حضرت علامہ اقبال ؒ ایک مذہبی اور روحانی شخصیت۔۔شمس جیلانی

0
1750

ہم نے ہمیشہ تاریخ میں دیکھا ہے کہ جب بھی کسی انسان میں ایک سے زیادہ خوبیاں جمع ہوجائیں تو کوئی ایک پیچھے رہ جاتی ہے۔ یہ ہی علامہ اقبالؒ کے ساتھ بھی ہوا کہ وقت کا مورخ کنفیوزڈ ہوگیا کہ کیا چھوڑے اور کیالکھے ۔ اس نے انہیں سیاستدان۔ لکھا ،بیرسٹر لکھا، سر لکھا، غرضیکہ سب کچھ لکھا مگر وہ مگر ایک روحانیت سے پر انسان اور عالمِ قرآن اور سنت نہیں لکھ سکا اس لیے صرف علامہ ہی لکھنے پراس نے اکتفا کی کیونکہ یہ ذومعنی لفظ ہے اس پر کسی کی اجارہ داری نہ ہونے کی وجہ سے ہر قسم کے عالم کو علامہ اس کی علمیت کی بنا پر لکھ سکتے ہیں ،چونکہ اس پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے اور سمجھنے والوں تک پیغام بھی پہونچ جاتا ہے۔
اس کی دو وجوہات تھیں ایک تو یہ تھی کہ اسلامی دنیا میں جب سے حضرت نظام الدین طوسی ؒ نے مدرسوں کودرسِ نظامیہ کے نام پر ایک با قاعدہ نصاب دیدیااس کے بعد سے علمائے اسلام کسی بھی ایسے شخص کو جس کے پاس مدرسوں سے با قاعدہ دستار فضیلت نہ ہو عالم تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے اورنہ آج ہیں۔ جبکہ آجکل اعزازی ڈگریوں کا زورہر طرف ہے مگر نہیں ہے تو مدرسوں میں نہیں ہے۔ چونکہ انہوں نے کسی ایسے مدرسے نہیں پڑھاتھاجو دستار فضیلت عطا کر تا ہو، لہذا نہ انہوں نے خود دعویٰ کیا نہ ہی کسی نے مورخ مولانا لکھا حالانکہ امت نے ان کے ہر وصف و کمال سے فائدہ اٹھایا جس میں روحانیت اور دین دونوں شامل تھے۔ مگر امت اس سلسلہ اتنی ہمت نہیں کرسکی جو وہ ان سے بہت زیادہ استفادہ حاصل کرسکتی۔لیکن وہ علم جو کہ اسلام میں سینہ بہ سینہ چلتاہے اور جو علمِ لدنی کہلاتا ہے اوروہ علم کسی مدرسہ کارہین منت بھی نہیں ہوتا اور اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو اس کی ضرورت کے مطابق عطا کرتا ہے۔ اسی نے انہیں بھی اس سے مالا مال فرمادیا۔ یہ ہی وجہ کہ وہ اپنے اس شعر میں دین کے اہلِ اختیار سے پوچھتے نظر آتے ہیں کہً
ً یہ فیضانِ نظر تھا یاکہ مکتب کرامت تھی سکھائے کس نے اسمعیل ؑ کوآداب فرزندی ً چونکہ یہ بات ان کے علم میں تھی کہ میری قوم اس سلسلہ میں میری بات نہیں مانے گی لہذا ۱۹۳۳ ء میں انہوں نے جمال پور اسٹیٹ کے نزدیک پٹھان کوٹ کے علاقے میں چودھری نیاز الدین مرحوم کی زیر نگرانی ایک دینی مدرسہ دارالعلوم قائم کیا تاکہ دین کے سلسلہ میں اپنا حصہ ڈال سکیں، مگر خانقاہ نہیں بنا سکے، جبکہ سب کچھ چھوڑ کر انہوں نے اپنا طرز زندگی فقیرانہ اپنا لیا تھا ورنہ کمانا چاہتے تو انہیں کس چیز کمی تھی۔
جس کا انکشاف ان کے صابزادے جسٹس جاوید اقبال نے پنی کتاب مین کیا ہے کہ ً گھر میں ہمیشہ تنگی رہی اور اکثر والدہ صاحبہ سے اس پر والد صاحب کی تکرار ہوتی رہتی تھیً مگر اس کی بہاریں وہ پوری بہاریں نہ دیکھ سکے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پاس واپس بلا لیا۔ اس سے پہلے انہیں روحانیت اور اسلام میں انہیں کتنی دسترس حاصل ہو چکی تھی اس کو دیکھنے کے لیے۔ آپ انکی فارسی میں چھ کتابیں جو ہیں وہ اگر پڑھ لیں تو آپ کو اندازہ ہو جا ئے گا کہ روحانیت میں انکا مقام کیا تھا اور قرآن و سنت پر ان کو کتنا عبور حاصل تھااور ان میں سے صرف اگر یہ ایک شعر پڑھ لیں تو ان کا نہ صرف درد سمجھ میں آجائے گا جوکہ ان کے دل میں مسلم قوم کے لیئے تھا۔ بلکہ اگر تھوڑ سا اور آگے بڑھ جا ئیں۔ تو تصوف کے آسمان کو بھی چھوتے ہوئے نظر آئیں گے۔ جس میں وہ مولانا جلال الدین رومیؒ سے مکالمہ کرتے نظر آئیں گے۔ جس کے بارے میں ان کے بہت سے معتقدیں کاخیال ہے کہ وہ دوبہ دو تھا، کچھ کہتے ہیں کہ وہ خواب تھا واللہ عالم۔
مگر یہاں نہیں لوگ صرف شاعر سمجھانے پر لگے ہوئے ہیں۔ وہ بھی وہ، شاعر جن کی مذمت میں قرآن کی تین آئیتوں میں سے ڈھائی آیتیں آئی ہیں۔ جس کی مثال عہد جاہلیہ کے شاعر امراؤ بن قیس اور ان قماش کے شاعر تھے جن کی ان آیات میں یہ تعریف ہے کہ یہ جھوٹ کے قلابے ملاتے ہیں، جھوٹ کی دنیا میں رہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ان میں نہیں جن کی توصیف بقیہ نصف آیت میں فرمائی ہے۔ جس کی مثال حضرت حسان بن ثابتؓ تھے جس کا مفہوم یہ ہے کہ۔ سوائے ان کہً جنہوں نے نیک کام کیےً کیا یہ لوگ علامہ اقبال ؒ ظلم نہیں کر رہے ہیں کیونکہ شاعری خالص دین کے لیے تھی نہ اس میں غلو نہ کسی کا قصیدہ تھا صرف پیغام تھا لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بتدائی شاعری دیکھ لیں تو جواب یہ ہے کہ حدیث یہ کہ جس پر خاتمہ ہو انہیں میں متوقی کا شمار ہوگا۔ جبکہ اقبال اردو کے ایک شعر میں فرماتے ہیں۔ کہً جب تک ضمیر پر نہ ہو نزولِ کتاب عقدہ کشا ہے رازی نہ صاحبِ کشافً یہ ایک ہی شعر علامہؒ مرحوم کااتنا دقیق ہے کہ کوئی طالب علم عمر بھی اس کی تہہ میں جانے کی کوشش کرتا رہے تو ہر روزایک نئے انکشاف دوچار ہوگا اور کبھی کامل نہیں ہو سکے گا؟ آپ پریشان ہو نگے کہ اس شعر میں ایسی بات کیا ہے۔ اس کا خلاصہ پیش کر دیتا ہوں تاکہ مزید وضاحت ہوجائے۔ علامہ ؒ اس میں فرمارہے ہیں کہ جب تک انسان کے ضمیر پر قرآن کا براہ راست اللہ سبحانہ تعالی کی طرف نزول نہ ہونے لگے، اس وقت تک نہ زمخشری ؒ کی عربی تفسیر قرآن الکشف اسکی مدد کرسکتی ہے نہ ہی علامہ فخر الدین رازی ؒ کی فارسی تفسیر ِ قرآن اس کی مدد کر سکتی ہے۔ اب فارسی کا ایک شعر پیش کرتا ہوں کہ علامہ ؒ کا درد کیا تھا جو ان کے دل میں اٹھتا رہتا تھا بقول ان کے آدھی رات کو جب سب لوگ سورہے ہوتے میں جاگ رہا ہوتا ہوں۔ ملاحظہ فرما ئیے؟
در صدِ فتنہ را بر کشادی دو گامے رفتی و از پا فتادی برہمن از بتا ں طاقِ خود آراست تو قراں را سرِ راہ طاقِ نہادی ( اردوترجمہ) اے دورِ حاضر کے مسلمان تونے (اسلام سے دوری ا ختیار کرکے اور غیر مسلموں کی پیروی کرکے) اپنے لیے سیکڑوں فتنوں کا دروازہ کھولدیا ہے کہ ( کبھی سیدھی راہ پر تو دوقدم بڑھنے کی کوشش بھی کرے توپھسل کر وہیں گر جاتاہے اور تجھے دین پر چلنا مشکل ہے۔ جبکہ برہمن نے اپنے طاق کو بتوں سے سجا رکھا ہے۔ (یعنی وہ اپنے دین پرسختی سے قائم ہے۔ جب کہ تونے قرآن کو (جو عمل کرنے لیئے ہے )دوسروں کی تقلید میں طاق میں سجھارکھاہے۔ اور اب یہ دیکھئے کہ علامہ نے پیر رومی سے جوسیکھا وہ کیا تھا! تاکہ ا نکا روحانیت میں مقام سمجھ میں آسکے اور فیصلہ کیجئے کہ کوئی غیر مسلم دین اور روحانیت پر کیا بات کرسکتا ہے۔ع
نکتہ ہا از پیرِ رومی آموختم خویش را در حرفِ او دا سوختم
مال را گر بہر دیں باشی حمول نعم مال صالح گوید رسول ؐ
(ترجمہ اور خلاصہ) میں نے پیر رومی سے بہت سی حکمت کی باتیں سیکھی ہیں ان میں خود کو فنا کرلیاہے ان میں سے یہ ارشادِ رسول ﷺ بھی ہے کہ اگر مال کو چاہیں دین کے لیے جمع کیا گیاہو اگر وہ حلال نہیں ہے تو، تو اس کاغلام ہے اوراگر مال صالح ہے تو وہ تیرے تابع ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY