اعظم سواتی کا معافی نامہ مسترد, عہدے سے استعفیٰ دینے کا حکم

0
121

چیف جسٹس پاکستان نے سینیٹر اعظم سواتی کا معافی نامہ مسترد کرتے ہوئے عہدے سے استعفیٰ دینے کا حکم دیتے ہوئے نوٹس جاری کردیا۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں اسنپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد جان محمد کے تبادلے پر لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم پارلیمنٹ کی بے حد عزت کرتے ہیں لیکن طاقت کا اس طرح استعمال نہیں ہونے دیں گے، اس ملک کو چلانے کے لیے نیک اور پارسا لوگ چاہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کے زبانی حکم پر ہونے والا آئی جی کا تبادلہ روک دیا

چیف جسٹس نےا ستفسار کیا کہ آئی جی صاحب بتائیں آپ نے پرچہ درج کیوں نہیں کیا؟

جس پر آئی جی نے جواب دیا کہ میں ملک سے باہر تھا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا اس معاملے میں دوسرا پرچہ درج ہوسکتا ہے؟ اگر ہوسکتا ہے تو آج ہی درج کریں، ان کے ساتھ وہ سلوک کریں جو عام شہری کے ساتھ ہوتا ہے یہی رول آف لا ہے۔

اس موقع پر متاثرہ خاندان میں عدالت میں پیش ہوا جس نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ میں غریب بندہ ہوں،ظلم ہوا لیکن میں نے پاکستان کے ناطے اعظم سواتی کو معاف کردیا۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ نے معاف کردیا تو کریں،ہم تحقیقات کریں گے، کوئی جرگے کی صلح صفائی کو ہم نہیں مانتے، اعظم سواتی اپنے ظلم کو تسلیم کریں اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

اس کے ساتھ چیف جسٹس نے مذکورہ معاملے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس معاملے پر جے آئی ٹی تشکیل دے رہے ہیں، جے آئی ٹی میں نیب،آئی بی اور ایف آئی اے کے بہترین افسران شامل کریں گے۔

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے میں آرٹیکل 62 ون ایف کا جائزہ بھی لیں گے۔

مذکورہ مقدمے میں سینیٹر اعظم سواتی کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے جس پر چیف جسٹس نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ علی ظفر آپ ہر بڑی شخصیت کی طرف سے عدالت میں پیش ہونے آجاتے ہیں، یہ بتائیں کہ آپ کا لائسنس کتنے دنوں کےلیے معطل کروں۔

SHARE

LEAVE A REPLY