سُنتِ ابراہیمی یا دکھاوا؟ نوشی قیصر سحر

0
160

آج کل جس ٹی وی سٹیشن پر بھی دیکھو قربانی کے جانوروں کی خوبصورتی کے چرچے ہیں کوئ بہت خوبصورتی سے سجایا گیا اونٹ لے کر گھوم رہا ہے اور کہیں اعلیٰ نسل کے بھاری بھرکم بیل اور گاۓ گلے اور جسم پر خوبصورت زیورات پہنے ریمپ پر بلی واک کرتی نظر آتی ہیں اور بکرے والے تھوڑا ہی پیچھے ہیں خوبصورت رنگو کی اعلیٰ گھنٹیاں گلے میں لٹکاۓ اترا تے پھرتے ہیں . بھئ کیوں نا ہو ایسا آخر کو قربانی ہو گی ان کی خرید کر لے جانے والے سُنتِ ابراہیمی پر عمل کرتے ہوۓ اپنی پیاری بکری اونٹ یا گاۓ بیل قربان کریں گے

لیکن رُکیۓ !!! کیا یہی ہے سُنت ابراہیمی ہماری کم علمی میں تو سُنت ابراہیمی کوئ دکھلاوا یا اپنے دولت مند رُتبے کی تشہیر کرنا نہیں بلکہ یہ وہ جذبہ ہے جس میں اُن کو اپنے ساتھ شامل کرنے کا درس ہے جن کی اسطاعت نہیں کہ کوئ جانور خرید سکیں وہ جو سال بھر انتظار کرتے ہیں کہ قربانی پر اُنہیں بھی گوشت کھانا نصیب ہو گا تو کیا ہمارا یہ فرض نہیں بنتا کہ اُن کو بھی خوشیوں میں حصہ دار بنا کر اُن کا حق دیں

اکثر دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ بڑے بڑے جانوروں کو سجا کر اُن سے کرتب کرواۓ جا رہے ہیں ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے یہ دیکھ کر کہ بھاری بھرکم گاۓ کو ناک میں پڑی رسی سے کھینچا جاتا ہے اور اُن کی مرضی کے خلاف اُن کو چلایا جاتا ہے پیارے دوستو یہ جانور پالتو نہیں ہوتے جن کی ٹرینگ ہوئ ہوتی ہے اور وہ آپ کی بات ماننے کے عادی ہیں بھاری بھرکم جانوروں کو ناک میں پڑی ہوئ رسی سے کھچنے سے اُنہیں تکلیف ہوتی ہے اس دکھلاوے کی کوئ ضرورت قطعی نہیں ہے اس سے ہم دو طرح کی غلطیوں کے مؤجب بنتے ہیں ایک تو ہم بے زبان جانوروں پر تشدد کرتے ہیں اور دوسرے اُن لوگوں کو جن کی اسطاعت نہیں ہے جانور خریدنے کی اُن کو دُکھ اور تکلیف دیتے ہیں یہ سب ضروری نہیں ہے ہم اپنی قدریں اور رویۓ کہاں چھوڑ چُکے ہیں ایک وقت تھا جب قربانی سے دس یا پندرہ دن پہلے جانور لایا جاتا تھا گھر کے بچے اُس کو مہندی لگاتے تھے ماتھے پر اور خوشی سے گھماتے تھے اب وہ خوشیاں تو گھو ہی گئ ہیں لیکن دکھلاوا بہت بڑھ گیا ہے ہمیں دوسروں کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھتے ہوۓ اپنے دولت مند رُتبے کی تشہیر نہیں کرنی چاہیۓ اگر آپ کو اللہ نے اسطاعت دی ہے تو ضرور دو تین یا ذیادہ قربانیاں کریں لیکن اُن لوگوں کے جذبات مجروح نہ کریں جو صرف ایک ہی جانور خریدنے کی طاقت رکھتے ہیں بخُدا ہم قربانی دینے کے خلاف نہیں ہیں لیکن قربانی اپنے خالص جذبے اور سُنت سمجھ کر دی جاۓ تو بہتر ہے بے جا کی تشہیر بہت ساری بُرائیوں کا سبب بنتی ہے اور جانوروں کو قربان کرنے سے پہلے اُن کو تکلیف دینا ضروری نہیں ایسی باتوں کا حصہ نہ بنیں بلکہ ایسا کرنے والوں کو بھی سمجھائیں اپنے بچوں کو قُربانی کا اصل مقصد بتائیں نا کہ نمود و نمائش کا حصہ بنائیں دوسرے اسلامی ممالک میں بھی قربانیاں ہوتی ہیں لیکن جو کُچھ ہمارے ہاں ہوتا ہے وہ کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتا جانے ہم لوگ کہاں جا رہے ہیں اور کب رُکیں گے ایسا نہ ہو
………………. کہیں دیر نہ ہو جاۓ ………….

نوشی قیصر سحر

SHARE

LEAVE A REPLY