شہبازگل کیس کا تفتیشی افسر مقدمے کا ریکارڈ لے کر ایک اور کیس کے سلسلے میں کراچی چلا گیا، عدالت کا کہناہے کہ ریکارڈ نہ لایا گیا تو آئی جی اسلام آباد کو طلب کیا جائے گا۔
بغاوت میں اکسانے کے الزام میں گرفتار تحریک انصاف کے رہنما شہبازگل کی درخواست ضمانت پر کیس کی سماعت ہوئی، درخواست پر سماعت ایڈیشنل سیشن طاہر عباس سپرا نے کی۔
عدالت نے پولیس افسران سے استفسار کیا کہ درخواست پر تفتیشی افسر نوٹس بھیجا گیا تھا، وہ کہاں ہیں، اور ریکارڈ کہاں ہے، کیا تفتیشی کونوٹس نہیں ملا۔
پولیس افسر نے عدالت کو مؤقف پیش کیا کہ نوٹس شام کوملا تھا، جب کہ تفتیشی صبح کے وقت کراچی نکل گیا تھا، تفتیشی نے دوسرے ملزم کی گرفتاری کرنی ہے، اور وہ ریکارڈ کراچی ساتھ لے گیا ہے۔
عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ 10 بجے تک کا وقت دیتا ہوں ریکارڈ یا تفتیشی پیش ہوں۔
پولیس افیسر نے جواب دیا کہ وہ کراچی سے اتنی جلدی نہیں آ سکتے۔
ایڈیشنل سیشن طاہرعباس سپرا نے ریمارکس دیئے کہ میں نےتونہیں کہا تھا تفتیشی کراچی جائے، فون کریں ان کو بلائیں نہیں آتے تو ایس ایچ او کو بلائیں۔
عدالت نےکیس کی سماعت میں ساڑھے 10 بجے تک کا وقفہ کرتے ہوئے حکم دیا کہ ریکارڈ نہ آیا توایس ایس پی اورآئی جی اسلام آباد کوبلائیں گے۔
دوران سماعت ملزم شہباز گل کی جانب سے فیصل چوھدری اور سردار مصروف خان عدالت میں پیش ہوگئے۔
FaceBook
Twitter
Linkedin













