سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کی بحالی کی درخواست اعتراضات لگا کر واپس کردی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں رائے اشتیاق احمد نامی شہری نے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کی بحالی کی درخواست دائر کی تھی۔
سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی طرف سے اعتراض عائد کیا گیا کہ درخواست گزار نے متعلقہ فورم کی دستیابی کے باوجود وہاں رجوع نہیں کیا جبکہ درخواست گزار متاثرہ فریق بھی نہیں۔
رجسٹرار آفس کا مزید کہنا ہے کہ درخواست میں آرٹیکل 184 تین کے اختیار کے استعمال کا کوئی آئینی جواز پیش نہیں کیا گیا۔
رجسٹرار آفس نے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کی بحالی کی درخواست اعتراضات لگاکر واپس کردی۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کی بحالی کیلئے پٹیشن تیار کرلی گئی۔
ذرائع کے مطابق عمران خان کی ہدایت پر دونوں اسمبلیوں کے اسپیکرز کی جانب سے پٹیشن تیار کرلی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبوں میں الیکشن کرانے کیلئے سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے۔
اس حوالے سے اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کا کہنا تھاکہ پنجاب اور کے پی کے میں الیکشن ہونے کی صورت میں پٹیشن دائر نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایک ہی دن الیکشن کچھ ماہ بعد کرانے کا فیصلہ آیا تو پٹیشن دائر کی جائے گی، الیکشن کچھ ماہ بعد ہوں تو نگران حکومت رہنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے، عوام کی منتخب کردہ ہی حکومت کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھاکہ پٹیشن میری اور اسپیکر کے پی کے مشتاق غنی کی جانب سے تیارکی گئی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر رواں سال جنوری میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے اسمبلی تحلیل کردی تھی، 18 جنوری کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی جانب سے اسمبلی توڑنے کی بھجوائی گئی سمری پر گورنر پختونخوا نے دستخط کیے تھے۔













