لاہور ہائی کورٹ نے ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل طاہر حسن، سیکریٹری انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ، ریڈیو پاکستان لاہور کے سٹیشن ڈائریکٹر اور ایڈمنسٹریٹیو آفیسر، پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن داخلی نشریات (صدر دفتر اسلام آباد ) کے دو ڈپٹی کنٹرولرز کے نام لیگل نوٹس جاری کیا ہے ۔
اندرونی ذرائع کےمطابق لاہور ہائی کورٹ کےجسٹس جواد حسن نے ریڈیو پاکستان کے 24کنٹریکٹ ملازمین کی جانب سے 2018 میں دائر ایک پیٹیشن. پر طویل جرح کے بعد آرڈر پاس کیا تھا جس کے تحت مذکورہ ملازمین کو مستقل کرنے کا آرڈر پاس ہوا تھالیکن ریڈیو انتظامیہ نے طویل خاموشی اور سرد مہری کی چادر اوڑھے رکھی ۔۔
متاثرہ ملازمین جب ڈائریکٹر جنرل سے ملنے اسلام آباد صدر دفتر گئے تو ڈائریکٹر جنرل نے اس وفد سے ملنا گوارہ نہ کیا البتہ ایک تین رکنی ٹیم بنائی جس نے نہ تو ان متاثرہ ملازمین جن کی سروسز کو سٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان لاہور نے نہ صرف یہ کہ پی بی سی ہیڈ کوارٹر کی جانب سے جاری شدہ حکم کو سمجھا جانا بلکہ یکسر ان کنٹریکٹ ملازمین کے کنٹریکٹ کے اجرا کو روکا اور ان متاثرین سے مبینہ طور پر متاثرین کے بیان کے مطابق بدتمیزی بھی کی ۔
کورٹ کے اس آرڈر کے مطابق ملازمین کو سٹے آرڈر کا استحقاق حاصل تھا دوسری جانب متاثرہ فریقین کےوکیل ڈاکٹر خالد رانجھا نے ڈائریکٹر جنرل طاہر حسن، سیکریٹری اطلاعات ونشریات سہیل علی خان ، سٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان لاہور جاویداختر، ایڈمن آفیسرعمران رشید ملک اور ریڈیو پاکستان صدر دفتر شعبہ داخلی نشریات حافظ حفظ الرحمان کو لیگل نوٹس جاری کردیا ہے جس کے مطابق کہا گیا ہے کہ 24 کے قریب ملازمین کنٹریکٹ ملازمین ہیں نہ کہ ڈیلی ویجرز ہیں جس کا آرڈر معزز جج نے 31جنوری 2023 میں جاری کیا تھا۔
متاثرہ ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے کی غلط تشریح کرنے والے ملازمین کے خلاف قانونی دائرے میں رہتے ہوئے تادیبی کاروائی کی جائے۔کیونکہ اس سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ ملازمین کے حق کو بھی تسلیم کیا جائے۔













