جنرل عسیری کو ڈپٹی انٹیلی جنس چیف کے عہدے سے ہٹا دیا گیا

0
643

سعودی عرب کی حکومت نے شاہی فرمان کے تحت جنرل انٹیلی جنس ادارے میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے ادارے کے ڈپٹی چیف جنرل احمد عسیری کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شاہی فرمان کے تحت کئی دوسرے عہدے داروں کو بھی بر طرف کر دیا گیا ہے۔

شاہی فرمان کے تحت شاہی دیوان کے مشیر سعود القحطانی بھی سبکدوش کردیے گئے ہیں۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان کی طرف سے کابینہ، ولی عہد اور دیگر اہم اداروں کے سربراہوں کو جاری کردہ حکم نامے میں جنرل احمد بن حسن بن محمد عسیری کو ڈپٹی انٹیلی جنس کے منصب سے ہٹانے اور شاہی دیوان کے مشیر سعود بن عبداللہ القحطانی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے احکامات دیے گئے ہیں۔
وائٹ ہائوس نے ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں لاپتا ہونے والے صحافی جمال خاشقجی کے کیس کے حوالے سے جاری تفتیش کے بارے میں کہا ہے کہ امریکا خاشقجی کیس کی فوری اور منصفانہ تحقیقات چاہتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے خاشقجی کیس کی ابتدائی رپورٹ جاری کیے جانے کے بعد وائٹ ہائوس کی طرف سے بھی رد عمل سامنے آیا ہے جس میں سعودی عرب کی تحقیقات کو مثبت قراردیا گیا ہے۔

وائٹ ہائوس کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں‌ کہا گیا ہے کہ امریکا خاشقجی کے کیس کی شفاف، منصفانہ اور فوری تحقیقات چاہتا ہے اور اس حوالے سے ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔

امریکا نے صحافی جمال خاشقجی کے سعودی قونصل خانے میں مارے جانے پر گہرے دکھ کا بھی اظہار کیا اور مقتول کے اہل خانہ اور دوستوں سے تعزیت کی ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کے پراسیکیوٹر جنرل نے اعلان کیا ہے کہ جمال خاشقجی کو سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہونے کے بعد لڑائی جھگڑے کے دوران ماردیا گیا ہے۔ سعودی عرب جمال خاشقجی کی موت کے ذمہ دار 18 افراد سے تفیش کر رہا ہے۔ یہ تمام افراد سعودی شہری ہیں اور انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY