وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) پنجاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آن لائن بینکنگ فراڈ کے الزام میں 15 مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا۔

آن لائن بینکنگ فراڈ میں ’دھوکا دہی‘ کے ذریعے مبینہ طور پر لوگوں کو لاکھوں روپے سے محروم کیا گیا جبکہ ان متاثرہ افراد میں کچھ تعلیم یافتہ افراد بھی شامل ہیں۔

اس حوالے سے ایف آئی اے پنجاب کے ایڈیشنل ڈائریٹکر سائبر کرائم حماد رضا قریشی نے ڈان کو بتایا کہ ’ ہمارے پاس ایک ایسا کیس آیا جس میں ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کو دھوکا دیا گیا اور جس شخص نے جعل سازی کے ذریعے بینک تفصیلات (کریڈٹ/ڈیبٹ کارڈ کے پن کوڈ) حاصل کی اس نے خود کو صوبیدار (ایک نان کمیشن فوجی اہلکار) ظاہر کیا اور متاثرہ شخص کو بینک میں موجود رقم سے محروم کردیا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ میں نے ریٹارڈ فوجی افسر سے یہ بات پوچھی کہ ایک سمجھ دار شخص ہونے کے باوجود آپ نے جعل ساز کو اپنے بینک کی معلومات کیسے فراہم کردی‘۔

حماد قریشی نے بتایا کہ ایک اور کیس میں ’جعل ساز‘ نے ایک پروفیسر کو امریکا میں آن لائن نوکری کی پیش کش کرکے 12 لاکھ روپے ہتھیا لیے جبکہ ’ہم حیران ہیں کہ کس طرح پڑھے لکھے لوگ ان آن لائن فراڈ کا شکار ہورہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ آن لائن بینکنگ فراڈ میں اضافہ ہوا ہے اور تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ دونوں افراد اس کا شکار ہوئے ہیں‘، تاہم ایف آئی اے پنجاب نے سرگودھا اور چنیوٹ سے اس فراڈ میں ملوث ہونے کے الزام میں 13 افراد کو گرفتار کرلیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم مختلف شکایات پر کام کررہے ہیں لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ لوگ کسی کو اپنے بینک کی تفصیلات فراہم نہیں کریں یہاں تک کہ کوئی خود کو بینک کا عہدیدار ہی ظاہر کیوں نہ کرے‘۔

حماد قریشی کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں کو جعل سازوں کی جانب سے اس طرح کی کالز کہ وہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام یا کسی اور گیم کے تحت کار یا نقد انعام جیتے ہیں کا جواب نہیں دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’زیادہ تر کیسز میں ایف آئی اے کے سامنے یہ بات آئی کہ اس طرح کی کالز میں جعلی شناخت کی سمز کا استعمال کیا گیا لہٰذا اس صورتحال سے آگہی بہترین حل ہے جس سے خود کو آن لائن فراڈ سے محفوظ کیا جاسکتا ہے‘۔

SHARE

LEAVE A REPLY