اسحٰق ڈار نے ‘اشتہاری’ قرار دیئے جانے کا فیصلہ چینلج کردیا

0
88

سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے احتساب عدالت کی جانب سے زائد اثاثہ جات کیس میں اشتہاری قرار دینے کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔

اسحٰق ڈار نے اپنے وکیل قاضی فیصل مفتی کے ذریعے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ سماعت ابتدائی مراحل میں ہے اور احتساب عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ اور جائیداد ضبطگی کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے 14 نومبر کو اسحٰق ڈار کے خلاف ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کرتےہوئے انہیں اشتہاری قراردیا تھا۔

ساتھ ہی عدالت نے کہا تھا کہ اگر اسحٰق ڈار کے خلاف دائر ریفرنس کی سماعت میں حاضر نہیں ہوئے تو ان کے ضامن احمد علی قدوسی کی جانب سے جمع 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے بھی ضبط کرلیے جائیں گے۔

اسحٰق ڈار کے ضامن احمد علی قدوسی نے بھی اپنے خلاف احتساب عدالت کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جس کی سماعت دو رکنی بینچ نے کی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے تفتیشی افسر نے احمد علی قدوسی کی قابل انتقال جائیداد سے متعلق تفصیلات کورٹ میں جمع کرائی۔

اسحٰق ڈار نے پٹیشن میں احتساب عدالت پر الزام عائد کیا کہ ان کے خلاف کارروائی کا عمل ضابطوں کو مد نظر رکھتے ہوئے نہیں کیا جارہا۔

انہوں نے بتایا کہ احتساب عدالت نے اشتہاری قرار دینے کے 30 دن قبل ہی جائیداد ضبطگی کا عمل شروع کردیا۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب سے پٹیشن سے متعلق جواب طلب کیا تھا لیکن نیب تاحال کوئی دستاویزات جمع کرانے میں ناکام رہا ہے۔

انہوں نے اپنی دائر پٹیشن میں موقف اختیار کیا کہ طعبیت خراب ہونے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے انہیں لمبے سفر کی اجازت نہیں دی اس لیے وہ پاکستان واپسی کا سفر کرنے سے قاصر ہیں۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے نیب کو اسحٰق ڈار کی طبی رپورٹ کی تصدیق کا حکم دیا تھا تاہم نیب تاحال حتمی رپورٹ جمع نہیں کراسکی۔

اسحٰق ڈار نے پٹیشن میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے درخواست کی کہ کسی بھی سخت کارروائی سے پہلے طبی رپورٹ سے متعلق تصدیق کرلی جائے۔

پٹیشن میں کہا گیا کہ ‘احتساب عدالت کی جانب سے اشتہاری قرار دینے کے فیصلے کو کالعدم کردیا جائے’ ۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسحٰق ڈار کیس میں ضامن احمد علی قدوسی کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے 31 دسمبر کو طلب کرلیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY