سپریم کورٹ آف پاکستان میں ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی جس کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے سابق آئی جی پنجاب کلیم امام کی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ مسترد کر دی۔

ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو آج ہی طلب کر لیا۔

واضح رہے کہ پاکپتن میں خاور فرید مانیکا کی گاڑی کو ناکے پر روکنے پر ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) پاکپتن رضوان گوندل کے تبادلے کی خبروں پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا۔

کیس کی گزشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے زبانی تبادلے پر آئی جی پنجاب کی سرزنش کی تھی اور پولیس میں سیاسی مداخلت کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ان سے ایک ہفتے میں رپور ٹ طلب کی تھی۔

سابق آئی جی پنجاب اور موجودہ آئی جی سندھ کلیم امام نے ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرائی تھی، جسے آج عدالت عظمیٰ نے مسترد کر دیا

SHARE

LEAVE A REPLY