تصفیے سے حاصل 19کروڑ پاؤنڈ سماجی بہبود کیلئے استعمال ہوں گے، شہزاد اکبر کی وضاحت

0
713

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے ملک ریاض کے اہل خانہ اور برطانوی حکومت کے درمیان ہونے والے تصفیے سے ملنے والے 19 کروڑ پاؤنڈ پر واضح کیا ہے کہ اس رقم کو وفاقی حکومت سماجی بہبود کے لیے استعمال کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘تصفیے کے معاہدے میں ون ہائیڈ پارک کی فروخت اور اس سے حاصل رقم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو منتقل کرنا بھی شامل ہے، یہ رقم سپریم کورٹ آف پاکستان کے نیشنل بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے’۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ‘وفاقی حکومت نے سماجی بہبود اور غریبوں پر خرچ کرنے کے لیے اس رقم کو حاصل کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دی ہے’۔

واضح رہے کہ منگل کو برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے)، پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے اہل خانہ کے ساتھ ایک سول تصفیہ پر راضی ہوئی تھی۔

این سی اے نے 19 کروڑ پاؤنڈ کی تصفیے کی پیشکش قبول کی تھی، جس میں تقریباً 5 کروڑ پاؤنڈ مالیت کی ایک برطانیہ کی جائیداد (ون ہائیڈ پار پلیس لندن، ڈبلیو 2 2ایل ایچ) اور منجمد کیے گئے 9 اکاؤنٹس میں موجود تمام فنڈز شامل تھا۔

اس حوالے سے ایک باضابطہ بیان میں ایجنسی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ فنڈز پاکستان کے حوالے کیے جائیں گے۔

اس تمام معاملے کے بعد یہ سوالات سامنے آرہے تھے کہ آیا تصفیے سے حاصل رقم ملک ریاض کے اس جرمانے کے لیے استعمال کی جائے گی جو سپریم کورٹ نے ان پر عائد کیا ہے۔

تاہم ان سوالات کے اٹھنے پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب نے وضاحت دے دی۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹس میں انہوں نے اس معاملے پر کیے گئے معاہدے اور اس کی پیچیدگیوں پر کوئی تبصرہ نہ کرنے کی بات کو دوہراتے ہوئے لکھا کہ ‘حکومت پاکستان نے اس معاملے پر اس سے مزید آگے نہ جانے کے لیے ایک رازداری کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں’

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت اس وقت ایسے مزید معاملات میں دیگر حکومتوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور لاکھوں ڈالرز مالیت کی مزید وصولی کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ حکومت سول کیسز میں معاہدوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور اس کی خواہش نہیں کہ لوگوں کو جیل میں رکھے

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ قانونی راستے سے کسی دوسرے ملک سے رقم واپس آئی۔

ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا تھا کہ ‘یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ تصفیہ سول کیس میں ہوا کسی کرمنل کیس میں نہیں’۔

دریں اثنا ایک نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘ رقم سپریم کورٹ کو منتقل کردی گئی ہے جسے حاصل کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے عدالت میں درخواست بھی دائر کردی ہے اور یہ رقم ہمیں (ریاست پاکستان) کو دینی چاہیے’۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

پاکستان کے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے سربراہ اور وزیر مملکت برائے داخلہ شہزاد اکبر کا کہنا ہے برطانیہ سے آنے والے 190 ملین پاؤنڈ کی رقم سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئے گی۔ یہ فنڈز عدالت میں جمع ہوں گے اور ہم نے عدالت سے ان فنڈز کی سندھ کی بجائے وفاق کو دینے کی درخواست کی ہے۔

برطانیہ میں تصفیہ کے ذریعے حاصل ہونے والے 190 ملین پاؤنڈ میں سے 140 ملین پاؤنڈ پاکستان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو گئے ہیں جب کہ 50 ملین پاؤنڈ کی پراپرٹی بعد میں آئے گی۔

دوسری جانب بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض کہتے ہیں کہ یہ ایک سول معاملہ تھا جس میں کوئی جرم رونما نہیں ہوا۔

اسلام آباد میں وائس آف امریکہ سے خصوصی بات کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب اور وزیر مملکت برائے داخلہ شہزاد اکبر نے کہا کہ برطانیہ میں ہونے والے تصفیئے میں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کی طرف سے 190 ملین پاؤنڈ پاکستان حکومت کو ملنے ہیں، ان میں سے 140 ملین پاؤنڈ ٹرانسفر ہو گئے ہیں۔ مزید 50 ملین پاؤنڈ جلد آئیں گے۔

تاہم انہوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ یہ فنڈز کس معاہدے کے تحت حاصل ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک خفیہ معاہدہ ہے جس کی تفصیلات نہیں بتائی جا سکتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 190 ملین پاؤنڈ کی رقم سپریم کورٹ میں جمع ہو گی اور ہم نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ یہ رقم وفاق کو دی جائے، سندھ حکومت کو نہیں۔ ہم نے یہ اس سلسلے میں اپنی درخواست دائر کر دی ہے۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ اس وقت بہت سے کیسز پر کام ہو رہا ہے، جہاں تصفیہ ہو گا وہاں سے جلد پیسے آئیں گے،جہاں قانونی مراحل ہوں گے وہاں پر وقت لگے گا، لیکن ہم ان سب کیسز کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ ہم اسی سلسلے میں امریکہ جا رہے ہیں،جہاں امریکی حکام سے اس طرح کے کیسز پر بات ہو گی اسی طرح ہم بلیک منی واپس لانے کے لیے متحدہ عرب امارت بھی جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شہباز فیملی کے بارے میں ہم نے بہت سے معاملات تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ ہمیں علم ہو گیا ہے کہ پیسے کن ذرائع سے کہاں کہاں منتقل ہوتے رہے۔ ہم رقوم کی غیرقانونی ترسیل روکنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہی اقدامات کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف میں ہماری ریٹنگ بہتر ہوئی ہے۔

شہباز شریف فیملی کی کرپشن کے حوالے سے شہزاد اکبر نے کہا کہ شہبازشریف کے ڈیکلیئرڈ اثاثوں میں 10سال میں 70 گنااضافہ ہوا ہے۔ سلیمان شہباز کے ڈیکلیئرڈ اثاثوں میں 8 ہزار گنا اضافہ ہوا۔ جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے رقم منتقل کی گئی اور 33/32 کمپنیاں بنائی گئیں۔ شہبازشریف کے کاروبار میں 200 سے زائد ٹی ٹیز نکلیں۔

معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر نے الزام عائد کیا کہ شہباز شریف کی فرنٹ مین کمپنی جی این سی کے تین مالکان ہیں،نثار احمد گل، ملک علی احمد اور طاہر نقوی۔ یہ افراد وزیراعلیٰ ہاؤس میں اہم عہدوں پر فائز تھے اور اب یہ سب نیب کی تحویل میں ہیں جنہوں نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے۔

ملک ریاض کیا کہتے ہیں

دوسری جانب بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن پشاور میں بھی شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس موقع پر نیوزکانفرنس کے دوران کہا کہ یہ رقم سپریم کورٹ میں 460 ارب روپے ادائیگی کے لیے دی جانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں تمام تر معاملات برطانوی این سی اے کے ساتھ ہوئے۔ ان کی پریس ریلیز میں بھی کہا گیا ہے کہ ہم نے کوئی جرم نہیں کیا۔ سپریم کورٹ کو ادائیگی کے لیے ہمیں اپنے گھر بیچنا پڑیں یا گروی رکھنا پڑیں تو وہ بھی کریں گے۔

اثاثہ جات ریکوری یونٹ پاکستان میں موجودہ حکومت کے دور میں قائم کیا گیا اور ان اس یونٹ کا دعویٰ ہے کہ بیرون ملک کالے دھن کے ذریعے بھجوائی گئی اربوں روپے کی رقوم کا پتہ لگا لیا گیا ہے۔ اس یونٹ کی طرف سے اب تک 190 ملین پاؤنڈ کی ایک ریکوری سامنے آئی ہے جو بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض کے خاندان کی طرف سے آئی ہے لیکن اس کیس میں ان پر کیا الزامات کیا تھے، اس بارے میں اب تک اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے کچھ نہیں بتایا۔

SHARE

LEAVE A REPLY