پاکستان نے ایک قدم اٹھاتے ہوئے کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم عمران خان 28 نومبر کو راہداری کھولنے کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔
پاکستانی حکومت نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے کرتار پور راہداری کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، اس بات کا اعلان وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنی ایک ٹویٹ میں کیا۔
اپنی ٹویٹ میں وزیر خارجہ نے لکھا کہ پاکستان بھارت کو کرتار پور راہداری کھولنے سے متعلق پہلے ہی آگاہ کر چکا ہے، بابا گرونانک کے 550ویں سالگرہ پر کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران کان 28 نومبر کو کرتار پور راہداری کھولنے کا سنگ بنیاد رکھیں گے، پاکستان اس موقع پر سکھ برادری کو شرکت کیلئے خوش آمدید کہتا ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ کرتار پور سرحد کھولنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، اس کی تجویز سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کے دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تجویز دی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن کی بات کرتا ہے اور بھارت، افغانستان دونوں کے ساتھ امن کے خواہاں ہیں، اسی امن کی خواہش کے پیش نظر پاکستان نے یہ تجویز دی تھی، کرتا پور راہداری کا سب سے زیادہ فائدہ سکھ برادری کو ہوگا۔
ادھر بھارتی کابینہ نے بھی سرحد کے نزدیک پاکستانی علاقے میں واقع گرودوارہ دربار صاحب تک سکھ یاتریوں کو رسائی دینے کے لیے خصوصی کوریڈور تعمیر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
بھارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بھارتی پنجاب کے ضلع گرداسپور میں ڈیرہ بابا نانک سے پاکستان کی سرحد تک راستہ تعمیر کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ راستہ بنانے کا مقصد بھارتی سکھ یاتریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے جو گردوارہ دربار صاحب کرتار پور کی زیارت کے لیے جانا چاہتے ہیں۔ ارون جیٹلی کا کہنا تھا کہ بھارتی ریلوے اس سلسلے میں ایک ٹرین چلائے گی جو بابا گرونانک سے وابستہ مقامات سے گزرے گی۔













