عمران حکومت کے وزیر اطلاعات اور ریڈیو پاکستان کے کچھ اعلی افسران کی ملی بھگت سے اسلام آباد میں صدر دفتر کی سات منزلہ قومی عمارت لیز پر دینے کے فیصلے کے خلاف آج پیر سے اسلام آباد سمیت ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیئے کیئے گئے جن میں ملازمین نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور حکومت کے اس اقدام کے خلاف نعرہ بازی کی۔ مختلف مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت کو امور مملکت چلانے کے لیئے اگر پیسے کی ضرورت ہے تو وہ ماہرین کے ساتھ مل کر طویل مدت کی منصوبہ سازی کرے نا کہ قومی ورثے کی عمارتوں کو لیز پر دینے اور انکی نیلامی جیسے ناعاقبت اندیشانہ اقدامات کرے
تازہ اطلاعات کے مطابق وزیر اطلاعات نے اسلام آباد میں مظاہرین کے نمائیندوں سے ابتدائی مذاکرات کیئے لیکن مظاہرین کے قائدین نے وزیر پر یہ بات واضع کر دی کہ وہ نوٹیفکیشن کی واپسی تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے جس پر معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں
اسلام آباد میں احتجاج کی جھلک
مقررین نے زور دیا کہ حکومت کو اپنا یہ فیصلہ واپس لینا ہو گا ورنہ اس احتجاجی تحریک کو مطلوبہ نتائج حاصل کرنے تک جاری رکھاجائے گا

کراچی ریڈیو پر مظاہرہ

بہاولپور ریڈیو پر مظاہرہ
ریڈیو پاکستان کے ملازمین کا کہنا ہے کہ عمران خان تو بے روزگاری ختم کرنے کے وعدے کے ساتھ آیا تھا اس نے اپنے وزیر اطلاعات کے ذریعے ملازمین کا معاشی قتل شروع کروا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کی بڑی اکثریت نے تبدیلی کے نام پر عمران خان کو ووت دیا تھا اس تبدیلی کا مطلب قومی عمارتوں کو لیز پر دینا نیلام کرنا اور بیچنا نہیں تھا
لاہور ریڈیو پر احتجاج

میر پور ریڈیو

ملتان ریڈیو

فیصل آباد ریڈیو














حیرت ہے کہ انہیں کیا سوجھی یہ کوئی تجارتی ادارے تھوڑی ہیں یہ ہمارا اثاثے اور شناخت ہیں یہ خود کو علم دوست کہتے ہیں کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے