا ہے جو اسلام، حلم اور علم میں سب سے
افضل ہے۔
اس پر بھی سب نے تائید کی۔ پھر فرمایا:

کیا تم نہیں جانتے کہ پیغمبر اسلام(ص)کا ارشاد ہے کہ میں پوری انسانیت کا
سید و سردار ہوں جبکہ علی تمام عرب کے سردار ہیں۔ حضرت فاطمہ تمام اہلِ
جنت کی عورتوں کی سردار ہیں جبکہ حسن اور حسین میرے دو بیٹے جوانانِ جنت
کے سردار ہیں۔
اس پر پھر سب نے تائید کی۔ اس کے بعد فرمایا:

کیا تم نہیں جانتے کہ پیغمبر اسلام(ص)نے اپنے آپ کو غسل دلوانے کیلئے علی
علیہ السلام کو حکم دیا اور یہ بھی فرمایا کہ جبرائیل آپ کی مدد کریں گے۔
سب نے کہا:جی ہاں!یہ درست ہے۔پھر آپ نے فرمایا:

کیا تم نہیں جانتے کہ پیغمبر اسلام(ص)نے اپنی زندگی کا آخری خطبہ دیتے
ہوئے فرمایا: میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں، ایک
کتاب اللہ اور دوسرے اپنے اہلِ بیت ۔ پس ان دونوں سے تمسک رکھو گے تو
ہرگز گمراہ نہیں ہو گے۔
سلیم بن قیس کہتے ہیں : جو کچھ علی اور اہلِ بیت ِ اطہار کے بارے میں
قرآن اور روایات میں بیان ہوا تھا، امام علیہ السلام نے سب کچھ بیان کرتے
ہوئے لوگوں سے ان پر اقرار لیا اور جواب میں صحابہ کرام یوں کہتے کہ ہاں!
ہم نے خود پیغمبر اسلام(ص)سے سنا جبکہ تابعین کہتے تھے کہ ہم نے فلاں
فلاں موثق آدمیوں سے سنا ہے۔

پھر امام حسین علیہ السلام نے صحابہ کرام کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا: کیا
پیغمبر اسلام(ص)نے یہ فرمایا تھا کہ وہ آدمی جھوٹ بولتا ہے جو یہ کہتا ہے
کہ مجھے دوست رکھتا ہے جبکہ حضرت علی علیہ السلام کو دشمن رکھتا ہے۔ یہ
نہیں ہو سکتا کہ علی علیہ السلام کو دشمن رکھتا ہو جبکہ مجھے دوست رکھتا
ہو؟کسی نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ تو فرمانے لگے: چونکہ علی علیہ السلام
مجھ سے ہیں اور میں علی علیہ السلام سے ہوں۔ جو علی علیہ السلام سے محبت
رکھتا ہو، وہ مجھ سے بھی محبت رکھتا ہے اور مجھے دوست رکھنے والا گویا
اللہ کو دوست رکھتا ہے۔ جو علی علیہ السلام سے بغض رکھتا ہو، وہ مجھ سے
بغض رکھتا ہے اور مجھ سے بغض رکھنے والا اللہ تعالیٰ سے بغض رکھتا ہے۔

یہاں پر بھی تمام حاضرین نے تائید کی اور کہا کہ ہاں! ہم نے سنا ہے اور
پھرمنتشر ہوگئے۔(تحف العقول:۲۳۷،احتجاج:۲۹۶)

صفدر ھمدانی لندن

SHARE

LEAVE A REPLY