مقبوضہ کشمیر میں جی 20 سربراہ اجلاس کےخلاف اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز کے سامنے احتجاج

0
790

امریکی شہر نیویارک میں کشمیری نژاد امریکی شہریوں کی بڑی تعداد نےبھارت کی طرف سے جموں و کشمیر میں جی 20 ممالک کےسربراہی اجلاس کےخلاف اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز کے سامنے احتجاج کیا۔

مقررین نے زور دے کر کہا کہ بھارت کی جانب سے ایک ایسے علاقے میں اجلاس کے انعقاد کا مقصد صورتحال کو معمول کے مطابق دکھانا ہے جسے اقوام متحدہ متنازعہ علاقہ قرار دے چکا ہے۔ نیویارک میں ڈیجیٹل ٹرکوں پر کشمیریوں کے حق خودارادیت سمیت وسیع پیمانے پر پیغامات نشر کیے گئے جن میں مظاہرین کے غم و غصے کا اظہار کیا گیا، اگست 2019 میں بھارت کے یکطرفہ طور پر کشمیر کو براہ راست کنٹرول میں لانے اور اس کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد اس طرح کا پہلا اجتماع ہے۔

پیغامات میں جی20 اجلاس سے کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کو قانونی حیثیت دینے کا خطرہ ہے، کشمیر میں جی 20 اجلاس کا انعقاد اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے،جی 20 اجلاس بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں نسل کشی کی اجازت دیتا ہے۔ان پیغامات میں ’’کشمیر میں جی 20 اجلاس کو ’نہ ’کہو، مودی: فاشزم کا چہرہ، قبضے کو ختم کرو،کشمیر کو آزاد کرو، کشمیرکا فوجی محاصرہ ختم کرو ،بھارت،تمام سیاسی قیدیوں کو رہ کرو‘‘ جیسے نعرے نشر کیے گئے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دفتر میں ایک یادداشت پیش کی گئی جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے، انسانی حقوق کے محافظوں سیاسی قیدیوں اورحریت رہنمائوں خرم پرویز، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، مسرت عالم، آسیہ اندرابی اور صحافیوں عرفان مہراج ، آصف سلطان، سجاد گل، فہد شاہ اور گوہر گیلانی سمیت دیگر کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY