نظامی گنجوی۔۔اور اچھری بازار۔نیلما ناہید درانی

0
42

نظامی گنجوی۔۔۔۔اور اچھری بازار

نظامی گنجوی آزربائیجان کا سب سے اھم شاعر ھے۔۔۔اس کے نام سے باکو کا سب سے خوبصورت مہنگا اور بڑا علاقہ منسوب ھے۔۔۔۔آزر بائیجان کے نیشنل میوزیم فار لڑریچر کا نام بھی نظامی گنجوی کے نام پر ھے۔۔۔۔
ھم نرمان نرماوو اسٹیشن پر ٹکٹ خریدنے کے لیے لائن میں کھڑے تھے ۔۔ایک شخص جو اسٹیشن سے باھر آ رھا تھا۔۔۔۔۔اس نے اپنا ٹرین ٹکٹ ھمیں دے دیا۔۔۔ھم حیران تھے کہ اس نے کہا۔۔۔یہ سارے دن کا ٹکٹ ھے ۔۔۔۔میں نے اب سفر نہیں کرنا۔۔۔آپ استعمال کر سکتے ھیں۔۔۔۔
ھم نے اس کا شکریہ ادا کیا اور آنے والی ٹرین پر سوار ھو گئے۔۔۔۔
نظامی ٹرین اسٹیشن بہت خوبصورت تھا۔۔۔ھر دیوار پر نظامی گنجوی کی بڑی بڑی تصاویر پینٹنگز کی صورت میں منقش تھیں۔۔۔
اسٹیشن سے باھر نکلے تو 9 میٹر اونچے چبوترے پر نظامی کا 6 میٹر اونچا مجسمہ دکھائی دیا۔۔۔۔جس کو دیکھ کر ھمیں بھی اپنا سر فخر سے بلند ھوتا محسوس ھوا۔۔۔۔کیونکہ ھمارا بھی قلم سے کچھ نا کچھ رشتہ تو ھے۔۔۔۔۔
اس مجسمہ کو 1949 میں مشہور مجسمہ ساز فواد عبدالرحمن نے تعمیر کیا تھا۔۔۔۔
جمال الدین ابو محمد الیاس ابن یوسف ابن ذکی کا تخلص نظامی گنجوی ھے۔۔۔آزربائیجان کے علاقے گنجہ میں 1141 میں پیدا ھوئے۔۔۔اور گنجہ ھی میں وفات پائی۔۔۔یہ بارھویں صدی کے اھم ترین فارسی شاعروں میں شمار ھوتے ھیں۔۔۔
آزربائیجان دنیا بھر میں شیعہ عقائد رکھنے والے مسلمانوں کا دوسرا بڑا ملک ھے۔۔۔پہلے نمبر پر ایران ھے۔۔۔۔نظامی گنجوی سنی العقیدہ تھے۔۔۔ان کو افغانستان۔ ایران، آزربائیجان، کردستان اور تاجکستان میں اھم شاعر کی حیثیت حاصل ھے۔۔۔۔
ان کا اپنا نام الیاس اور تخلص نظامی تھا۔۔۔۔ان کی والدہ کا نام رئیسہ تھا اور وہ کرد تھیں ۔۔ والد کا نام یوسف تھا۔۔۔دادا کا نام ذکی تھا۔۔دادا کا تعلق قم سے تھا۔۔۔۔
نظامی بچپن میں یتیم ھوگئے۔۔۔ان کی پرورش ان کے چچا خواجہ عمر نے کی۔۔اور تعلیم دلوائی۔۔۔
نظامی کی پہلی شادی آفاق نامی کنیز سے ھوئی۔۔۔جس کو داربند کے حکمران فخرالدین بہرام شاہ نے انھیں تحفہ کے طور پر بھجوایا تھا۔۔۔گنجوی کو اپنی اس بیوی سے بہت محبت تھی۔۔۔ان کی واحد اولاد محمد بھی اسی بیوی کے بطن سے پیدا ھوا۔۔۔۔
