پریم کورٹ آف پاکستان کی کراچی رجسٹری نے شہرِ قائد میں تجاوزات کے خاتمے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران رپورٹ نہ پیش کرنے پر کمشنر کراچی نوید احمد شیخ پر شدید اظہارِ برہمی کیا ہے جبکہ وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو فوری پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے کمشنر کراچی نوید احمد شیخ پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اب آپ پر چارج فریم کر کے آپ کو جیل بھیج دیں گے، آپ کو پتہ ہی نہیں کراچی کے مسائل کیا ہیں۔
کراچی میں تجاوزات کے خاتمے سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ آف پاکستان کی کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے کی۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے کمشنر کی جانب سے کراچی سے تجاوزات ہٹانے کی رپورٹ پیش نہ کرنے پر اظہارِ برہمی کیا۔
دورانِ سماعت کراچی کے کمشنر نوید احمد شیخ عدالتِ عظمیٰ میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے کمشنر کراچی سے استفسار کیا کہ بتائیں عدالتی احکامات پر کتنا عمل درآمد ہوا؟
کمشنر کراچی نے جواب دیا کہ میری ابھی تعیناتی ہوئی ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو تیاری کر کے آنا چاہیئے تھا، ان لوگوں کو پتہ نہیں کیوں ہمارے سامنے پیش ہونے کے لیے بھیج دیتے ہیں، ان کو کیا معلوم کہ شہر والوں کی کیا ضروریات ہیں؟
چیف جسٹس آف پاکستان نے استفسار کیا کہ آپ نے مئی 2019ء کا آرڈر پڑھا ہے؟
کمشنر کراچی نے جواب دیا کہ متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی تھیں۔
چیف جسٹس نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آگے کسی اور کو کہہ دیا ہوگا، شہر میں بتائیں کیا کام ہوا؟ وزیرِ اعلیٰ سندھ کو بلوالیں، ان سے پوچھ لیتے ہیں۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو بتا دیتا ہوں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں رہنے دیں، وزیرِاعلیٰ سندھ کو بلوالیں۔
چیف جسٹس نے کمشنر کراچی سے استفسار کیا کہ کڈنی ہل پارک کی صورتِ حال بتائیں۔
کمشنر کراچی نے جواب دیا کہ نئی مسجد کی تعمیرات کا کام ہو رہا تھا جو رکوا دیا ہے، اس کی رپورٹ جمع کرا دی ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کہاں ہے رپورٹ؟ آپ خود گئے تھے وہاں؟ عدالتی احکامات پر عمل درآمد ہوا ہے؟
چیف جسٹس نے اظہارِ ناراضی کرتے ہوئے کہا کہ اب آپ پر چارج فریم کر کے آپ کو سن لیتے ہیں، اب آپ کو جیل بھیج دیں گے، آپ کو پتہ ہی نہیں کراچی کے مسائل کیا ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کمشنر کراچی کو کیا معلوم ہو گا آپ دو دو مہینے کیلئے کمشنر لگاتے ہیں، ہمیں وزیرِ اعلیٰ بتائیں گے کہ کتنا عمل ہوا یہ بیچارے افسران کیا بتائیں گے؟ ان کو تو خود کچھ معلوم نہیں کراچی میں کیا ہو رہا ہے، کیا ضروریات ہوتی ہیں؟
چیف جسٹس گلزار احمد نے کراچی سے تجاوزات ہٹانے سے متعلق رپورٹ پیش نہ کرنے پر اظہارِبرہمی بھی کیا۔
کمشنر کراچی نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے اعلیٰ افسران کو رپورٹ جمع کرا دی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے رپورٹ آگے پھر انہوں نے اور آگے دے دی ہوگی، آپ کو کیا صرف سیٹ گرم کرنے کیلئے بٹھایا گیا ہے ؟
چیف جسٹس پاکستان نے کمشنر کراچی کی سرزنش کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آپ کو کچھ معلوم بھی ہے کہ کیا کرنا ہے؟ کچھ نہیں جانتے ادھر ادھر کی باتیں مت کریں، آپ وزیرِاعلیٰ سندھ کو بلائیں ہم ان سے پوچھ لیتے ہیں۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو رپورٹ کے ساتھ بلا لیتے ہیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیرِ اعلیٰ سندھ کو فوری طلب کر لیا۔












