بعض اوقات نان ایشو کو ایشو بنانے میں ماہر عالمی میڈیا کو اربعین یا چہلم امام حسینؑ کے لئے نجف سے کربلا رواں دواں کروڑوں زائرین کے سمندر بلین مارچ کو نظر انداز کرکے بھرپور کوریج نہ دینا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک خاص ایجنڈے کے تحت عالمی میڈیا میں موجود ایک لابی اسلام اور نواسہ رسول ص کے نام پرامن بلین مارچ کی تشہیر نہیں کرنا چاہتا۔۔۔جب کہ یہی عالمی میڈیا مٹھی بھر دہشت گردوں داعش القاعدہ طالبان یعنی اسلام کے نام پر بدنما چہرے کے خبروں کو بہت زیادہ کوریج دیتا ہے۔۔۔جو ایک لمحئہ فکریہ ہے؟؟
ہم یہاں اس تحریر کے زریعے عوام کے سمندر اور زائرین کے اس پرامن بلین مارچ نجف تا کربلا اربعین کے بارے میں آگاہ کرنے کی کوشش کریں گے۔۔
چہلم یا اربعین کےلئے دنیا بھر سے زائرین کا سمندر اور
بلین مارچ کربلا کی طرف رواں دواں ہیںابھی بیس صفر المصفر کا دن نہیں آیا لیکن
رپورٹس کے مطابق عراق کے مختلف شہروں سے پا پیدا اور دنیا بھر سے امام حسینؑ
کے چاہنے والے والے کروڑوں زائرین کربلا معلی پہنچ چکے ہیں۔
یہ ایسے وقت میں ہے جب دہشت گرد تکفیری گروہنام نہاد دولت اسلامیہ فی عراق و شام داعش اصل دولت
امریکائی فی عراق و شام کے دھمکیاں اور زائرین پر حملے و دھماکے جاری ہیں۔۔لیکن پھر بھی لبیک یا حسینؑ کی صدائیں بلند کرتے زائرین کا سمندر بچے خواتین بزرگ مرد و زن کربلا کی طرف رواں دواں ہیں
اور وقت کے یزیدیوں داعش کو شریکتہ الحسین ؑ بی بی زینب س کا دربار یزید لعین میں دیا جانے والا
تاریخی خطبہ یاد دلا رہے ہیں ۔۔کہ اے یزید لعین(یعنی ہر زمانے کے یزید) تو چاہے جتنا جتن کرلیں ہمارا اہلبیتؑ کا زکر تو نہیں مٹا سکتا۔۔۔اس تاریخی خطبے کی تصویر یہاں منسلک کی جارہی ہے۔
سال رواں چہل یا اربعین کو دنیا بھر میں موجود اسلامی سکالرز علما اور دینی و عزاداری تنظیموں نے مقامات مقدسہ عراق و سیریا بالخصوص مزار شریکتہ الحسینؑ بی بی زینب س دمشق سوریا کے حرمت و دفاع کے عنوان سے منانے کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ
بی بی زینب س ،رسول اللہ ص کی نواسی اور حضرت امام حسینؑ کی بہن جنہں کربلا کے بعد افواج یذیدی نے دیگر خواتین و بچوں کے ہمراہ قید کرکے شام و کوفہ کے زندانوں اور بازروں میں اسیر کیا لیکن
بی بی زینب س نے اپنے والد علیؑ اور نانا محمد ص کی شجاعت اور دین کے دفاع کے لئے خطبے دے کر یذید لعین اور بنی امیہ کو بے نقاب کردیا۔ آجکل اس دور کے یذیدی امریکہ اسرائیل اور دور حاضر کے خواراج و تکفیری نسل یزید ملعون نام نہاد دولت اسلامیہ یا داعش القاعدہ و طالبان مل کر بی بی زینب س کے مزار دمشق سوریا کو مسمار کرنا چاہتے ہیں لیکن دنیا بھر میں موجود حسینیؑ و زینبیؑ کردار والے باضمیر لوگ اس شیطانی مثلث امریکہ اسرائیل اور دور حاضر کے خواراج و تکفیری داعش القاعدہ طالبان کو علامہ اقبال کا یہ شعر یاد دلا کر کہتے ہیں کہ امام حسینؑ و سیدہ زینب س کی یاد اور ان کے مزارات تا قیامت دنیا بھر کے حریت پیسندوں کے لئے مشعل راہ رہیں گے۔
حدیث عشق دو باب است کربلا و دمشق
یک حسینؑ رقم کرد و دیگر زینب س
نیلسن مںڈیلا کے لئے کربلا و امام حسین ؑآئیڈیل:-
افریقہ کو آزادی اور حریت اور نسلی امتیاز کا خاتمہ کرنے والے عظیم رہنما
نیلسن منڈیلا نے اپنی کامیابی کا سہرا امام حسین ع اور کربلا کو آئیڈئل
قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ
جب جیل میں میں یعنی نیلسن منڈیلا کی اسیری بیس سال سے زائد ہوئی تو ایک
رات میں نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ کل صبح حکومت کے تمام تر شرائط مان کر
دستخط کرکے تسلیم ہو جاؤ ، لیکن اچانک اسی رات مجھے کربلا اور امام حسین
کی یاد نے ہمت باندھی کہ جب امام حسین نے کربلا میں نامناسب حالات کے
باوجود ظلم و یزیدیت کی بیعت نہیں کی تو میں نیسلن منڈیلا کیوں ظلم کے
آگے تسلیم ہو جاؤ اسلئے میری کامیابی کا راز کربلا اور امام حسین کو
آئیڈئل قرار دینا ہے۔۔
امام حسین ؑ کے انقلاب کی تازگی کا اثر دیکھئے کہ کربلاو عراق سے عراقی
عوام کی مزاحمت کی وجہ سے اس زمانے کا یذید امریکہ بھاگنے پر مجبور کر
شکست سے دوچار ہوا۔ اور کربلا میں روضئہ حسینؑ کی طرف ہر سال چہلم کے حوالے
سے کئی ملین افراد زائرین کے سمندر کا جمع ہونا اس بات کا عہد کرتے ہیں
کہ ہم ہر زمانے کے یذید کے
خلاف لڑتے رہیں گے۔
عراق پر جب یذید وقت امریکہ نے اپنے ہی پالے ہوئے پٹھو صدام کی حکومت کے خاتمے
اور کیمیائی ہتھیاروں کے بہانے چرھائی کرکے ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ ڈالے تو
دوسری طرف عراقی عوام نے اس دور کے یذید امریکہ
کے سامنے جھکنے کی بجائے امام حیسنؑ کی عزاداری اور ماتم کی طاقت و فلسفے سے
ظلم و یذیدیت کے خلاف آواز اٹھا کر آخر کار امریکہ کو عراق چھوڑنے پر مجبور
کیا۔ عراق میں عاشورا اور چہلم کے موقع پر لاکھوں حتی
کہ چہلم و اربعین شہدائے کربلا کے موقع پر پاپیادہ عزاداروں
کے کربلا کی طرف مارچ و عزاداری اور لبیک یا حسینؑ، حسینت ذندہ باد و یذیدیت
مردہ باد کے نعروں نے وہاں ڈیوٹی پر مقیم امریکی فوجیوں کے نفسیات پر اثر ڈالا
اور یوں امریکی افواج میں امریکی حکومت کے خلاف بغاوت پیدا ہونے کے ڈر سے
امریکہ عراق سے دم بھگا کر بھاگ گیا یقینا امریکہ کا عراق سے بھاگ جانا ٹام
جیسے سینکڑوں فوجیوں کی نفسیات پر اثر اور ان
کے دل میں عزاداری و ماتم امام حسینؑ کی وجہ سے جنگ مخالف جذبات پیدا ہوئے
،ٹام کا خط سن دو ہزار تین میں مختلف میڈیا ذرائع و اخبارات بشمول پاکستان کے
روزنامہ ڈان کے سنڈے ایڈیشن میں بھی دس سال پہلے شائع ہوا۔ جس کے ایک
پیراگراف کا یہاں
ترجمہ و تفصیل یہاں قارئین کے لئے دی جا رہی ہے۔
ٹام لکھتے ہیں۔۔میری ماں، میں آپ کا بیٹا ٹام ہوں، اور یہ کربلا شہر کے ایک
بیرک یا مورچے میں میری ڈیوٹی کا تیسرا دن ہے۔یہاں ایک مقدس مقام زیارات کی
طرف لوگ جا رہے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ مقدس مقام یا زیارت ان کے نبی (حضرت
محمد ص) کے نواسے کی اس قربانی کی یاد میں بنایا گیا ہے کہ آپ (امام حسینؑ) نے
اپنے خاندان کے تمام مرد بشمول چھ ماہ کے شیر خوار کو اللہ کی راہ میں قربان
کیا۔ماں۔ میں بھی ہوسٹن امریکہ سے بہت دور اس صحرا میں آیا ہوں، لیکن میں
جانتا ہوں کہ میں یہاں اللہ کی رضا کے لئے نہیں آیا بلکہ میں اور میرے دوسرے
ساتھی(امریکی فوجی) ہم سب یہاں اسلئے ہیں کہ ہمارے صدر (امریکی صدر) نے ہمیں
یہاں مامور کیا ہے۔*
ٹام کے اس خط سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح عراق سے امریکہ کی
ذلالت بھری شکست میں سید الشہدا اور امام حسینؑ کی عزاداری نے اہم کردار ادا
کیا۔ کیونکہ عراق میں سینکڑوں امریکی فوجی نفسیاتی و ذہنی مریض بن گئے تھے۔
دوسری طرف مشرق وسطی میں حزب اللہ اور انقلاب اسلامی
نے سیرت امام حسینؑ کے فلسفے پر عمل پیرا ہو کر یذیدیت کی نیندیں حرام
کردی ہیں۔جس کی تازہ ترین مثال یذید وقت امریکہ کی سربراہی میں دنیا بھر کی باطل
قوتوں حتی کہ اوائل اسالام اور پھر دور یذید ملعون کی طرح خواراج و یذیدی قوتوں
آج کی القاعدہ و طالبان کا امریکی امامت میں دمشق میں اسرائیل مخالف شام حکومت
کے خلاف بغاوت کا بازار گرم کرکے شریکتہ الحسینؑ بی بی زینب سلام اللہ علیہ کے
دمشق میں واقع مزار کی خواراج القاعدہ طالبان کی طرف سےبے حرمتی کی کوشش کرنے
لیکن یہ یذیدی قوتیں دربار یذید لعین میں بی بی زینب س کا تاریخی خطبہ
بھول گئیے ہیں جس
کا زکر ذیل میں آئے گا کہ اے یذید لعین یعنی ہر دور کے یذید تم جتنی بھی
کوشش کروں ہماری
اہلبیت ؑ محمد ص و آل محمد ؑ کی یاد تم دلوں سے نہیں نکال سکتے۔۔
۔۔انشااللہ عراق کی طرح دمشق و سوریا سے بھی
یذید وقت امریکہ اور خواراج و یذیدی قوتوں
آج کی القاعدہ و طالبان کا امریکی امامت میں دمشق میں اسرائیل مخالف شام حکومت
کے خلاف بغاوت نام نہاد جہاد ناکام و نامراد ہوگا۔۔بقول علامہ اقبال
حدیث عشق دو باب است کربلا و دمشق
یک حسینؑ رقم کرد و دیگر زینب س
جس طرح روز عاشوارا میدان کربلا میں امام حسینؑ اور آپ کے باوفا جانثاروں
نے قربانیاں دے کر اسلام کو تا ابد ذندہ جاوید کرکے محرم و عاشورا کو امر
کر دیا۔اسی طرح چہلم یا صفر المظفر کا مہینہ خانوادہ اہلبیتؑ کے پاک و
مطہر بیبیوں کا دین حق کی خاطر قربانیاں دینا ہے۔یہی وجہ ہےکہ امام خمینی
ؒ فرماتے ہیں کہ محرم اور صفر ہی نے اسلام کو ذندہ کردیا۔جب کہ حکیم
الامت علامہ اقبالؒ جو بہترین کربلا شناس تھے وہ تحریک کربلا کو دو
ابواب میں تقسیم کرکے یذیدیت کی نابودی اور حسینت کی فتح کا امام حسین
علیہ سلام و شریکتہ الحسینؑ سیدہ زینب سلام اللہ علیہ سے منسوب کرکے
فرماتے ہیں کہ
حدیث عشق دو باب است کربلا و دمشق
یک حسین رقم کرد و دیگری زینب
بچون و جوانوں کی طرح کربلا میں خواتین کا بھی کردار رہا ہےلیکن سب سے
اہم کردار خواتین ہی کا ہے کیونکہ حسینؑ و اصحاب حسینؑ کو شہید کرنے کے
بعد یذید لعین و بنی امیہ نے اپنے اجداد کے راستے پر چلتے ہوئے اتنا منفی
پروپیگنڈہ کر رکھا تھا کہ نعوز باللہ امام حسینؑ باغی تھے اور خلیفہ وقت
یذید ملعون کے خلاف بغاوت کی تھی۔۔لیکن یہ امام حسینؑ کی شیردل بہہن سیدہ
زینب سلام اللہ علیہ جسے شریکتہ الحسینؑ بھی کہا جاتا ہے کا بحثیت سالار
قافلہ اسیران کربلا کردار ہی تھا ۔کہ شریکتہ الحسینؑ سیدہ زینب سلام اللہ
علیہ نے دیگرمخدارات عصمت و طہارت خواتین و بچوں سمیت کربلا سے کوفہ و
شام کے بازاروں و زندانوں میں علی علیہ سلام کے لہجے میں خطبے سناکر اور
بازاروں میں ماتم حسینؑ برپا کرکے جلوس عزاداری اور ظالموں کے خلاف
احتجاج کی بنیاد ڈال کر یذید ملعوں اور بنی امیہ کے منفی پروپیگنڈے کو
خاک میں ملا دیا۔اس سلسلے میں دربار ابن ذیاد و یذید لعین دمشق میں
شریکتہ الحسینؑ سیدہ زینب سلام اللہ علیہ کے خطبوں نے یذیدیت کو تاقیامت
رسوا و بے نقاب کرکے لعنت کا حقدار ٹہرایا۔۔یہی وجہ ہے کہ حکیم الامت
علامہ اقبالؒ جو بہترین کربلا شناس تھے وہ تحریک کربلا کو دو ابواب میں
تقسیم کرکے یذیدیت کی نابودی اور حسینت کی فتح کا امام حسین علیہ سلام و
شریکتہ الحسینؑ سیدہ زینب سلام اللہ علیہ سے منسوب کرکے فرماتے ہیں کہ
حدیث عشق دو باب است کربلا و دمشق
یک حسین رقم کرد و دیگر زینب
علامہ اقبالؒ کے اس شعر کا ترجمہ و تفسیر اگر کرنا چاہے تو معروف دانشور
علی شریعتی کی زبان میں اس طرح کیا جا سکتا ہے۔۔کہ جو شہید ہو چکے انہوں
نے حسینی کام انجام دیا جو ذندہ ہے انہیں زینبی کام انجام دینا چاہیے،جو
نہ حسینی کام انجام دے اور نہ ہی زینبی کام وہ یذیدی ہیں۔
یہاں شام و کوفہ کے بازاروں میں بی بی زینب س کے خطبات سے چند اقتباسات
دئیے جا رہے ہیں ،جس سے میدان کربلا میں خواتین کا کردار واضح تر ہو جائے
گا۔
شریکتہ الحسینؑ سیدہ زینب سلام اللہ علیہ نےشام دمشق کے یذیدی درباروں
اور بازاروں میں یادگار خطبے دیے۔
شام کےزندان کو اپنے مظلوم بھائی کے عزاخانے میں تبدیل کردیا اور اس طرح
ستمکاروں کے محل لرزنے لگے۔
ابن زیاد ملعون اس باطل خیال میں تھا کہ ایک خاتون اس قدر مصائب اور رنج
و آلام دیکھ کر ایک جابر ستمگر کے سامنے جو اب دینے کی سکت و جرأت نہیں
رکھتی،کہنے لگا:اُس خدا کا شکرگزار ہوں جس نے آپ لوگوں کو رسوا
کیا،تمہارے مردوں کو مارڈالا اور تمہاری باتوں کو جھوٹا ثابت کیا’’علی کی
بیٹی نے کمال عظمت کے ساتھ اس سرکش ظاغوت کی طرف حقارت بھری نظروں سے
دیکھا اور فرمایا یابن مرجانہ۔۔یاد رہے کہ ابن ذیاد لعین کی ماں مرجانہ
اس وقت عرب کی زانی خواتین میں مشہور تھی اور یہ بھی مشہور تھا کہ ابن
ذیاد حرام ذادہ ہے ،لیکن اس کے باوجود یذید ملعون نے ابن ذیاد کو اپنا
منہ بولا بیٹا بناکر گورنر بنایا تھا:تعریفیں اُس خدا کیلیے ہیں جس نے
ہمیں اپنے پیغمبرص کے ساتھ منسوب کرکے عزت بخشی آلودگی و ناپاکی سے دور
رکھا اور تجھ جیسے ویران گر شخص کو رسوا کردیا۔
دربار یذید لعین دمشق میں ،حضرت زینب سلام اللہ علیہا کاتاریخی خطبہ
زینب (س)اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہراء (س)کی طرح ظالموں کے سامنے آواز
بلند کرکے صدائے احتجاج بلند کرتی ہیں ، بھرے دربار میں خدا کی حمدو
ستائش کرتی ہیں اور رسول(ص) و آل رسول (علیہ سلام) پر درود بھیجتی ہیں
اور پھر قرآن کی آيات سے اپنے خطبہ کا اس طرح آغاز کرتی ہیں :
یزید تویہ سمجھتا تھا کہ تونے زمین و آسمان کو ہم پر تنگ کردیا ہے تیرے
گماشتوں نے ہمیں شہروں شہروں اسیری کی صورت میں پھرایا تیرے زعم میں ہم
رسوا اور تو باعزت ہوگیا ہے ؟ تیرا خیال ہے کہ اس کام سے تیری قدر میں
اضافہ ہوگیا ہے اسی لۓ ان باتوں پر تکبر کررہا ہے ؟ جب تو اپنی توانائی و
طاقت (فوج) کو تیار دیکھتا ہے اور اپنی بادشاہت کے امور کو منظم دیکھتا
ہے تو خوشی کے مارے آپے سے باہر ہوجاتا ہے ۔
تو نہیں جانتا کہ یہ فرصت جو تجھے دی گئی ہے کہ اس میں تو اپنی فطرت کو
آشکار کرسکے کیاتو نے قول خدا کو فراموش کردیا ہے ۔ آیت کافر یہ خیال نہ
کریں کہ یہ مہلت جو انھیں دی گئي ہے یہ ان کے لۓ بہترین موقع ہے ، ہم نے
ان کو اس لۓ مہلت دی ہے تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور اضافہ کرلیں ، پھر
ان پر رسوا کرنے والا عذاب نازل ہوگا ۔
کیا یہ عدل ہے تیری بیٹیاں اور کنیزیں باعزت پردہ میں بیٹھیں اور رسول
ص کی بیٹیوں کو تو اسیر کرکے سربرہنہ کرے ، انہیں سانس تک نہ لینے دیا
جاۓ ، تیری فوج انھیں اونٹوں پر سوار کرکے شہر بہ شہر پھراۓ ؟ نہ انہیں
کوئي پناہ دیتا ہے ، نہ کسی کو ان کی حالت کاخیال ہے ، نہ کوئی سرپرست ان
کے ہمراہ ہوتا ہے لوگ ادھر ا دھر سے انہیں دیکھنے کے لۓ جمع ہونے ہیں
، لیکن جس کے دل میں ہمارے طرف سے کینہ بھرا ہوا ہے اس سے اس کے علاوہ
اور کیا توقع کی جاسکتی ہے ؟
تو کہتا ہے کہ کاش جنگ بدر میں قتل ہونے والے میرے بزرگ موجود ہوتے اور
یہ کہہ کر تو فرزند رسول (ص) سید الشہدا امام حسین علیہ سلام کے دندان
مبارک پر چھڑی لگا کر بے حرمتی کرتا ہے ؟ کبھی تیرے دل میں یہ خیال نہیں
آتا ہے کہ تو ایک گناہ اور برے کام کا مرتکب ہوا ہے ؟ تونے آل رسول (ص)
اور خاندان عبدالمطلب بنی ہاشم کا خون بہا کر اپنے آپ کو ابوجہل و
ابوسفیان کی اولاد بنی امیہ ثابت کیا ہے۔
خوش نہ ہو کہ تو بہت جلد خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوگا ، اس وقت یہ تمنا
کرے گا کہ کاش تو اندھا ہوتا اور یہ دن نہ دیکھتا تو یہ کہتا ہے کہ اگر
میرے بزرگ اس مجلس میں ہوتے تو خوشی سےاچھل پڑتے ، اے اللہ تو ہی ہمارا
انتقام لے اور جن لوگوں نے ہم پرستم کیا ہے ان کےدلوں کو ہمارے کینہ سے
خالی کردے ،خداکی قسم تو اپنے آپے سے باہر آ گیا ہے اور اپنے گوشت کو
بڑھالیا ہے ۔
جس روز رسول (ص)خدا ،ان کے اہل بیت (ع) ، اور ان کے فرزند رحمت خدا کے
سایہ میں آرام کرتے ہوں گے تو ذلت و رسوائی کےساتھ ان کے سامنے کھڑا ہوگا
۔یہ دن وہ روز ہے جس میں خدا اپنا وعدہ پورا کرے گا وہ مظلوم و ستم دیدہ
لوگ جو کہ اپنے خون کی چادر اوڑھے ایک گوشے میں محو خواب ہیں ، انہیں جمع
کرے گا ۔
خدا خود فرماتا ہے : ” راہ خدا میں مرجانے والوں کو مردہ نہ سمجھو بلکہ
وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کی نعمتوں سے بہرہ مند ہیں ، تیرے باپ
معاویہ نے تجھے ناحق مسلمانوں پر مسلط کیا ہے ، جس روز محمد (ص) داد خواہ
ہوں گے اور فیصلہ کرنے والا خدا ہوگا ، اور عدالت الہی میں تیرے ہاتھ
پاؤں گواہ ہوں گے اس روز معلوم ہوگا کہ تم میں سے کون زیادہ نیک بخت ہے ۔
اگر تو یہ سمجھتا ہے کہ تونے ہمارے مردوں کو شہید اور ہمیں اسیر کرکے
فائدہ حاصل کر لیا ہے تو عنقریب تجھے معلوم ہوجاۓ گا کہ جسے تو فائدہ
سمجھتا ہے وہ نقصان کے سوا کچھ نہیں ہے ، اس روز تمہارے کۓ کے علاوہ
تمارے پاس کچھ نہ ہوگا ، تو ابن زیاد سے مدد مانگے گا اور وہ تجھ سے ، تو
اور تیرے پیروکار خدا کی میزان عدل کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔
تجھے اس روز معلوم ہوگا کہ بہترین توشہ جو تمہارے اجداد نے تیرے لۓ جمع
کیا ہے وہ یہ ہے کہ تو نے رسول (ص) خدا کے بیٹوں کو قتل کردیا ۔
قسم خدا کی میں خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتی اور اس کے علاوہ کسی سے
شکایت نہیں کرتی ، جو چاہو تم کرو ، جس نیرنگی سے کام لینا چاہو لو ،
اپنی ہردشمنی کا اظہار کرکے دیکھ لو ، قسم خدا کی جو ننگ کا دھبہ تیرے
دامن پر لگ گيا ہے وہ ہرگز نہ چھوٹے گا ، ہر تعریف خدا کے لۓ ہے جس نے
جوانان بہشت کے سرداروں حسن و حسین علیہ سلام کو کامیابی عطا کی ، جنت کو
ان کے لۓ واجب قرار دیا ،
میدان کربلا میں بچوں بزرگوں اور خواتین کا نمایاں کردار ہمیں آج کی
کربلا یا دور حاضر میں اپنا کردار ادا کرنے کا سبق دیتے ہے بقول شاعر
لب فرات پہ اب بھی جنگ جاری ہے
کوئی حسین کے لشکر میں آئے حر کی طرح
محسن انسانیت امام حسین علیہ سلام نے میدان کربلا میں اپنے انصار و اصحاب سمیت
تاقیامت انسانی اقدار کو بچانے کے لئے ایسی لازاول قربانی دی جس کی نظیر ملنا
مشکل ہے،یہی وجہ ہے کہ نواسہ رسول ص ،محسن انسانیت حضرت امام حسینؑ کی یاد
تمام باشعور و حریت پسند انسانوں میں بغیر کسی تفریق مذہب رنگ و نسل آباد ہے
اور انشا اللہ تاقیامت یاد رہے گی۔امام حسین علیہ اسلام نے راہِ خدا و اسلام،
راہِ حق و عدالت، اور جہالت و گمراہی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے انسانوں کو
آزاد کرنے کے لئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔کیا یہ چیزیں کبھی پرانی اور فراموش
ہونے والی ہیں؟ ہر گز نہیں
حضرت امام حسین (ع) نہ صرف مسلمانوں کے دلوں میں مقام و منزلت رکھتے ہیں بلکہ
تما م مذاہب اسلامی اور غیر اسلامی آپ کو ایک مرد آزاد کے عنوان سے پہچانتے
ہیں۔اور آپ کے لیے کچھ خاص خصوصیات کے قائل ہیں۔ ہم یہاں پر بعض غیر اسلامی
دانشوروں اور مورخین کے اقوال امام حسین (ع) سلسلے میں نقل کرتے ہیں
*لبنان سے تعلق رکھنے والے عیسائی سکالر انٹویا بارا* کہتے ہیں۔ کہ اگر ہمارے
ساتھ حسین(امام حسینؑ) جیسی ہستی ہوتی تو ہم دنیا کے مختلف حصوں میں امام
حسینؑ کے نام کا پرچم لے کر مینار تعمیر کرکے لوگوں کو عیسائیت کی طرف بلاتے،
لیکن افسوس عیسائیت کے پاس حسین نہیں۔
*انگلستان کے مشہور سکالر و ناول نگارچارلس ڈکسن* کہتے ہیں کہ میں نہیں سمجھتا
کہ حسین(امام حسینؑ) کو کوئی دنیاوی لالچ تھی یا اگر ایسا ہوتا تو حسین( امام
حسینؑ) اپنا سارا خاندان بچے و خواتین کیوں دشت کربلا میں لاتے۔ کربلا میں
بچوں و خواتین سمیت آنا یہ ثابت کرتا ہے کہ حسین( امام حسینؑ) نے فقط اسلام
اور رضائے الہی کے لئے قربانی دی۔
* :
ع۔ ل۔ پویڈ لکھتے ہیں:*حسین(امام حسینؑ)نے یہ درس دیا ہے کہ دنیا میں بعض
دائمی اصول جیسے عدالت، رحم، محبت وغیرہ پائے جاتے ہیں کہ جو قابل تغییر نہیں
ہیں۔ اور اسی طریقے سے جب بھی کوئی برائی رواج پھیل جائے اور انسان اس کے
مقابلے میں قیام کرے تو وہ دنیامیں ایک ثابت اصول کی حیثیت اختیار کر لے گا۔
گذشتہ صدیوں میں کچھ افراد ہمیشہ جرأت ،غیرت اور عظمت انسانی کو دوست رکھتے
رہے ہیں ۔اور یہی وجہ ہے کہ آزادی اور عدالت، ظلم و فساد کے سامنے نہیں جھکی
ہے ۔حسین(امام حسینؑ) بھی ان افراد میں سے ایک تھے جنہوں نے عدالت اور آزادی
کو زندہ رکھا۔ میں خوشی کا احساس کر رہا ہوں کہ میں اس دن ان لوگوں کے ساتھ جن
کی جانثاری اور فداکاری بے مثال تھی شریک ہوا ہوں اگرچہ ۱۳ سو سال اس تاریخ کو
گزر چکے ہیں۔
*۔امریکہ کا مشہور ومعروف مورخ اپرونیک، واشنگٹن* سے لکھتا ہے۔حسین(امام
حسینؑ)کے لیے ممکن تھا کہ یزید کے آگے جھک کر اپنی زندگی کو بچا لیتے۔
لیکن امامت کی
ذمہ داری اجازت نہیں دی رہی تھی کہ آپ یزید کو ایک خلیفۃ المسلمین کے عنوان سے
قبول کریں انہوں نے اسلام کو بنی امیہ کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے ہر طرح کی
مشکل کو خندہ پیشانی سے قبول کرلیا۔ دھوپ کی شدت طمازت میں جلتی ہوئی
ریتی پر حسین(امام
حسینؑ) نے حیات ابدی کا سودا کر لیا ، اے مرد مجاہد، اے شجاعت کے علمبردار،
اور اے شہسور، اے میرے حسین(امام حسینؑ”)”::
*برصیغر کے معروف رہنما مہاتما گاندھی* کہتے ہیں۔۔کہ اسلام بذور شمشیر نہیں
پھیلا بلکہ اسلام حسین(امام حسینؑ) کے قربانی کی وجہ سے پھیلا اور میں نےحسین(امام
حسینؑ) سے مظلومیت کے اوقات میں فتح و کامرانی کا درس سیکھا ہے۔
گویا انگریزوں سے پاکستان و ہندوستان کی آزادی بھی امام حسینؑ کی قربانی سے
سبق لینے کی وجہ سے ہے۔ ایک طرف گاندھی برمالا اس بات کا اقرار کرتا ہے تو
دوسری طرف *بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح *کے والد پونجا جناح اور بعد
میں خاندان کے ساتھ جناح کے حوالے سے یہ بات مشہور ہے کہ ان کی عاشورا کے دن
امام حسینؑ کے شبیہہ ذوالجناح کے وسیلے سے دعا پوری ہونے(کیونکہ قرآن میں بھی
اللہ سے دعا مانگنے کے لئے وسیلہ تلاش کرنے کا حکم ہے) کی وجہ سے یہ خاندان
محب اہل بیت ؑ اور پیروکاران سید الشہدا امام حسینؑ بن گئے تھے، یہی وجہ ہے کہ
پاکستان کی مخالفت کرنے والے عناصر اور بات بات پر کفر کے فتووے لگانے والے
اسلام کے لبادے میں یذید ملعون کے پروکار مٹھی بھر فسادی ٹولے اورفسادی ملاؤں
نے اس وقت قائد اعظم کو بھی کافر اعظم(نقل کفر کفر نہ باشد) کہہ کر پکارا اور
آج بھی یہی مٹھی بھر خارجی و فسادی ٹولہ پاکستان میں اسلام کے نام پر فساد
برپا کر رہا ہے۔
کربلا شناس و حکیم الامت علامہ اقبال نے سن اکسٹھ ہجری اور اکیسویں صدی کی
یذیدیت کو بے نقاب کرتے ہوئے فرمایا
عجب مذاق ہے اسلام کی تقدیر کے ساتھ
کٹا حسینؑ کا سر نعرہ تکبیر کے ساتھ
اسی طرح آج کے دور اکیسیویں صدی کے ٰیزید وقت امریکہ کے ایجنٹ اسلام کے نام پر
جہاد بنام فساد کی صورت میں ہو ان خواراج و یذیدان عصر کی اسلام دشمنی اور
فتنہ کے بارے میں بھی اقبال نے پیشن گوئی کی تھی۔اور یوں برملا اظہار کیا تھا۔
ناحق کے لئے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ
ا*مام حسینؑ اور عزاداری کی طاقت وجہ سے عراق سے امریکی افواج کا انخلا۔۔
امریکی فوجی ٹام کا عراقی شہر کربلا سے اپنی مام(ماں۔ امریکی شہرہوسٹن) کے
نام خط۔۔*
عراق پر جب یذید وقت امریکہ نے اپنے ہی پالے ہوئے پٹھو صدام کی حکومت کے خاتمے
اور کیمیائی ہتھیاروں کے بہانے چرھائی کرکے ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ ڈالے تو
دوسری طرف عراقی عوام نے اس دور کے یذید امریکہ
کے سامنے جھکنے کی بجائے امام حیسنؑ کی عزاداری اور ماتم کی طاقت و فلسفے سے
ظلم و یذیدیت کے خلاف آواز اٹھا کر آخر کار امریکہ کو عراق چھوڑنے پر مجبور
کیا۔ عراق میں عاشورا اور چہلم کے موقع پر لاکھوں حتی
کہ چہلم و اربعین شہدائے کربلا کے موقع پر ایک کروڑ سے ذیادہ پاپیادہ عزاداروں
کے کربلا کی طرف مارچ و عزاداری اور لبیک یا حسینؑ، حسینت ذندہ باد و یذیدیت
مردہ باد کے نعروں نے وہاں ڈیوٹی پر مقیم امریکی فوجیوں کے نفسیات پر اثر ڈالا
اور یوں امریکی افواج میں امریکی حکومت کے خلاف بغاوت پیدا ہونے کے ڈر سے
امریکہ عراق سے دم بھگا کر بھاگ گیا یقینا امریکہ کا عراق سے بھاگ جانا ٹام
جیسے سینکڑوں فوجیوں کی نفسیات پر اثر اور ان
کے دل میں عزاداری و ماتم امام حسینؑ کی وجہ سے جنگ مخالف جذبات پیدا ہوئے
،ٹام کا خط سن دو ہزار تین میں مختلف میڈیا ذرائع و اخبارات بشمول پاکستان کے
روزنامہ ڈان کے سنڈے ایڈیشن میں بھی دس سال پہلے شائع ہوا۔
*ٹام لکھتے ہیں۔۔میری ماں، میں آپ کا بیٹا ٹام ہوں، اور یہ کربلا شہر کے ایک
بیرک یا مورچے میں میری ڈیوٹی کا تیسرا دن ہے۔یہاں ایک مقدس مقام زیارات کی
طرف لوگ جا رہے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ مقدس مقام یا زیارت ان کے نبی (حضرت
محمد ص) کے نواسے کی اس قربانی کی یاد میں بنایا گیا ہے کہ آپ (امام حسینؑ) نے
اپنے خاندان کے تمام مرد بشمول چھ ماہ کے شیر خوار کو اللہ کی راہ میں قربان
کیا۔ماں۔ میں بھی ہوسٹن امریکہ سے بہت دور اس صحرا میں آیا ہوں، لیکن میں
جانتا ہوں کہ میں یہاں اللہ کی رضا کے لئے نہیں آیا بلکہ میں اور میرے دوسرے
ساتھی(امریکی فوجی) ہم سب یہاں اسلئے ہیں کہ ہمارے صدر (امریکی صدر) نے ہمیں
یہاں مامور کیا ہے۔*
ٹام کے اس خط سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح عراق سے امریکہ کی
ذلالت بھری شکست میں سید الشہدا اور امام حسینؑ کی عزاداری نے اہم کردار ادا
کیا۔ کیونکہ عراق میں سینکڑوں امریکی فوجی نفسیاتی و ذہنی مریض بن گئے تھے۔
دوسری طرف اس خط نے صیہونی زیر اثر امریکی حکومت اور ان کے عوام حتی کہ افواج
میں موجود بعض ذندہ ضمیر افراد کے جنگ مخالف اقدامات اور حال ہی میں امریکہ
میں شروع کی جانی والی وال سٹریٹ قبضہ کروں تحریک نے دراصل امام خمینیؒ کے کئی
دہائی پہلے اس فرمان کہ ہم امریکی عوام کے نہیں بلکہ امریکہ کے انسان دشمن
پالیسیوں کے مخالف ہیں۔۔اور امام خمینیؒ کے اس فرمان کو دنیا نے عراق اور
افغانستان پر امریکی چڑھائی کے بعد لاکھوں امریکیو کا ماریکی پالیسیوں کے کلاف
احتجاج کی سورت میں مشاہدہ کیا اور جس کا حال ہی میں ایک اور عبرت آموز واقعہ
بیس امریکی ریاستوں کا امریکہ سےآزادی کا مطالبہ کرنا ہے۔جس طرح کربلا شناس
امام خمینیؒ کے گورباچوف کے نام ایک خط نے روس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے اسی طرح
کربلا کے مکتب کے پروردہ نظریہ ولایت فقیہہ کے مطابق رہبر و رہنما امام
خمینیؒ اور اس کے پیشرو سید علی خامنہ ای کے پہلے سے جاری مشاہدات اور پیشن
گئوئیوں کے مطابق بہت جلد یذید وقت امریکہ بھی اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے،
اور وہ وقت دور نہیں۔کیونکہ اس سال محرم کے آغاز میں امریکی ایما پر اسرائیل
کی طرف سے غزہ پر بربریت و یزیدیت ہی امریکہ کو لے ڈوبی گی۔ یہی وجہ ہے کہ
امام خمینیؒ نے کربلا اور عاشورا کی طاقت بتاتے ہوئے فرمایا تھا کہ لوگ ہمیں
محرم میں رونے والے( گریہ و فریاد ماتم و عزاداری کرنے والے) کہہ کر مذاق
اڑاتے تھے لیکن ان انسوؤں کی طاقت سے ہم نے کئی صدیوں پر محیط شاہی نظام اور
اس کے سرپرست شیطان بزرگ امریکہ کا بستر گول کرکے بساط لپیٹ کر شکست دےدی،
ہمارے ساتھ جو کچھ بھی ہے وہ کربلا کی وجہ سے ہے اسلئے کربلا و عاشورااور محرم
و صفر (چہلم یا اربعین حسینؑ)کو ذندہ رکھیں۔دو ہزار چھ میں اسرائیل کو بدترین
شکست دینے والے حزب اللہ لبنان کے سربراہ حسن نصر اللہ سے جب کسی صحافی نے
سوال کیا کہ آپ کی کامیابی کا راز کیا ہے تو حسن نصر اللہ نے جواب دیا۔دو ہی
وجہ ہیں ایک اپنے دور کی کربلا و عاشورا کو ذندہ کرکے ماتم و عزاداری حسینؑ سے
درس حریت لینا اور دوسرا تہران میں بیٹھے میرے رہبر ولی فقیہہ امر المسلمیں
آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے حکم و مشورے کی اطاعت کرنا۔ گویا لبنانی ہو کر
بھی حسن نصر اللہ حکیم الامت و کربلا شناس علامہ اقبالؒ کی اس پیشن گوئی کی
تفسیر کررہے ہیں، اور ہم بحثیت پاکستانی اب تک علامہ اقبالؒ کو نہ سمجھ سکیں۔۔
دیکھا تھا افرنگ نے اک خواب جینیوا
ممکن ہے کہ اس خواب کی تعبیر بدل جائے
تہران ہو گر عالم مشرق کا جینیوا
شاید کہ کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے
عراق سے امریکی کی ذلت آمیز پسپائی عزاداری اور ماتم امام حسینؑ کی طاقت جیسا
کہ امریکی فوجی ٹام کے خط سے واضح ہے کے علاوہ امام خمینیؒ کے اس فرمان کہ
محرم تلوار پر خون کی فتح کا مہینہ ہے۔ یذید وقت امریکہ کے ساتھ تمام تر قوت
تھی لیکن وہ اس قوت اور اسلحے سے فتح حاصل نہ کرسکیں بلکہ عراق کے نہتے عوام
نے سید الشہدا امام حسینؑ کے فلسفے اور عزاداری کی طاقت سے امریکہ کے عزائم
خاک میں ملا کر تلوار پر خون کی فتح رقم کرکے اکسٹھ ہجری کی طرح اکییسویں صدی
میں بھی اس شعر کی عملی تفسیر کردی اور اسی طرح کی بدترین شکست امریکہ
اسرائیل اور ان کے اتحادی تکفیری مٹھی بھر دہشت گرد خواراج القاعدہ و
طالبان کو سیریا یا شام میں نواسی رسول ص بی بی زینب س کے مزار کی تباہی
کی نیت اور اسرائیل کی حمایت میں اسرائیل مخالف شام کی حکومت کے خلاف نام
نہاد جہاد کے دوران فلسطین کی حامی مزاحمت اسلامی اور حزب اللہ کے ہاتوں
بدترین شکست بھی کربلا آئیدیا لوجی کی فتح ہے بقول شاعر۔
قتل حسینؑ اصل میں مرگ یذید ہے
اسلام ذندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ
تحریر و ترتیب۔ ایس ایچ بنگش













