شہباز شریف کا وزیراعظم کے طور پر پہلا دور صرف 16 ماہ تک محدود رہا۔ عمران خان کو عدم اعتماد کے ووٹ سے وزارتِ عظمی کی کرسی سے ہٹا کر جب وہ پہلی مرتبہ وزیراعظم بنے تو ان کے بڑے بھائی نواز شریف ملک میں موجود نہیں تھے۔
تین بار کے سابق وزیراعظم نواز شریف لندن میں تھے اور اس وقت ان کی حیثیت ایک سزا یافتہ مجرم کی تھی جو انتخابات میں حصہ لینے یا کوئی سرکاری عہدہ رکھنے کے اہل نہیں تھے۔
تاہم اتوار کے روز قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے لیے ہونے والے ووٹ کے دوران جب شہباز شریف وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کی حیثیت سے بیٹھے تھے تو نواز شریف بھی پاس ہی ایوان میں موجود تھے۔
نواز شریف قومی اسمبلی کے صرف ایک رُکن کے طور پر اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو دوسری مرتبہ پاکستان کا وزیراعظم بنتے دیکھ رہے تھے۔ ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی تاریخ میں ایسا منظر پہلی مرتبہ دیکھنے میں آ رہا تھا۔
سنہ 1997 کے بعد جب بھی ن لیگ اقتدار میں آئی ایسا کبھی نہیں ہوا کہ نواز شریف ملک میں ہوں، اہل بھی ہوں، الیکشن بھی جیت جائیں مگر پھر بھی وزیراعظم نہ بنیں۔ وہ ہر مرتبہ وزیراعظم بنے اور شہباز شریف صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے۔
پنجاب میں انھوں نے لگ بھگ 13 برس تک وزیراعلیٰ کے طور پر حکومت کی۔ سنہ 2008 سے 2018 تک دس برس کے ان کے دورِ حکومت میں ان کے بارے میں ایک ’سخت ایڈمنیسٹریٹر‘ ہونے کا تاثر سامنے آیا۔
اس دوران انھوں نے کئی بڑے منصوبے مکمل کیے اور کچھ شروع کیے۔ ان میں سے اورنج لائن جیسے کئی منصوبوں پر ان کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم ساتھ ہی ان کے بارے میں یہ تاثر بھی قائم ہوا کہ وہ ترقیاتی منصوبے کم وقت میں مکمل کرواتے ہیں۔
تاہم سنہ 2022 پہلی مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعد اپنے دورِ حکومت میں وہ ’سخت ایڈمنسٹریٹر‘ یا ’شہباز سپیڈ‘ جیسا کوئی تاثر قائم نہیں کر سکے۔ ماہرین کے مطابق نہ ہی شہباز شریف ’ملکی معیشت کو سنبھالنے‘ کی اس بات پر پورے اترے جس پر انھوں نے حکومت سنبھالی تھی۔
تاہم اگست 2023 میں اپنی حکومت کی مدت پوری ہونے پر شہباز شریف کا دعویٰ تھا کہ ’انھوں نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیا۔ جن حالات میں ان کو معیشت ملی وہ 17 مہینوں میں جتنی بہتر کی جا سکتی تھی انھوں نے کی ہے۔‘
شہباز شریف کیسے صوبے کے اقتدار سے ملک کے اقتدار کے مالک بنے اور پھر ن لیگ کے قائد نواز شریف کی موجودگی میں دوسری مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کی کرسی تک پہنچے، ان کے سیاسی سفر پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
جب شہباز شریف پہلی بار وزیراعظم بنے تو ان کے بڑے بھائی نواز شریف ملک میں موجود نہیں تھے
بزنس مین سے سیاستدان تک کا سفر
سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد خاندان کا کاروبار سنبھالا۔ صحافی سلمان غنی ایک طویل عرصے سے شریف خاندان اور ان کی جماعت کی سرگرمیوں پر رپورٹ کرتے رہے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ سنہ 1985 میں شہباز شریف لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر بنے تھے۔
’اس دور میں مجھے یاد ہے کہ ان کے پاس ایک شیراڈ گاڑی ہوا کرتی تھی اور وہ خود اس میں سامان رکھ کر اپنی جماعت کے کارکنوں تک پہنچایا کرتے تھے۔‘
سلمان غنی کے خیال میں میاں نواز شریف اور اُن کی جماعت کی سیاست کو بڑھاوا دینے میں شہباز شریف کا مرکزی کردار رہا ہے۔
’وہ بہت محنت کرتے تھے۔ خاندان میں بھی شروع ہی سے ان کے بارے میں یہ تاثر تھا کہ وہ محنتی اور انتہائی اچھے منتظم ہیں۔‘
کاروبار کو بڑھاوا دینے کے بعد انھوں نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا تو پہلی بار شہباز شریف سنہ 1988 کے انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے رُکن بنے۔
سنہ 1990 میں قومی اسمبلی اور سنہ 1993 میں دوبارہ پنجاب اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ اسی سال وہ صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی بنے۔
شہباز شریف: پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے ملک کی وزارتِ عظمٰی تک کا سفر
11 اپريل 2022
وزیراعظم شہباز شریف کے دورِ حکومت میں کتنی مہنگائی ہوئی اور پاکستان کی معاشی کارکردگی کیسی رہی؟
11 اگست 2023
حمزہ شہباز: سیاست میں تایا کا شاگرد جو سب کو ساتھ لے کر چلنے میں ماہر ہے
22 جولائی 2022
مشرف نے کہا ’شہباز شریف وزیرِاعظم ہوتے تو بہتر ہوتا‘
سنہ 1997 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن نے کامیابی سمیٹی تو شہباز شریف پہلی مرتبہ صوبہ پنجاب کے وزیرِاعلیٰ منتخب ہوئے۔ صحافی اور سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی اس دور کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مجیب الرحمان شامی نے بتایا کہ ’شہباز شریف طبعاً ایک محنت کرنے والے شخص تھے اور انھیں اپنا مقرر کیا گیا ہدف پورا کرنے کا جنون ہو جاتا تھا۔ اچھا منتظم ہونے کی وجہ سے انھوں نے پنجاب میں ایک اچھی ٹیم بنائی۔‘
شہباز شریف نے صوبے میں کئی منصوبے شروع کیے تاہم ان کی حکومت وقت سے پہلے اس وقت ختم ہو گئی جب اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے سنہ 1999 میں مارشل لا نافذ کر دیا اور سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے ساتھ ساتھ شہباز شریف کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
صحافی مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں کہ اس وقت جو بھی حالات بنے، ان میں شہباز شریف کا کوئی کردار ثابت نہیں ہوا تھا۔
’وہ بنیادی طور پر محاذ آرائی کے قائل نہیں تھے۔ ان کا ہمیشہ یہ مؤقف ہوتا تھا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ سمیت سب کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔‘
مجیب الرحمان شامی بتاتے ہیں کہ ایک موقع پر پرویز مشرف نے بھی کہا تھا کہ ’اگر وہ (شہباز شریف) وزیراعظم ہوتے تو بہتر ہوتا۔‘ تاہم شریف خاندان کے دونوں بھائیوں کے خلاف طیارہ ہائی جیکنگ اور غداری کے مقدمات قائم کیے گئے تھے۔
سنہ 1997 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن نے کامیابی سمیٹی تو شہباز شریف پہلی مرتبہ صوبہ پنجاب کے وزیرِاعلٰی منتخب ہوئے
مشرف سے ڈیل اور جلا وطنی
سنہ 2000 میں شریف خاندان کی فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ایک مبینہ ڈیل ہوئی جس کے بعد وہ جلا وطن ہو کر سعودی عرب چلے گئے۔
صحافی مجیب الرحمان شامی کے مطابق اس وقت بھی نواز شریف اور دیگر رہنماؤں کے خلاف جو مقدمات بنے، ان میں شہباز شریف کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہو پایا تھا۔
’وہ ملک سے جلا وطن نہیں ہونا چاہتے تھے اور انھوں نے بہت کوشش بھی کی کہ انھیں باہر نہ بھیجا جائے۔‘
صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی بتاتے ہیں کہ شہباز شریف نے جیل کے اندر سے بھی اپنے بڑے بھائی نواز شریف کو کئی خط لکھے۔
’ان خطوط میں وہ نواز شریف کو یہی مشورہ دیتے رہے کہ ہمیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکراؤ نہیں کرنا چاہیے۔‘
سلمان غنی کہتے ہیں کہ شہباز شریف کے چند ایسے خطوط ان کی نظر سے بھی گزرے۔
’اس کے بعد سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور کی کوششوں سے نواز شریف اور شہباز شریف سعودی عرب سے لندن منتقل ہو گئے۔‘
وزارتِ اعلیٰ کی کرسی کا کھیل
شریف خاندان سنہ 2007 میں پاکستان واپس آیا تو اگلے ہی برس ملک میں عام انتخابات ہوئے۔ شہباز شریف ان انتخابات میں حصہ نہ لے سکے۔ ان کے خلاف سنہ 1998 میں لاہور کے علاقے سبزہ زار میں ماورائے عدالت قتل کے ایک واقعے میں ایف آئی آر درج تھی۔
اس ایف آئی آر میں ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے بطور وزیرِ اعلیٰ اس ’پولیس مقابلے‘ کا حکم دیا تھا جس میں چند افراد پولیس کے ہاتھوں مبینہ مقابلے میں مارے گئے تھے۔
شہباز شریف کی غیر موجودگی میں سنہ 2003 میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ان کو نوٹس جاری کیے تھے۔ سنہ 2004 میں شہباز شریف نے اس مقدمے میں عدالت میں پیش ہونے کے لیے پاکستان واپس آنے کی کوشش کی تھی تاہم انھیں ایئرپورٹ ہی سے واپس بھیج دیا گیا تھا۔
اسی برس عدالت میں پیش نہ ہونے کی بنا پر عدالت نے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے تھے۔ سنہ 2007 میں شہباز شریف پاکستان واپس آئے تو انھیں اس مقدمے میں عدالت سے ضمانت لینا پڑی تھی تاہم عام انتخابات تک وہ اس مقدمے سے بری نہ ہو سکے۔
شریف خاندان سنہ 2007 میں پاکستان واپس آیا تو اگلے ہی برس ملک میں عام انتخابات ہوئے
اس لیے انھوں نے ضمنی انتخاب میں حصہ لیا۔ وہ بھکر سے کامیاب ہو کر ایک مرتبہ پھر پنجاب کے وزیرِاعلیٰ منتخب ہوئے، تاہم اگلے ہی برس سپریم کورٹ نے ان کو نااہل قرار دے دیا۔
شہباز شریف نے اس فیصلے کے خلاف ایک لارجر بینچ میں درخواست دائر کی۔ دو ماہ بعد فیصلہ ان کے حق میں آیا اور وہ دوبارہ وزیرِاعلیٰ کی کرسی پر بحال ہو گئے۔













