اسلام میں میاں اور بیوی کے حقوق(55) شمس جیلانی

0
1064

گزشتہ مضمون میں ہم یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے اسلام اور ترقی یافتہ ممالک میں سب سےبڑا ختلاف یہ ہے کہ وہ دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں؟ لہذا بچے گھر بار دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہیں ،دونوں کمائیں تو کام چلے گا۔ جبکہ ا سلام میں کمانے اور گھرکاخرچہ پورا کرنے کی ذمہ داری باپ کی ہے؟ بیوی گھر پر اور بچوں پر ایک پیسہ بھی خرچ کرنے کی ذمہ دار نہیں ہے ۔ البتہ وہ اگر پنی مرضی سے کمائے اور کچھ گھر پر یابچوں پر بھی خرچ کردےتو وہ دہرے ثواب کی مسحق ہوگی ۔ایک ا للہ کی راہ میں خرچ کرنے کا ثواب دوسرا صلہ رحمی کا ثواب یعنی اپنوں پر خرچ کرنے کا۔ پھر آگے چلکر ایک فرق اور ہے کہ سولہ سال کابچہ یا بچی ہوجا ئے توماڈرن دنیا میں معیوب سمجھا جاتا ہے اگر وہ کوئی کام نہ کرے اور والدین کے سر پر بار بنا رہے چاہے وہ لڑکی ہو یا لڑکا؟ لہذا دیکھا گیاہے کہ عام طور بچے اس عمر کے بعد والدین کےگھر پیر پریشر کی بناپر چھوڑدیتے ہیں؟ کہ اب ہمیں پراویسی چاہیے ہے؟ جب کہ اسلام میں بچہ ،بچہ ہے چاہیں کسی عمر کو بھی پہنچ جا ئے؟ لہذا یہ وہ کاروباری مسائل ہیں جو دونوں اپنے پنے طریقہ پر حل کرتے ہیں۔ جو اسلامی طریقہ پر پرورش پاتے ہیں ان سے آپ یہ توقع کر سکتے ہیں کہ وہ آپ کی خدمت کر یں ،خیال رکھیں؟ اور والدین کی قیامت میں شفاعت بھی کریں؟ حدیث میں ہے کہ جو بچے بچپن میں ا نتقال کرگئے ہونگے تو وہ واالدین کو جنت میں لے جانے کے لیے اللہ تعالیٰ سے جھگڑیں گے جبکہ وہ بچے کیا شفاعت کریں گے جنہیں ماں اورباپ نے اپنے دنیاوی عیش عشرت کے لیے ضائع کردیاہو ؟ یعنی ابارشن وغیرہ کرایا ہو وہ تو اسلام کے مطابق اس بچی کی طرح اللہ کے پاس وہ فریادی ہونگے کہ ا نہیں کس جرم میں قتل کیا گیا؟ اور االلہ سے اس دن انصاف چاہیں گے؟
یہاں آپ میرے یہ کہنے سے غلط تاثر نہ لے لیں کہ بیویوں کا گھر بیٹھنا ہی صرف اسلام ہے۔ اگر ایک کی تنخواہ میں گزارا نہیں ہوتا ہے اور وہ اپنی مرضی سے کام کرکے گھر اور بچوں پر خرچ کرنا چاہتی ہیں تو اس کا انہیں دہراثواب ہے۔ اس کی سند یہ ہے کہ ایک مرتبہ حضور (ص) نےراہ خدا میں خرچ کرنے کی بہت تعریف اور بڑا ثواب بیان فر مایا، تووہ بیویاں جوکہ شوہر کا ہاتھ بٹانے میں مصروف رہتی تھیں اس تشویش میں مبتلا ہوگئیں کہ ہم تو سب بال بچوں ،گھراور شوہر پر خرچ کردیتے ہیں ہمارے پاس کچھ بچتا ہی جو راہ خدا میں دیں اور ثواب کمائیں؟ ان میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی زوجہ محترمہ بھی شامل تھیں۔ جنہیں کئی ہنر آتے تھے اور اس سے جوکچھ بھی آمدن ہوتی تھی وہ گھر پر خرچ کر دیتی تھیں؟ کیونکہ حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) سارا دن دینی علم کے حصول اوراس کو دووسروتک پہنچانے میں مصروف رہتے تھے۔ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے سامنے اپنی یہ تشویش ظاہر کی تو انہوں کہا کہ آج سے تم سب راہ خدا میں دیدیاکرو، انشا اللہ ہمیں رزق اللہ دیگا ۔ انہوں نے کہا کہ اایسے نہیں، آپ جاکر حضور(ص) سے یہ مسئلہ معلوم کر کےآئیں؟ انہوں نے کہا کہ پوچھنے بھی آپ ہی جائیں! وہ جب تشریف لے گئیں تو حضور(ص) حجرے میں تھے۔ حضرت بلال (رض) باہر تشریف لائے تو ان کے ذریعہ یہ سوال معلوم کرایا جبکہ یہ ہی معلوم کرنے کہ لئے ایک ا نصار خاتون بھی تشریف لائی ہوئی تھیں؟ حضور (ص) نے کہلا بھیجا کہ ان سے کہنا کہ ا ن کے لیے دہرا ثواب ہے ایک اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا اوردوسرا صلہ رحمی یعنی اپنوں کے اوپر خرچ کرنے کا؟
اس حدیث کی روشنی میں جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ کام کوئی شخص کسی کے لیے کرے جو اس کی بنیادی ذمہ داری نہ ہو تو، وہ “احسان“ میں آتا ہے۔ اور قر آن کہہ رہا ہے کہً “احسان کابدلہ احسا ن ہے“اس طرح بیوی اور بھی بہتر سلوک کی مستحق ہوجاتی ہے۔ جبکہ یہاں دوسری حدیث دیکھیں تو حضور (ص) کاارشاد ہے کہ سب سے بہتر مسلمان وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہے اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے زیادہ اچھا ہوں؟ کچھ روایتوں میں گھر کے بجا ئے “ بیوی“ بھی ہے۔ اس طرح بیوی شوہر کی مدد کرکے اس کی محسنہ ہوجاتی ہے۔اور شوہر کو بیوی کے کاموں میں مدد کرنا چاہیے۔ بغیر جتا ئے ہوئے ؟ کیونکہ احسان کر کے جتانے سے ثواب ضائع ہوجاتا ہے اور جتانے والے کو پتہ بھی نہیں چلتا؟ یہ ہمارا سب کا روز مرہ کامشاہدہ ہے کہ اگر کوئی کسی کے ساتھ بھلائی کرتا ہے تو طعنے دے دے کر مارڈالتا ہے۔ شوہر ہے تو گھر میں داخل ہو تے ہی کہتا ہے کہ تمہیں میرا ذرا خیال نہیں ہے میں تمہارے لیے کما کما کر مرا جارہا ہوں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ جو کچھ بھی کر رہا ہے یہ بطورِ شوہراس کی ذمہ داری ہے ۔ کیونکہ اگر رزقِ حلال کماکر وہ ایک نوالہ بھی بیوی کے منہ ڈالتا ہے تو وہ بھی ثواب ہے۔ اسی طرح بیوی بھی کرکے جتاتی ہے۔ تو اپنا ثواب گنواتی ہے۔ اگر مسلمان جوڑے اسلام پر عامل ہو جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ ہر گھر جنت بن جا ئے گا؟ لیکن بقول حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہ “ دین کے بغیر عمل بیکار ہے اور عمل کے بغیر دین“ (باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY