موجودہ حکومت کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور انکے کچھ مشیروں نے جنکا تعلق ریڈیو پاکستان اور وزارت سے ہے انہیں اور عمران حکومت کو ایک مشکل صورت حال میں گرفتار کروا دیا ہے یہ مشورہ دینے کے بعد کہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع ریڈیو پاکستان کی سات منزلہ عمارت جسے پہلے سے ہی ن حکومت کے اسحاق ڈار رہن رکھوا چکے ہیں اسے اب لیز پر دیا جائے اور اس سات منزلہ عمارت کے لاتعداد کارکنوں اور اربوں روپے کی قیمتی مشینری کو ایچ نائن میں ریڈیو اکیڈمی کی ایک بہت مختصر عمارت میں منتقل کیا جائے جہاں یقینی طور پر اس سات منزلہ قومی شناخت کی عمارت کی ایک منزل کے لوگ بھی نہیں سما سکتے
اس ضمن میں مصدقہ اطلاعات یہ ہیں کہ وزیر موسوف کو اس ضمن میں بریفنگ دینے والوں میں سر فہرست خود ریڈیو پاکستان کے موجودہ سربراہ اور ڈائریکٹر نیوز شامل ہیں
اسی دوران سوشل میڈیا اور ابلاغ کے دیگر ذرائع پر عوام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگ حکومت کے اس نا عاقبت اندیشانہ فیصلے کی شدید مزمت کر رہے ہیں
Abid Malik
پاکستان کی اس سےزیادہ بدقسمتی کیا ہو سکتی ہے کہ نظام حکومت میں ایسے بے وقوف اور نااہل لوگوں کے ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے کہ اب سوائے رونے کے کوئی چارہ نہیں میڈیا نے بے وقوف عوام کو جو تبدیلی کا لولی پاپ فارن فنڈنگ اور اندورنی سازشی عناصر کی ہدایت پر عوام کو دیا عوام اس کی مٹھاس کی خام خیالی میں بہت توقعات وابستہ کر بیٹھے تھے اب آہستہ آہستہ ان بھکاریوں کی اصلیت سامنے آنا شروع ہو چکی ہے
مجھے ڈر ہے کہ پرانی گاڑیوں بھینسوں ریڈیو پاکستان کے ساتھ ساتھ کہیں فصیل
Imdad Hussaini
ايک درخت کو اُگنے ؛ بڑھنے اور پھل دار سايہ دار درخت بننے ميں سنبھال اور وقت کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے – ليکن اس کو کاٹنے ميں ايک گھنٹے سے بھی کم وقت لگتا ہے – ريڈيو پاکستان کی بھی کچھ ايسی مثال ہے
Azhar Ulhaq Naseem Qureshi
مجھے پتہ چلا ہے کہ پچھلے دو ادوار میں پی ٹی وی کنونشن ہال ریڈیو پاکستان کی عمارات کے علاوہ موٹر وےاور ڈیم تک گروی رکھ کہ قرض لئے گئے ہیں
اب وہ قرض واپس کرنے کا وقت ہے تو یہ سب اقدامات کئے جا رہے ہیں
گورنر ہاوسز کو کھول کر پھر اس پر ٹکٹ بھی لگایا جائے گا
ریڈیو کے بعد ٹی وی اسٹوڈیوز کو بھی پروڈکشن ہاوسز کو دیا جائے گا
ریڈیو پاکستان کی تبدیلی پر بہت ری ایکشن ہے مگر حکومت اس پر دوسرا راستہ تلاش نہیں خر پا رہی کہ گروی رکھی عمارت کو کیسے چھڑایا جائے
Safdar Hamadani
دوست نما دشمن سب سے زیادہ نقصان دہ ہے اور ریڈیو کے کارکنوں ایسے ہی دشمن کا سامنا ہے
وہ لوگ جنکو انکے مفادات کا تحفظ کرنا ہے وہی انکی بیخ کُنی کر رہے ہیں اپنے اپنے ذاتی مفاد کے لیئے
Yasir Malik ·
سرمایہ داروں نے اپنے مھرے بدل لئے ہیں جس طرح ن لیگ نے قومی اداروں کو اونے پونے اپنے ہی فرنٹ مین کے ہاتھوں بیچنے کی کوشش کی بلکل اسی طرح موجودہ حکومت نے تو آغاز میں ہی شروع کر دیا ہے ۔۔تبدیلی کے سر خیل جناب عمران خان صاحب سارے ادارے صرف مال کمانے کے لئے نہیں ہوتے ۔۔کچھ ادارے نہ صرف ملک کی نظر یاتی سرحدوں کے محافظ ہوتے ہیں اور قوم کو ایک لڑی میں پرو کر بھی رکھتے ہیں بلکہ ہماری ثقافت اور زبانوں کے امین بھی ہوتے ہیں اور غریب عوام کو روزگار کی فراہمی کا سبب بھی ہوتے ہیں ۔PTI اراکین اس وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئے کہ ھم اداروں کو مضبوط کریں گے ۔ مگر افسوس کہ PTI کے وزیر اعظم کے بالکل سامنے ایک غریب ادارہ جو بڑی مشکل سے اپنی بقا کی جستجو میں ہے ۔ اُسی غریب اور مفلوک الحال ادارے پر PTI کا پہلا وار ۔ اس غریب ادارے کی تباہی کا بندوبست کر ڈالا ۔ اور آتے ساتھ ہی ریڈیو پاکستان جیسے قومی ادارے کو باپ کا مال سمجھ کر بیچنے کے لئے پر تول لئے ۔۔جناب وزیر اعظم یہ بلڈنگ بیچ کر آپ کو کتنے پیسے مل جائیں گے مگر ہزاروں مزدور بیروزگار ہو جائیں گے۔۔پیپلز یونٹی آف پی آ ئی اے ایمپلا یز اس مشکل وقت میں ریڈیو ملا ز مین کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اپنی حمایت کا یقین دلا تی ہے ۔
اللہ پاک ریڈیو پاکستان کی حفاظت فرمائے ۔ آمین
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ ہی میرے دل میں ہے
All Pakistan PBC Officers Association
وزیر اطلاعات کیلئے چند گزارشات ۔۔
مجھے نہیں پتہ آپ کیونکر ریڈیو پاکستان کے جانی دشمن بن گئے ہیں ۔۔۔آپکو کس ذہین نے کہہ دیا کہ ریڈیو کا دور ختم ہوگیا اور اب یہ قصہ پارینہ ہوگیا ہے کیونکہ مملکت خداداد بہت ترقی یافتہ ہوگئی ہے۔۔۔تو آئیے آپ کے سامنے کچھ باتیں رکھتا ہوں تاکہ آپ کو ریڈیو کی قدروقیمت کا احساس ہو۔۔۔
1۔امریکہ اور یورپ سے زیادہ کوئی ملک ترقی یافتہ نہیں مگر وہاں کیونکر آج بھی ریڈیو اسٹیشن زیادہ ہیں اور منافع بخش بھی ہیں؟ ؟؟
2۔وہ ملک بتائیں جس میں سرکاری ریڈیو اسٹیشن نہ ہوں۔
3۔کیا آپکو پتہ ہے ریڈیو کو پوری استعداد سے چلایا جائے تو اس کی نشریات نہ صرف سو فیصد پاکستان تک پہنچتی ہیں بلکہ پڑوسی ممالک میں بھی کئی سو کلومیٹر تک اندر جاتی ہیں جو کہ پاکستان کے مثبت پروپیگینڈا کیلئے فائدہ مند ہے۔۔
3۔جبکہ اس کی نسبت پی ٹی وی کی نشریاتی لہریں پاکستان کا کُل 80 فیصد رقبہ تک جاتی ہیں جبکہ پڑوسی ممالک میں صرف مخصوص مقامات پر نہایت کم پہنچ پاتی ہیں ۔۔جبکہ کیبل ٹی وی تو صرف پاکستان کی 40 فیصد عوام کی پہنچ میں ہے۔
4۔ریڈیو پاکستان کا پاکستان بننے کے دوران بھی ایک کردار رہا ہے یہ پاکستان کے ماضی کا روشن باب ہے۔اسی ریڈیو پاکستان سے ہی صبح آزادی کا اعلان ہوا تھا ۔
5۔آپ نے بیان دیا کہ نیا زمانہ ہے اب ریڈیو ٹرانسمیٹرز کی کوئی ضرورت نہیں اب انٹرنیٹ کا دور دورہ ہے تو سنئیے۔
6۔پاکستان میں کُل آبادی کا صرف 56 فیصد وہ لوگ ہیں جو صرف لکھنا پڑھنا جانتے ہیں ۔کیا وہ اتنے قابل ہیں کہ انگریزی زبان میں انٹرنیٹ کو استعمال کرسکیں؟؟؟
7۔جبکہ 2 جی موبائل سروس ابھی تک پاکستان کے 30 فیصد علاقوں میں دستیاب نہیں تو 3 جی یا 4 جی کیونکر ہوگی۔جبکہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں پاکستان میں انٹرنیٹ 3جی سے کم پر نہیں چلتا۔۔
8۔یہ بات یاد رکھیں کسی بھی قسم کی قدرتی آفات ،حالت جنگ میں یا کوئی اور ہنگامی حالات میں رابطے اور نشریات کے تمام وسائل مسدود ہوجاتے ہیں یا پھر ناکارہ ہوجاتے ہیں مگر ریڈیو وہ واحد ذریعہ ہے جو کہ کبھی مسدود نہیں ہوسکتا حتی کہ ایٹمی جنگ میں بھی اس کی ریکوری دوسرے تمام ذرائع سے آسان ہے۔۔۔
یہ آخری نقطہ میرے پہلے نقطے کا جواب بھی ہے جو شائد آپ کی سمجھ میں نہ آیا ہو ۔مگر امید ہے اب سمجھ میں آچکا ہوگا۔۔۔تو براہ کرم آپ اپنی حکومت کو کفایت شعار ضرور بنائیں ہم آپ کے ساتھ ہیں مگر مملکت خداد کی اساس پر کاری ضرب مت لگائیں شکریہ۔۔
(محمد شکیل اسٹیشن ڈائرکٹر آزاد کشمیر ریڈیو میرپور
چیرمین آل پاکستان پی بی سی آفیسرز ایسوسی ایشن )
M Hameed Shahid
ایک قومی ادارے ریڈیو پاکستان، اسلام آباد کی عمارت کو لیز پر دیے جانے کے حکومتی فیصلے پر جو شدید ردعمل سامنے آیا ہے، وہ نہ صرف غیر معمولی ہے اس امر کا تقاضا بھی کرتا ہے کہ وزیر نشریات یہ ردعمل کیبنٹ اور وزیراعظم کے نوٹس میں لاکر ایسے احمقانہ فیصلوں پر عمل درآمد رکوا دیں۔ یادرہے کہ نشریات کا یہ بانی ادارہ ایک قومی ورثہ ہے اور زندہ قومیں ایسے اداروں کی توقیر میں اضافے کے اقدامات اٹھاتی ہیں انہیں بے توقیر نہیں کرتیں ۔
یہ اقتباسات جاری رہیں گے
 












