پاکستان کی جانب سے سکھوں کے مقدس مقام گوردوارہ کرتارپور صاحب کو دوبارہ کھولنے کی مخلصانہ پیشکش کو بھارت نے مسترد کر دیا۔
مودی سرکارکی تنگ نظری، بھارتی میڈیا کے دعوے کے مطابق کرتار پور راہداری کھولنے کی پاکستانی پیشکش مسترد کر دی گئی۔ پاکستان نے راجہ رنجیت سنگھ کی برسی کےموقع پر 29جون کو راہداری کھولنے کا اعلان کیا تھا۔
گذشتہ روز پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سوشل میڈیا بیان میں کہا تھا کہ دنیا بھرمیں جیسےعبادت گاہیں کھل رہی ہیں، پاکستان کرتارپور راہدری کھولنےکی تیاری کر رہا ہے، ہم بھارت کو 29 جون کو کرتار پور راہداری کھولنے سے متعلق اپنی آمادگی سے آگاہ کر رہے ہیں۔
واضح رہے اس سے قبل کرتارپور کوریڈور کو 16 مارچ کو کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے سبب عارضی طور پر بند کیا گیا تھا۔ پاکستان نے بھارت کو کرتارپور کوریڈور دوبارہ کھولنے ایس او پیز پر تبادلہ خیال کی دعوت بھی دی تھی۔
…………………………
پاکستان نے 29 جون سے کرتار پور راہداری کھولنے کا اعلان کر دیا۔
ترجمان دفترِ خارجہ عائشہ فاروقی کے مطابق پاکستان نے بھارت کو کرتار پور راہداری 29 جون سے کھولنے پر آمادگی سے آگاہ کر دیا
عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہ کرتارپور راہداری کا افتتاح وزیرِ اعظم عمران خان نے گزشتہ برس 9 نومبر کو کیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بابا گرو نانک کی 550 ویں سالگرہ تقریبات کے موقع پر پاکستان کی جانب سے کرتار پور راہداری کھول کر سکھ یاتریوں اور عالمی برادری کی دیرینہ خواہش پوری کی گئی۔
ترجمان دفترِ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرتار پور راہداری صحیح معنوں میں امن اور مذہبی ہم آہنگی کی علامت ہے۔
وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ دنیا بھر میں عبادت گاہیں کھل رہی ہیں، پاکستان بھی کرتار پور راہدری کھولنے کی تیاری کر رہا ہے۔