جب مثنوی۔”خسرو شیریں ” مکمل ھوئی تو وہ وفات پا گئیں۔۔۔۔اس وقت محمد کی عمر صرف 7 سال کی تھی۔۔۔
نظامی گنجوی نے دوبارہ شادی کرلی۔۔۔مثنوی ” لیلی مجنوں” مکمل ھوئی تو دوسری بیوی کا بھی انتقال ھو گیا۔۔۔۔اس مثنوی میں محمد کے بارے میں لکھا ھے کہ” محمد چودہ برس کا ھو چکا ھے اور وہ میرے دل کا چین ھے۔۔”
نظامی نے ایکبار پھر شادی کی۔۔۔اور مثنوی ” ھفت پیکر ” لکھنا شروع کی۔۔۔اس میں اپنے بیٹے کو کچھ نصیحتیں بھی کیں۔۔۔
“ھفت پیکر” کی تکمیل کے بعد ان کی تیسری بیوی بھی وفات پا گئی۔۔۔جس پر نظامی نے کہا ” اے خدا کیا میری ھر مثنوی پر میری ایک بیوی کی قربانی لینی ھے”
نظامی گنجوی شاعری میں فردوسی کو اپنا استاد مانتا تھا۔۔۔اس نے فردوسی کو حکیم اور دانائے عظیم کہا ھے۔۔۔شاھنامہ فردوسی اس کی پسندیدہ ترین کتاب تھی۔۔۔اس کا کہنا تھا کہ فردوسی نے شاھنامہ میں الفاظ کو نئی نویلی دلہن کی طرح سجایا ھے۔۔۔نظامی نے شیروان کے بیٹے کو شاھنامہ پڑھنے کی نصیحت بھی کی۔۔۔۔۔
نظامی درباری شاعر نہیں تھا وہ ساری زندگی دربار اور مجالس سے دور رھا۔۔۔اور اپنا وقت مطالعہ اور لکھنے میں صرف کرتا رھا۔۔۔۔
نظامی نے اپنی تین مثنویاں۔۔” ھفت پیکر” ۔” خسرو شیرین” ۔اور “سکندر نامہ” کو شاھنامہ فردوسی سے متاثر ھو کر لکھا۔۔۔جبکہ نظامی نے اپنی پہلی کتاب “مخزن الاسرار” ۔۔۔ثنائی کی ” حقیقت الحقیقہ” سے متاثر ھو کر لکھی۔۔۔
سکندر نامہ۔۔۔سکندر اعظم کی زندگی کے تین ادوار پر مشتمل ھے۔۔
1۔ فاتح اعظم
2۔ علم و دانش کی تلاش
3۔ پیغمبر سکندر بطور سیاح
سکندر اعظم کے احوال میں درج ھے کہ روم، مصر ، ایران، مندوستان، چین اور روس فتح کرنے کے بعد سکندر اعظم نے مکہ کا سفر بھی کیا۔۔۔
اس دیو ھیکل مجسمہ کو دیکھ کر آنکھیں خیرہ تھیں ۔۔۔۔۔ ذھن و دل حیرت اور خوشی کے جذبات سے معمور تھے۔۔۔ھم نے نظامی کو سلا م عقیدت کا نذرانہ پیش کیا ۔۔۔اچھری بازار کے قریب واقع نظامی نیشنل میوزیم فار لٹریچر دیکھنے چلے گئے۔۔۔یہ عجائب گھر ایک خوبصورت سجی سجائی لائبریری کی طرح تھا جس کی بیرونی دیوار۔۔۔پر مختلف ادور کے شاعروں اور ادیبو ں کی تصاویر رنگین پینٹنگز کی صورت میں مزین تھیں۔۔۔۔۔
نیلما ناھید درانی

SHARE

LEAVE A REPLY