چیف جسٹس ثاقب نثار نے انتخابی اصلاحات ایکٹ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سوال کیا کہ کیا کوئی شخص جرم کرنے کے بعد جیل سے بھی پارٹی چلا سکتا ہے؟
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی پارٹی سربراہی سے متعلق انتخابی اصلاحات کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس دے رہے تھے۔
چیف جسٹس کے سوال پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ جی ہاں نیلسن منڈیلا کی مثال موجود ہے؎
چیف جسٹس نے کہاکہ نیلسن منڈیلا سیاسی وجوہات کی بنیاد پر سلاخوں کے پیچھے تھے ، وہ منشیات فروش یا ڈاکو نہیں تھے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت پر منظم انداز میں حملہ کرنا ان کی نظر میں آئین توڑنے کے مترادف ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ تمام لیڈرز کا احترام کرتے ہیں آج ایسی صورتحال کا سامنا ہے کہ کسی نے ایسا سوچابھی نہ تھا،تمام لیڈرز بہت اچھے ہیں، آئین کے محافظ کے طور پر ہمیں دیکھنا ہے کہ کہیں کوئی چور اچکا پارٹی سربراہ نہ بن جائے، عدالت آپ کے مؤکل پر آرٹیکل چھ نہیں لگا رہی۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا نااہل قرار دیا جانے والا شخص پارٹی چلا سکتا ہے؟ ایسے شخص سے ٹکٹ حاصل کرنے کے بعد ممبر بننے والا کیا نااہل شخص کے کنٹرول میں نہیں ہوگا؟نااہل شخص ایسے لوگوں کو کنٹرول کرے گا جو کام وہ خود نہیں کرسکتا؟جو لوگ نااہل نہیں ہیں ان کو نااہل شخص کنٹرول کرے گا ؟فرد واحد کے متعلق قانون سازی پر آپ کی رائے کیا ہے؟
چیف جسٹس نے دوران سماعت ن لیگ کے وکیل سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کوئی ایسی مثال ملتی ہے کہ کسی شخص نے سنگین جرم کرنے کے بعد جیل سے پارٹی چلا رہا ہو؟ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ جی ہاں نیلسن مینڈیلا ایسے ہی ایک شخص تھے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ نیلسن مینڈیلا سیاسی وجوہات کی وجہ سے سلاخوں کے پیچھے تھے، وہ منشیات فروش یا ڈاکو نہیں تھے ، انہوں نے اعتماد نہیں توڑا تھا۔
سلمان راجہ نے بھارت، امریکا ، برطانیہ اور جنوبی افریقہ سے عدلیہ کے فیصلوں کی مثالیں دیں تو عدالت نے قرار دیا کہ وہ پاکستان کے حالات میں درست حوالے نہیں ہیں،امریکا میں تو پرچم جلانا بھی آزادی اظہار رائے ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل کی سرزنش کرتے ہوئے کہ کہ ٹھنڈے ہوجاو اور عدالت کی بات سمجھو، نااہل شخص کو ایسے اختیارات حاصل ہوں گے وہ پارلیمانی نظام کا حصہ بن جائے گا۔
مسلم لیگ کے وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل مکمل کرلیے، کیس کی سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

SHARE

LEAVE A REPLY