نواز شریف کے خلاف ریفرنسز آخری موڑ پر پہنچ گئے، وکیل خواجہ حارث نے جواب الجواب مکمل کرلئے۔ جج ارشد ملک نے فریقین کو آج ایک بجے تک کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کر دی جس کے بعد فیصلہ محفوظ کیے جانے کا امکان ہے۔
احتساب عدالت میں نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ وکیل خواجہ حارث نے کہا نواز شریف نے کیپٹل ایف زیڈ ای سے تنخواہ وصولی کبھی تسلیم نہیں کی، کیپٹل ایف زیڈ ای میں نواز شریف کا عہدہ اعزازی تھا، شروع دن سے یہی موقف رہا کہ نواز شریف نے کبھی تنخواہ نہیں لی، سپریم کورٹ نے قابل وصول تنخواہ کو اثاثہ قرار دیا، کیپٹل ایف زیڈ ای میں ملازمت صرف ویزہ مقاصد کے لیے تھی۔
سماعت کے دوران خواجہ حارث نے جہانگیر ترین کیس کا بھی حوالہ دیا۔ جج ارشد ملک نے استفسار کیا اگر تنخواہ سے متعلق موقف درست بھی مان لوں تو اس کا کیس سے کیا تعلق ؟ خواجہ حارث نے کہا تعلق یہ بنتا ہے کہ نواز شریف کی صرف ملازمت ثابت ہو رہی ہے ملکیت نہیں، جسٹس آصف سعید کھوسہ کی 20 اپریل والے فیصلے پر نظرثانی نہ کرنے کا بھی جواب دیتا ہوں، عدالت کا اکثریتی فیصلہ ہی ہمیشہ اصل فیصلہ مانا جاتا ہے، 3 ججوں نے جے آئی ٹی بنوائی اور فیصلہ بھی جے آئی ٹی رپورٹ دیکھ کر دیا، ان 3 ججوں کے فیصلے پر 28 جولائی کو پانچوں ججوں نے دستخط کیے، اسی 5 رکنی بینچ کے 28 جولائی کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دی تھی۔
فلیگ شپ ریفرنس میں نیب پراسیکیوٹر نے حتمی دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا ملزمان کو صفائی دینے کے تین تین موقع دیئے گئے مگر انہوں نے جائیداد کے ذرائع نہیں بتائے۔ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر بولے فلیگ شپ سے نواز شریف کو 7 لاکھ 80 ہزار درہم کے مالی فوائد ملے اور یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے۔













