مارے واسطے ہر آرزو کانٹوں کی مالا ہے
ہمیں تو زندگی دے کر خدا نے مار ڈالا ہے
ادھر قسمت ہے جو ہر دم نیا غم ہم کو دیتی ہے
ادھر ہم ہیں کہ ہر غم کو ہمیشہ دل میں پالا ہے

گیت لکھنے والے کو ہندی، ہندوستانی اور اردو میں گیت کار کہتے ہیں۔ جیسے نغمہ لکھنے والے کو نغمہ نگار کہتے ہیں۔

گیت ‘‘ جسے ہم عام زبان میں گانا بھی کہتے ہیں۔گیت کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں ردیف و قافیہ کی پابندی ہو یا نہ ہو اس میں نغمگی ، ترنم یا جسے ہم آہنگ بھی کہتے ہیں وہ بے حد ضروری ہے ۔ہر وہ جملہ گیت ہے جس میں آہنگ ہو ۔ سینہ بہ سینہ ،نسل در نسل گیت منتقل ہوتے آئے ہیں ۔ لیکن انہوں نے کبھی بھی تحریری لباس کا سہارا نہیں لیا کیوں کہ گیت کا تعلق بصارت سے زیادہ سماعت سے ہے ۔گیت غنائی شاعری کا سب سے زیادہ عوام پسند اور قدیم ترین روپ ہے۔’’ گیت مزاجاً نسوانیت کے غنائی اظہارکی ایک صورت ہے۔۔

گیت کا تعلق ہندی شاعری سے ہے بے شک اردوگیت نگاری ہندی گیت سے متاثر رہی ہے لیکن اردو گیت کا خود اپنا وجود اور اپنی خصو صیات ہیں۔بحر کیف جن دنوں شاعر دبے کچلے طبقوں اور سماج کی برائییوں پر اپنی توجہ دے رہے تھے ان دنوں شکیل بدایونی نے خود کو اس روایت سے الگ کرتے ہوئے ایسے گیت لکھے جو دل کی گہرائیوں کو چھو جاتے ہیں۔بہت کم لوگ ہوتے ہیں جنہیں کامیابی پہلے قدم پر ہی مل جاتی ہے تنویر نقوی ان میں سے ایک ہیں۔

کچھ نہ ہوگا اُداس رہنے سے
تو بدل دے ہوا زمانے کی
پھڑ پھڑا خود ہی ٹوٹ جائیں گے
تتلیاں تیرے قید خانے کی

تنویر نقوی کی غزل ہو یا گیت ایک اِیسا لہجہ چھپا ہے جس کی تقلید ہمارے عہد کے شاعروں نے کی ہے ۔گیت میں جو الفاظ تنویر نقوی نے استعمال کئے وہ امر ہوگئے ہیں ۔
آواز دے کہاں ہے دنیا میری جواں ہے
غزل میں رچاؤ محبت چاشنی کا استعمال تنویر نقوی نے جو کیا وہ منفرد اور لا زوال ہے ۔جمالیاتی شاعری کے لئے اُنہوں نے زبان کو بھی رومانی پیکر میں ڈھالا ۔تنویر نقوی کا نام اُردو زبان سے واقفیت رکھنے والوں کے لئے اجنبی نہیں ۔اُن کی ادبی خدمات کا سلسلہ گذشتہ پانچ دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے ۔مشاعر ے ہوں یاگیت لکھنے کا کام تنویر
نقوی نے اپنا سکہ جمائے رکھا ۔

تنویر نقوی نے جو سخن بھی رقم کئے اور اُن کے لئے جن الفا ظ کا استعمال کیا اُن کی معنوی وسعت اور تہہ داری سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔تنویر نقوی نئی تراکیب و تشبہات گڑھنے کے بجائے بالعموم عام روایتی اور مروجہ تراکیب و تشبہات اور علامتوں کو استعمال کرتے ہیں ۔اِن میں بیشتر وہ تراکیب اور تشبہات ہیں جو استعمال کی یکسانیت کی وجہہ سے اپنا کیف،تاثر اور اہمیت کھو چکی تھیں ۔تنویر نقوی نے اِن تمام الفاظ و تراکیب اور تشبہات کا منظر نامہ ہی بد ل دیا ۔یعنی الفاظ تو وہی رہے لیکن تنویر نقوی کے یہاں وہ ایک نئے معنی اور نئی حیت کی نشان دہی کرتے ہیں ۔

اب مجھ کو فکرِتنگیِ داماں نہ رہا
دامن کو شکواہ ہے کہ گلستاں نہیں رہا
لوٹا رہا ں ہوں سانس جو تونے عطا کئے
اب تیرا مجھ پہ احساں نہیں رہا

مطالعہ تنویر نقوی کے سلسلے میں ایک پہلو یہ بھی غور طلب ہے کہ تنویر نقوی نے غزل کی مروجہ شعر یات کو توڑا اوراپنی نرم لے کے باوجود اُسے روایات کی گھٹن سے نکال کر زندگی کی تازگی فرحت اور دل کشی سے آشنا کیا لیکن ابھی اُن کے اِس contribution کی اہمیت کا پورا اندازہ کرنا مشکل ہے اِس لئے کہ جو فن کار اپنے عہد کے مروجہ اُصولوں کو توڑتا یا اُس سے بغاوت کرتا ہے اُس کی صیح قدر کا تعین خود اُس کے عہد میں مشکل ہوتا ہے ۔اُس پودے کی کونپلیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خود نکلتی ہیں اور نئے نئے گوشوں سے روشنی آشنا ہوتی ہے ۔تنویر نقوی کے یہاں ہر جگہ زندگی کی ایک نئی کرن نئی اُمنگ ،نئے جذبے نظر آتے ہیں اُن کی زندگی شامِ غریباں کی سیاہی بنی رہی مگر وہ دوسروں کو زندگی روشنی کا درس دیتے ہیں ۔اُن کا مطالعہ بہت وسیع ہے ۔لفظ ہاتھ باندھے کھڑے ہیں کہ تنویر نقوی انہے رقم کردے ۔

برصغیر پاک و ہند کی فلمی تاریخ میں ایسے شعراء بہت کم ملتے ہیں جو غزل گوئی میں بھی منفردمقام کے حامل تھے اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے فلمی گیت نگاری میں بھی اپنے نام کا ڈنکا بجایا۔ پاکستان میں اس حوالے سے تنویر نقوی
نے نغمہ نگاری کے ساتھ ساتھ غزل کا دامن کبھی نہیں چھوڑا اسی وجہہ سے ان کی شاعری منفرد اور خوبصورت ہے ۔اپنی صلاحیتوں کو منوایا اور نغمہ نگاری میں بھی شہرت حاصل کی۔

ان کے فلمی گیتوں میں خیالات کی نازکی سے بخوبی اندازا لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسے تخلیق کار کے قلم سے وجود میں آئے ہیں جوغزلیہ شاعری کا گہرا ادراک رکھتا ہے اور جس نے تمام رموز سامنے رکھ کر اپنے تجربات اشعار کے قالب میں ڈھالے ہیں۔

تنویر نقوی کی غزلیات پڑھ کر فوری طور پر تو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر ایک رومانوی شاعر ہیں۔ ان کے اشعار میں شعری طرز احساس اور جمالیاتی طرز احساس کا بڑا خوبصورت امتزاج ملتا ہے لیکن پھر ان کے بعد قاری اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ان کی شاعری کے کئی رنگ ہیں اور کئی جہتیں ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری کا کینوس محدود نہیں رکھا۔ ان کی قوت مشاہدہ اور قوت متخیلہ شاندار شاعری کے روپ میں قاری کے سامنے آشکار ہوتی ہے… وہ مشاعروں کے بڑے کامیاب شاعر تھے اور ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ مشاعرہ لوٹ لیتے تھے۔

کچھ ایسی ہوا صحن گلستاں میں چلی ہے
گوشے میں نشیمن کے بھی آرام نہیں ہے
ہمرنگِ زمیں دام ہیں کیوں تم نے بچھائے
صیاد! پرندوں کی نظر خام نہیں ہے

تنویرنقوی کی شاعری معانی کی بلاغت اورجامعیت کے ساتھ ترسیل کرتی ہے۔تنویر نقوی دوسرے شاعروں کے الفاظ مہارت،انفرادیت اورموزونیت کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔انھوں نے روایتی رموزو علائم کونئے معانی دیے جس سے ان کی معنویت فزوں تر ہوئی ۔

تنویر نقوی کی ادبی اور فلمی شاعری کی کامیابی کی ایک وجہ یہ نظر آتی ہے کہ تنویر نقویر سر تا پا شاعر تھے، بلکہ یوں کہیئے کہ شاعری ان کی شخصیت پر پوری طرح سے حاوی تھی اور اگر ان کی زندگی سے شاعری کو منہا کر دیں تو میزان میں باقی کچھ بھی نہیں بچتا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی اپنی ذات کے ساتھ مخلص ہو جائے تو پھر وہ دوسروں کے ساتھ بھی مخلص ہو جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ساحر اپنی ذات سے زیادہ اپنی شاعری سے مخلص تھے یہی وجہ ہے کہ ان کی فلمی شاعری میں بھی جگہ جگہ فلمی نغمہ نگار نہیں بلکہ تنویر نقوی
بولتا ہوا نظر آتا ہے۔

اردوادب میں اعلیٰ مقام رکھنے والے شاعر تنویر نقوی کا شمار پاکستان اور ہندوستانی فلمی صنعت کے سینئر نغمہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ جذبات و احساسات کی خوبصورت ترجمانی نے تنویر نقوی کو شہرہ آفاق مقبولیت دی۔

اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ ہندوستان اور پاکستانی فلمی صنعت میں نابغہ روزگار نغمہ نگار پیدا ہوئے جن کے شاندار گیتوں نے ایک عہد کو متاثر کیا اور آج بھی ان کے لکھے ہوئے گیت دل کے تاروں کو چھو لیتے ہیں۔

تنویر نقوی کی شاعری صرف فلمی شاعری نہ تھی بلکہ تخلیقی شاعری تھی۔اگر اسے فلم سے الگ کر کے پڑھا اورچھاپا جائے توادبی رنگ میں بھر پور رنگی نظر آتی ہے

تنویرنقوی کی گیت نگاری بر صغیر کے بے شمار گیت نگاروں کی موجودگی کے باوجود الگ اور منفرد دکھائی دیتی ہے،ان کا اپنا ایک اسلوب ، ایک انگ، اپنی الگ خوبصورت دلکش اور اثر آفرین ڈکشن ہے اور ان کے گیتوں کے اندر لہریں لیتا اور موجیں مارتا ردھم اور جادو اثر غنایت تنویر صاحب کے حوالے سے ہی خاص ہے ‘‘۔

تنویرنقوی وہ شاعر تھے جنہوں نے پہلے ہندوستانی فلموں کے گیت لکھے اور پھر تقسیم کے بعد جب وہ پاکستان منتقل ہوئے تو یہاں کی فلمی صنعت سے وابستہ ہو گئے۔ وہ ایک انتہائی بلند پایہ نغمہ نگار تھے ، جنہوں نے نہ صرف اردو بلکہ پنجابی فلموں کے لیے بھی ایسے گیت لکھے جو امر ہو گئے۔

تنویر نقوی کے چند مشہور فلمی گیتوں کاذکر کر نا بھی ضروری ہے: زندگی ہے یا کسی کا انتظار‘‘ فلم سلمیٰ (1960) موسیقی رشیدعطرے،آواز نورجہاں ،’’ جانِ بہاراں رشکِ چمن‘‘ فلم عذرا (1962) موسیقی ماسٹر عنایت حسین، آواز سلیم رضا،’’ زندگی میں ایک پل بھی چین آئے نا‘‘ فلم ہمسفر(1960) موسیقی مصلح الدین، آواز سلہم رضا اور ناہید نیازی،’’ اے دل تیری آہوں میں اثر ہے کہ نہیں ہے‘‘ فلم تاج محل ( 1968) موسیقی نثار بزمی، آواز مہدی حسن،’’اج خوشیاں دے نال مینوں چڑھ گئے نے حال‘‘ فلم ماں پتر، موسیقی جی اے چشتی، آواز نورجہاں،’’ چل چلئے دنیا دی اوس نکرے جتھے بندہ نہ بندے دی ذات ہووے‘‘ فلم دنیا پیسے دی ( 1971 ) موسیقی ماسٹر عبداللہ، آوازیں مہدی حسن اور نورجہاں، ’’ تم جُگ جُگ جیو مہاراج رے ہم تیری نگریا میں آئے‘‘ فلم موسیقار (1961) موسیقی رشید عطرے، آواز نورجہاں،’’ بڑی مشکل سے ہوا تیرا میرا ساتھ پیا‘‘ فلم لاکھوں میں ایک (1967) موسیقی نثار بزمی، آواز نورجہاں،’’ چلی رے چلی رے چلی رے میں تو دیس پیا کے چلی رے‘‘فلم جھومر (1959) موسیقی خواجہ خورشید انور، آواز ناہید نیازی،’’کبھی تم بھی ہم سے تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یادہو‘‘ فلم گھونگھٹ (1962)موسیقی خواجہ خورشید انور، آواز نورجہاں،’’دل کی دھڑکن تیری آواز ہوئی جاتی ہے‘‘ فلم فرشتہ (1961) موسیقی رشید عطرے،آواز نورجہاں۔

تنویر نقوی کے پاکستانی پنجابی فلموں گیتوں کی تعریف تو اُن شعراء نے بھی کی جو کسی دوسرے کی تعریف میں ہمیشہ بخل سے کام لیتے تھے۔ان میں باکمال نغمہ نگار احمد راہی بھی شامل تھے۔جب فلم ’’ اَت خدا دا وَیر‘‘ کے لئے تنویر نقوی نے یہ گیت لکھا : ’’ جدوں ہولی جئی لینا میرا ناں میں تھاں مر جانیاں۔۔۔ ‘‘تو احمد راہی نے تنویر نقوی پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسا دیے۔تنویر نقوی اس لحاظ سے خوش بخت تھے کہ ان کے بہت زیادہ گیت نورجہان نے گائے۔شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ان کے بہنوئی تھے۔

تنویر نقوی ہرقسم کے گیت لکھتے تھے لیکن فلموں کے ٹائٹل گیت لکھنے میں انہیں مہارت حاصل تھی۔ ہندی فلموں کے زریں عہد میں ٹائٹل گیت لکھنا بہت بڑی بات سمجھی جاتی تھی۔فلم سازوں کو جب بھی ٹائٹل سانگ کی ضرورت ہوتی، تنویر نقوی سے گیت لکھوانے کی گزارش کرتے۔ ان کے تحریر کردہ متعدد ٹائٹل گیتوں نے فلموں کو کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کیا۔

پاکستان کی طرح ہندوستان میں بھی اعلیٰ پائے کے نغمہ نگار پیدا ہوئے جنہوں نے ایسے شاندار گیت تخلیق کئے کہ ان کا نام تاریخ کے صفحات میں درج ہو گیا۔

اسے صرف اتفاق نہیں کہا جا سکتا کہ غیر اردو داں طبقوں کے اندر اردو کو زیادہ تر اچھی شاعری، بطور خاص احساسات کی آئینہ دار غزلوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اردو کی تاریخ پر سرسری نظر بھی ڈالئے تو اس احساس کو تقویت ملتی ہے کہ واقعتا اردو کا ما بہ الامتیاز سرمایہ اس کی شاعری ہی ہے۔ ولی دکنی، قلی قطب شاہ، میر درد، سودا، امیر، میر تقی میر، غالب، مومن، ذوق، داغ، اقبال، حسرت، جگر، اصغر، اختر شیرانی، ناصر کاظمی، فیض احمد فیض، احمد فراز، کلیم عاجز، شہریار، بشیر بدر اور پھر آج کی پوری کی پوری ادبی نسل کی شاعرانہ کاوشیں اس کو ظاہر کرتی ہیں۔ معتبر اور ادبی شاعری کے جیالوں کی فہرست تو خیر کافی لمبی ہے لیکن اگر ہم ان شعراءکی بات کریں جنہوں نے سامانِ تفریح تو بہت پہنچایا لیکن وہ تاریخ ادب یا نصاب ادب کا حصہ نہ بن پائے تو ان میں مشاعرے کے شعراءسے کہیں آگے وہ لوگ نظر آئیں گے جنہوں نے فلموں کے اندر اپنی قسمت آزمائی اور جس میں بہت سے لوگ کامیاب بھی ہوئے۔

اگر تنویر نقوی کی فلمی شاعری پر سرسری نظر ڈالی جائے تو بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تنویر نقوی بھی دراصل مجروح سلطان پوری، ساحر لدھیانوی اور شکیل بدایونی کی طرح فلمی شاعر ہونے کے باوجود زبان و بیان کا صاف ستھرا اور عمدہ ذوق رکھتے تھے، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پوری فلمی شاعری کے اندر وہ ان دو چار شعراءمیں ایک تھے جنہوں نے فلمی گیتوں کو بھی کچھ حد تک ہی سہی، تہذیب و وقار سے ہمکنار کیا، تو غلط نہ ہوگا۔

جب کبھی بلند پایہ شاعری، کانوں میں رس گھولتے نغموں اور درد بھرے گیتوں و نغموں کی بات چلے گی تو تنویر نقوی کا نام اور کام سب سے اوپر رہے گا۔

اگر پاکستان میں تنویر نقوی
جیسے اردو کے بے مثل گیت نگار پیدا ہوئے تو بھارت میں بھی اعلیٰ درجے کے نغمہ نگاروں کی کمی نہیں رہی۔ بھارت میں شکیل بدایونی، حسرت جے پوری، شیلندر، مجروح سلطان پوری، راجا مہدی علی خاں، اسد بھوپالی اور جاوید اختر سمیت کئی دوسروں نغمہ نگاروں نے بھی اپنی فنی عظمت کے جوہر دکھائے اور ایک طویل عرصے تک ان کی شہرت کا آفتاب چمکتا رہا۔ پھر ایک اور نغمہ نگار ان گیت نگاروں کی صف میں شامل ہو گیا۔ اس گیت نگار نے فلمی نغمات کو ایک نیا رجحان دیا۔

صدا بہار گیت لکھنے والے تنویر نقوی کے قلم میں وہ بات تھی کہ زمانہ ان کا دیوانہ بن گیا۔ تنویر نقوی صاحب کے بارے میں یہ مشہور بات ہے کہ وہ جو بھی نغمہ لکھتے تھے امر ہوجاتا تھا۔
تنویرنقوی پاکستان اور بھارت کی شناخت ہیں اور اردو فلم انڈسٹری کی شان ہیں۔ وہ ایک ایسا نام ہیں جنہوں نے اپنے لفظوں کے جادو سے کڑوروں انسانوں کو اپنا دیوانہ بنایا اور ان کی وجہ سے بالی وڈ کے کئی ہیروز کو عالمی شہرت ملی۔

آج بھی اُن کے پائے تک کوئی شاعر نہیں پہنچ سکا ،ان کے تخیل کی پرواز اتنی بلند تھی کہ وہ موضوع دیکھتے ہی نغمہ لکھ دیتے تھے ۔اسی منفرد ہنر نے انہے بالی وڈ،اور لولی وڈ میں ایک عالمگیر نغمہ نگار کا مقام حاصل ہے ۔

تنویرنقوی کا شعری مزاج سب سے مختلف تھا۔ ان کی شاعری میں رومانویت بہت تھی اور ایسا لگتا تھا جیسے انہوں نے اپنے اشعار میں اپنا دل رکھ دیا ہے ۔

اگرچہ فلموں کے لیے گیت نگاری تنویرنقوی کی نمایاں وجہِ شہرت بنی لیکن خود انہیں ہمیشہ اس بات پر اصرار رہا کہ شعر و ادب ہی اُن کا خاص میدان ہیں اور فلمی گیت نگاری محض ایک ذریعہ روزگار ہے، زیادہ سے زیادہ یہ کہ وہ فلموں میں معیاری شاعری متعارف کروانے کا چیلنج لے کر اس میدان میں آئے۔ ‘

تنویرنقوی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں۔ ان کے لہجے کی سادگی و سچائی ، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ یوں تو انہوں مختلف اصفافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے۔

تنویرنقوی نے گیت لکھے ،نظمیں لکھیں اور غزلیں بھی کہیں مگر ان کے فن کا حسن اور شعر کا جمال غزل ہی میں نکھرتا ہے۔اس کے بعد گیت کی کشش محسوس کی جاتی ہے

تنویرنقوی غزل میں گیت اور گیت میں غزل کہتا ہوا پایا جاتا ہے ۔اس کی غزل بوجھل نہیں ہوتی،اضافتی اور عطفی ترکیبوں سے اس کا گیت ہلکا نہیں ہوتا ہزار بار کہے ہوئے اور بیان کیے ہوئے معاملات کی شمولیت سے ۔وہ دونوں کا اپنا اپناوزن اور وقار قائم رکھتے ہیں اگرچہ ان کی غزل گیت کی کیفیت اور فضا لیے رہتی ہے لیکن وہ غزل کی انفرادیت کو باقی رکھتے ہیں اور اسے اس کی انفرادیت سے محروم نہیں ہونے دیتے بل کہ ایک نئے پن سے اسے روشناس کراتے ہیں اورایک نئی طرح ڈالتے ہیں جس میں وہ اپنی بھر پور شخصیت کے ساتھ جو رنگین اور حسین بل کہ صاف ستھری انسانیت اور انسان دوستی کی روشن مثال ہے، جلوہ گر رہتے ہیں۔

ادبی دنیا کی معروف ہستیوں کی وجہ سے فلموں کو نہ صرف وقار اور عزت ملی بل کہ ان کا معیار بھی بلند ہوا۔مایہ ناز فلمی شاعر تنویرنقوی کا شماربھی ایسی یاد گار زمانہ شخصیات میں ہوتا ہے جن کے قلم سے ایسے خوبصورت فلمی نغمات تحریر ہوئے جن کی نظیر ملنا مشکل ہے۔

تنویر نقوی نے ہر فلسفہ اور ہررنگ پر بے شمار نغمے لکھے جو آج بھی دنیا بھر میں شوق سے سنے جاتے ہیں۔ان کے نغموں کی کشش، دھیما پن اور لوچ ایسا تھا جس کی کیفیت سننے والے ہی بیان کرسکتے ہیں۔انہوں نے اپنے نغموں کے ذریعے زندگی کے ہر پہلو کو اجاگر کیا ہے۔ایک نام جس کی ہمیشہ الگ شناخت رہی اور نغمہ نگاری میں بھی جس نے کمالات دکھائے وہ ہے تنویر نقوی۔ان کی شاعری میں معروضی صداقتوں کا اظہار بھی ملتا ہے اور عصری کرب بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔ ان کے اشعار میں غنائیت ور رچائو کے ساتھ نغمگی بھی پورے عروج پر ہے۔ ا

تنویر نقوی کے احباب کا حلقہ بھی بہت وسیع تھا۔ وہ وسیع النظر بھی تھے اور وسیع القلب بھی۔ ان جیسا شاعر دوبارہ ملنا بہرحال آسان نہیں۔ اپنی گرانقدر خدمات کی بنا پر وہ ادبی دنیا میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔لہجے کی سادگی و سچائی ، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انہوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا،

اگرچہ فلموں کے لیے گیت نگاری تنویر نقوی کی نمایاں وجہِ شہرت بنی لیکن خود انہیں ہمیشہ اس بات پر اصرار رہا کہ شعر و ادب ہی اُن کا خاص میدان ہیں اور فلمی گیت نگاری محض ایک ذریعہ روزگار ہے، زیادہ سے زیادہ یہ کہ وہ فلموں میں معیاری شاعری متعارف کروانے کا چیلنج لے کر اس میدان میں آئے۔۔‘‘

چاہتیں بانٹنے اور سمیٹنے والے رومانوی شاعر تنویر نقوی نے غزل سمیت شاعری کی کئی اصناف میں خود کو منوایا، ان کی غزلوں، گیتوں میں فطری جذبوں اور کیفیات کی بھرپور جھلک تھی۔تنویر نقوی نے عمر بھر محبتیں کیں اورمحبتیں پائیں ،شاعری میں مقصدیت اور انسانی کیفیات کا بھرپور اظہارکیا تو رومانوی جنوں کی بھی پردہ داری نہ کی،عشق ،محبت ، ہجر اور وصال سارے ہی موضوعات پر طبع آزمائی کی۔

برصغیر پاک و ہند کے نامور نغمہ نگار تنویر نقوی نے صرف 19سال کی عمر میں اُنہوں نے فلم ” شاعر”جو 1938 میں بنی اُسکے کے لئے گیت لکھے ۔اُن کے گیت پاک وہند کی تقسیم سے پہلے عوام میں بہت مقبول تھے ۔

نومبر 1946میں بنے والی ہدایت کار محبوب کی فلم “انمول گھڑی”نے تنویر نقوی کی شہرت میں چار چاند لگا دئیے۔اِس فلم کا گیت ہے “آواز دے کہاں ہے “آجا میری برباد محبت کے سہارے “جواں ہے محبت حسین ہے زمانہ”عوام میں بے انتہا مقبول اور زدِ عام ہوئے ۔نوشاد مذکورہ فلم کے موسیقار تھے۔اِسکے بعد ہدایت کار سید شوکت حسین رضوی کی فلم “جگنو”کے گیت مقبول ہوئے ۔فیروز نظامی کی موسیقی میں نور جہاں اور محمد رفیع کی آواز نے گانوں کو لا جواب کر دیا ۔”یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے “آزادی کے بعد پاکستان تشریف لے آئے ۔اور یہاں اُردو ،پنجابی گیت لکھے جنہوں نے دھوم مچا دی اور آج تک لوگ ان گیتوں کو سنتے ہیں ۔تنویر نقوی صاحب آزادی کے بعد پھر ہندوستان گئے اور بے انتہا پیسہ ،شہرت پائی ان کا لکھا ہوا شیریں فرہاد کا جو “1956”کو بنی اس کا گانا یہ تھا ۔۔”گزرہ ہوا زمانہ آتا نہیں دوبارہ”لتا کی مدھر آواز ایس مہندر کی موسیقی پاک وہند میں آج بھی مقبول ہے ۔دُنیائے ادب و فلم میں تنویر نقوی کا نام ایک معتبر، صاحبِ کمال و جمال اور مستند فطری شاعر کے طور پر زندہ و تابندہ و پایندہ ہے۔!

وہ فارسی اور اُردو زبان پر عبور رکھتے تھے، فارسی تو ان کے آباء اجداد کی زبان تھی اور یہ بات طے ہے کہ اُردو میں کماحقۂ دسترس کے لئے فارسی جاننا از حد ضروری ہے۔ تنویر نقوی کو دونوں زبانوں اور شعر و ادب پر لڑکپن ہی سے دسترس تھی، چنانچہ انہوں نے محض پندرہ برس کی عمر سے شاعری شروع کر دی اور شروع شروع میں زیادہ تر نظم گوئی کو اختیار کئے رکھا۔

اُن کا پہلا شعری مجموعہ ’’سنہرے سپنے‘‘ کے نام سے چھپا۔ اس مجموعے میں ’’ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات‘‘ نمایاں تھے۔ اپنے زمانے کے مشہور عہد ساز پروڈیوسر، ڈائریکٹر اے آر کاردار نے یہ مجموعہ کلام پڑھا تو تنویر نقوی کو لاہور سے نقل مکانی کر کے بمبئی آنے کی دعوت دے ڈالی اور انہیں اپنی نئی فلم ’’نئی دنیا‘‘ کے لئے گانے لکھنے کا کام سونپا۔ اس فلم کی موسیقی، موسیقار اعظم نوشاد کی تھی۔

بمئی کے قیام کے دَوران تنویر نقوی نے اداکارہ مایا دیوی سے شادی کی جو ناکام رہی دوسری شادی ملکہ ترنم نور جہاں کی بڑی بہن عیدن سے کی، ان سے ان کی کوئی اولاد نہ ہو سکی۔ یہ شادی بھی بالآخر طلاق پر اختتام پذیر ہوئی۔ یوں انتہائی وجیہہ و شکیل، خوش لباس، خوش اطوار سید زادے، جواں فکر شاعر کی ازدواجی زندگی میں کانٹے بکھرتے رہے۔ ذاتی ازدواجی ناکامیوں کے سبب تنویر نقوی کی شاعری میں درد و غم اتنے جمع ہوئے کہ بقول می
درد و غم کتنے کئے جمع تو دیوان کیا

اے آر کاردار کی فلم نئی دنیا کے بعد پروڈیوسر ڈائریکٹر نذیر نے اپنی فلم لیلیٰ مجنوں کے لئے گانے لکھوائے، پھر تو چل سو چل تنویر نقوی نے چھیڑ چھاڑ۔ یاد گار۔ سوامی۔ وامق عذرا، راجہ رانی اور ’’ انمول گھڑی‘‘ کے یادگار گیت لکھے۔

مگر یہ درد و غم، یہ سوز و الم ان کا اپنا تھا، ذاتی تھا اسے انہوں نے بالا رادہ کائنائی نہیں بنایا اور عام لوگوں بلکہ خواص کے لئے لازوال رومانی گیت تخلیق کرتے رہے۔۔۔ بمبئی سے پاکستان آنے کے بعد لاہور کے نگار خانوں کیلئے ہمہ تن مصروفِ عمل رہے اور بہت سی فلموں کے لئے ہٹ گیت لکھے، جن میں دو آنسو، محبوب، جبرو، آغوش اور شرارے جیسی یادگار فلمیں شامل تھیں۔

ملکہ ترنم نور جہاں نے ایک زمانے میں جب اداکاری ترک کر کے صرف اور صرف پسِ پردہ گلوکاری پر اپنی توجہ مرکوز کی تو پلے بیک سنگر کے طور پر فلم ’’سلٰمیٰ‘‘ میں رشید عطرے کی موسیقی میں تنویر نقوی کا لکھا ہوا یہ لازوال نغمہ گایا۔ جس کا سُریلا پن آج بھی سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتا ہے

زندگی ہے یا کسی کا انتظار
ایک اہم بات تنویر نقوی کے حوالے سے یہ ہے کہ انہوں نے پہلی بار سازو آواز کے ساتھ یعنی دف کی دُھن میں فلم ’’نورِ اسلام‘‘ کے لئے ایک نعت لکھی۔۔۔ نعت کے بول تھے
شاہِ مدینہ۔۔۔ شاہِ مدینہ
یثرب کے والی، سارے نبی تیرے در کے سوالی۔ شاہِ مدینہ
تنویر نقوی نے فلم کوئل۔ چنگاری۔ ایاز گھونگٹ اور جھومر کے لئے بھی لازوال گیت تخلیق کئے۔ ان کی شاعری محض فلمی شاعری نہ تھی بلکہ تخلیقی شاعری تھی کہ اگر اسے فلم سے الگ کرکے دیکھا پڑھا چھاپا جائے تو ادبی رنگ میں بھرپوررنگی ہوئی نظر آتی ہیّ فلم ’’کوئل‘‘ کا یہ گیت بیّن ثبوت ہے:

رِم جھم رِم جھم پڑے پھوار
دُنیائے ادب و فلم میں تنویر نقوی کا نام ایک معتبر، صاحبِ کمال و جمال اور مستند فطری شاعر کے طور پر زندہ و تابندہ و پایندہ ہے۔!

سید خورشید علی نقوی پورا نام، تنویر تخلص کے ساتھ تنویر نقوی کے مختصر سے دو لفظی ادبی نام کے ساتھ ایک طویل مدت تک فلمی اور ادبی دنیا میں اپنے نام اور کام کے سبب نمایاں رہے۔۔۔
تنویر نقوی کے والد کا نام سید سعدعلی نقوی اور والدہ محترمہ سردار بیگم تھا.
سید خورشید علی نقوی کے والدین ایران سے آ کر لاہور کو اپنا مستقل مستقر بنا چکے تھے ان کے والد گرامی اور بڑے بھائی کو بھی شعر و ادب سے بے حد لگاؤ تھا۔ اور دونوں حضرات سخن پرور ہی نہیں سخن گو بھی تھے۔ ان کے ادبی و علمی ذوق کے ساتھ سارا گھرانا ہی علمی و ادبی پس منظر کا حامل تھا۔ اسی پس منظر میں تنویر نقوی کی پرورش و پرداخت ہوئی۔۔۔

تنویر نقوی نے اپنا تعلیمی سفر لاہور کے مکتب و مدرسہ میں مکمل کیا۔ وہ فارسی اور اُردو زبان پر عبور رکھتے تھے، فارسی تو ان کے آباء اجداد کی زبان تھی اور یہ بات طے ہے کہ اُردو میں کماحقۂ دسترس کے لئے فارسی جاننا از حد ضروری ہے۔ تنویر نقوی کو دونوں زبانوں اور شعر و ادب پر لڑکپن ہی سے دسترس تھی، چنانچہ انہوں نے محض پندرہ برس کی عمر سے شاعری شروع کر دی اور شروع شروع میں زیادہ تر نظم گوئی کو اختیار کئے رکھا۔۔۔ اور 1938ء میں پہلی بار فلم شاعر کے لیے گیت لکھے اور بمبئی کی فلموں کے لیے گیت نگاری کرنے لگے۔

تقسیم ہند سے قبل فلم انمول گھڑی نے انہیں شہرت دی جس کے گیتوں میں آواز دے کہاں ہے سب سے زیادہ مقبول ہوا، مگر آجا میری برباد محبت کے سہارے اور جوان ہے محبت حسین ہے زمانہ بھی زبان زد عام ہوئے۔

اُن کا پہلا شعری مجموعہ ’’سنہرے سپنے‘‘ کے نام سے چھپا۔ اس مجموعے میں ’’ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات‘‘ نمایاں تھے۔ اپنے زمانے کے مشہور عہد ساز پروڈیوسر، ڈائریکٹر اے آر کاردار نے یہ مجموعہ کلام پڑھا تو تنویر نقوی کو لاہور سے نقل مکانی کر کے بمبئی آنے کی دعوت دے ڈالی اور انہیں اپنی نئی فلم ’’نئی دنیا‘‘ کے لئے گانے لکھنے کا کام سونپا۔ اس فلم کی موسیقی، موسیقار اعظم نوشاد کی تھی۔

اے آر کاردار کی فلم نئی دنیا کے بعد پروڈیوسر ڈائریکٹر نذیر نے اپنی فلم لیلیٰ مجنوں کے لئے گانے لکھوائے، پھر تو چل سو چل تنویر نقوی نے چھیڑ چھاڑ۔ یاد گار۔ سوامی۔ وامق عذرا، راجہ رانی اور ’’ انمول گھڑی‘‘ کے یادگار گیت لکھے۔ ’’ انمول گھڑی‘‘ کے گیت تو بے پناہ مقبول ہوئے مثلاً یہ گیت:

آواز دے کہاں ہے، دنیا مری جواں ہے

آباد میرے دل میں اُمید کا جہاں ہے

ایسے میں تو کہاں ہے؟۔۔۔

بمئی کے قیام کے دَوران تنویر نقوی نے اداکارہ مایا دیوی سے شادی کی جو ناکام رہی دوسری شادی ملکہ ترنم نور جہاں کی بڑی بہن عیدن سے کی، ان سے ان کی کوئی اولاد نہ ہو سکی۔ یہ شادی بھی بالآخر طلاق پر اختتام پذیر ہوئی۔ یوں انتہائی وجیہہ و شکیل، خوش لباس، خوش اطوار سید زادے، جواں فکر شاعر کی ازدواجی زندگی میں کانٹے بکھرتے رہے۔ ذاتی ازدواجی ناکامیوں کے سبب تنویر نقوی کی شاعری میں درد و غم اتنے جمع ہوئے کہ بقول میرمگر یہ درد و غم، یہ سوز و الم ان کا اپنا تھا، ذاتی تھا اسے انہوں نے بالا رادہ کائنائی نہیں بنایا اور عام لوگوں بلکہ خواص کے لئے لازوال رومانی گیت تخلیق کرتے رہے۔۔۔ بمبئی سے پاکستان آنے کے بعد لاہور کے نگار خانوں کیلئے ہمہ تن مصروفِ عمل رہے اور بہت سی فلموں کے لئے ہٹ گیت لکھے، جن میں دو آنسو، محبوب، جبرو، آغوش اور شرارے جیسی یادگار فلمیں شامل تھیں۔

درد و غم کتنے کئے جمع تو دیوان کیا
تیسری شادی اپنے خاندان میں محترمہ سیدہ تسنیم نقوی صاحبہ سے کی ماشاء ﷲ زوجہ حیات ہیں دو صاحبزادیاں ہیں ۔تنویر نقوی کے صاحبزادے شہباز نقوی جنہے بچپن میں تنویر نقوی پپو بولتے تھے ماشاء ﷲجوان ہیں بچپن سے نوکری کی اُسی میں تعلیم حاصل کی اور آج ایک با عزت نوکری اسلام آباد میں کرتے ہیں وہ خود بھی اپنے بابا تنویر نقوی کے نقشِ قدم پر ہیں نغمہ نگاری بھی کرتے ہیں اور نوحے بھی لکھتے ہیں ۔

ملکہ ترنم نور جہاں نے ایک زمانے میں جب اداکاری ترک کر کے صرف اور صرف پسِ پردہ گلوکاری پر اپنی توجہ مرکوز کی تو پلے بیک سنگر کے طور پر فلم ’’سلٰمیٰ‘‘ میں رشید عطرے کی موسیقی میں تنویر نقوی کا لکھا ہوا یہ لازوال نغمہ گایا۔ جس کا سُریلا پن آج بھی سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتا ہے
زندگی ہے یا کسی کا انتظار

دوبارہ پاکستان آمد پر بھی اُن کی پذیرائی ہوئی ۔ 1958 میں بننے والی انور کمال پاشاصاحب کی فلم ’’ انار کلی‘‘ سے انہیں بامِ عروج ملا۔ ماسٹر عنایت حسین کی موسیقی میں نورجہاں کی آواز میں تنویر نقوی کا یہ گیت : ’’ کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں۔۔۔‘‘بے انتہا مقبول ہوا ۔اگلے ہی سال نمائش کے لئے پیش ہونے والی فلم ’’ کوئل‘‘کے گیتوں نے تو دھومیں مچا دیں۔اس کے موسیقار خواجہ خو رشید انور تھے۔ مذکورہ فلم کے تمام ہی گیت مقبول ہوئے جیسے: ’’دل کا دیا جلایامیں نے دل کا دل کا دیا جلایا۔۔۔‘‘، ’’ او بے وفا میں نے تجھ سے پیار کیوں کیا۔۔۔‘‘، ’’رِم جھِم رِم جھِم پڑے پھوار۔۔۔‘‘، ’’ساگر روئے لہریں شور مچائیں۔۔۔‘‘، ’’تیرے بنا سونی سونی لاگے رے چاندنی رات۔۔۔‘‘، ’’مہکی فضائیں گاتی ہوائیں۔۔۔‘‘۔
تنویر ؔ نقوی صاحب نے حضرت شیخ سعدیؒ کی مشورِ عالم نعت
بلغ العلی بکمالہ
حسنت جمیع خصالہ
کی تضمین کر کے اور اس پر اپنے مصرعے لگا کر خواجہ خورشید انور کی طرز پر زبیدہ خانم اور ساتھیوں کی آواز میں1960 میں بننے والی ہدایت کار لقمان کی فلم ’’ ایاز‘‘ میں لا زوال بنا دیا: ؂
جو نہ ہوتا تیرا جمال ہی
یہ جہاں تھا خواب و خیال ہی
صلو علیہ و آ لہ
ایک اہم بات تنویر نقوی کے حوالے سے یہ ہے کہ انہوں نے پہلی بار سازو آواز کے ساتھ یعنی دف کی دُھن میں فلم ’’نورِ اسلام‘‘ کے لئے ایک نعت لکھی۔۔۔ نعت کے بول تھے:

شاہِ مدینہ۔۔۔ شاہِ مدینہ

یثرب کے والی، سارے نبی تیرے در کے سوالی۔ شاہِ مدینہ

اداکار، صدا کار نعیم ہاشمی بھی فلم ساز، پروڈیوسر ڈائریکٹر نذیر اور سورن لتا کی اس فلم کے ایک رکن تھے، یہ بات مشہور ہوگئی کہ یہ نعت نعیم ہاشمی کی تخلیق ہے جب کہ وہ باقاعدہ شاعر نہ تھے ایک اچھے اداکار، صدا کار اور ناکام ہدایت کار ضرور تھے۔یہاں اضافی معلومات دیتا چلوں کہ جناب اعزاز احمد آزر نے تنویر نقوی مرحوم کا مطبوعہ و غیر مطبوعہ کُل کلام مرتب کرکے الحمد پبلی کیشنز لاہور سے چھپوا دیا تھا اور پھر جلد ہی راہی ء ملکِ عدم ہو گئے تھے۔
رِم جھم رِم جھم پڑے پھوار
پاکستان آمد کے بعد انہوں نے پہلی پاکستانی فلم تیری یاد کے گیت لکھے تاہم پاکستان میں انہیں اصل شہرت 1959ء میں فلم کوئل کی گیت نگاری پر ملی، جس کے گیتوں رم جھم رم جھم پڑے پھوار یا مہکی فضائیں گاتی ہوائیں اور دل کا دیا جلایا نے مقبولیت کی تمام حدوں کو توڑ دیا۔ اسی طرح 1960ء میں ریلیز ہونے والی فلم ایاز کا گیت رقص میں ہے سارا جہاں اور 1962ء میں فلم شہید کا گیت میری نظریں ہیں تلوار بھی آج تک لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہے۔ اس کے علاوہ فلم انارکلی کے گیت کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں یا جلتے ہیں ارمان میرا دل روتا ہے سمیت متعدد کامیاب فلموں کے گیت ان کے زور قلم کا نتیجہ تھے۔ انہوں نے کئی فلموں کے لیے کئی خوبصورت نعتیں بھی تحریر کیں جن میں فلم نور اسلام کی نعت شاہ مدینہ، یثرب کے والی اور فلم ایاز کی نعت بلغ العلیٰ بکمالہ خصوصاً قابل ذکر ہیں۔

تنویر نقوی کی شاعری کا مجموعہ سنہرے سپنے کے نام سے شائع ہوا۔
اعزازات
تنویر نقوی کو فلم (کوئل)، دوستی’ اور شام ڈھل کے لیے بہترین نغمہ نگار کا نگار ایوارڈ ملا
مشہور نغمات
دل کا دیا جلایا (کوئل)
چٹھی ذرا سیاں جی کے نام لکھ دے (دوستی)
آواز دے کہاں ہے (انمول گھڑی)
رم جھم رم جھم پڑے پھوار (کوئل)
مہکی فضائیں گاتی ہوائیں (کوئل)
رقص میں ہے سارا جہاں (ایاز)
کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں (انارکلی)
جلتے ہیں ارمان میرا دل روتا ہے (انارکلی)
شاہ مدینہ، یثرب کے والی (نور اسلام)
رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو (ملی نغمہ)
جب بھی فلمی گیتوں کی فہرست مرتب ہوگی، تو تنویر نقوی کا نام سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔
بے شمار، ادبی، فلمی، گیتوں کے خالق تنویر نقوی نے یکم نومبر 1972ء کو اس جہانِ فانی سے عالم جاودانی کی طرف کوچ کیا۔ وہ کچھ عرصہ فالج کے حملے کے سبب بستر پر دراز رہے اور اسی صاحب فراشی میں چل بسے۔ ۔تنویر نقوی صاحب کی نمازِجنازہ مولانا سید حسن ظہیر نقوی صاحب نے پڑھائی تھی ۔ تنویر نقوی مشہور زمانہ قدیم قبرستان میانی صاحب لاہور میں احاطہ سادات فقیر خانہ میں سپردِ خاک کئے گئے
تنویر نقوی دنیائےفانی سے منہ موڑ گئے مگر فضاؤں میں ان کےگیت ہمیشہ اور ہرسو اپنی خوشبوئیں بکھیرتے رہیں گے ۔.

SHARE

LEAVE A REPLY