کلثوم زیب ، تیرےاحساس کاوجودزندہ رہےگا

0
961

وہ احمد سلیم تھے ـ میں نے انہیں دیکھا نہیں تھا ـ مگر میں احساس کی آنکھ سے انھیں دیکھ سکتی تھی ـ یہ احساس ان الفاظ کے رخسار پر تھا جو میری آنکھوں کے سامنے رسالے کی صورت میں میرے ہاتھوں میں تھا ـ یہ معصوم جوانی تھی نویں جماعت کی اس حساس طالبہ کی جس کی آنکھوں میں مستقبل کے بہت سارے سہانے خواب تھے ـ جس کو وہ اپنی زندگی کے لیے چننا چاہتی تھی ـ نویں جماعت میں “جفاکش” کا پہلا رسالہ پہلی بار کامریڈ انور زیب نے لاکر دیا تھا ـ (کامریڈ میرے چچا زاد ہیں اور اب زندگی کے ساتھی بھی ـ) جس کو پڑھ کر مجھے پہلی بار انسان اور انسان دوستی ، انسانیت، مشکلات، ماضی حال اور مستقبل کا علم ہوا ـ یہ تو کوئ دوسری دنیا تھی ـ اس دنیا سے مختلف ـ یہ خوبصورت رسالہ جب گلدستے کی صورت میرے ہاتھوں میں پہنچتا تو میں کئ لمحے اسے سینے سے لگائے رکھتی پڑھتے پڑھتے سوجاتی ـ جاگتے ہوئے چھپاتی رہتی ـ کہ سرخ خطرناک رنگ تھا ـ مجھے ڈر لگا رہتا نہ جانے کیوں؟ کہیں کسی کی نظروں کے سامنے نہ آئے ـ کتنا محبوب رسالہ تھا ایک درسگاہ کی طرح ـ کسی انجانے دیس کی تصویر ـ کیا کچھ نہیں تھا اس میں ـ میں تحریریں پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتی رہتی ـ میں نے بھی ایک نظم لکھی 8 مارچ پر اور بھیج دی ـ اس دن تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی جب پرچے کے نظموں والے حصے میں میری نظم شائع ہوئ ـ مجھے یقین نہ آیا ـ ایسا محسوس ہوا جیسے کوئ نومولود بچہ ماں کی گود میں آیا ہو ـ میں نے اسے بار بار پڑھا اور اپنی اہمیت کا احساس بھی ہونے لگا اور کچھ سکون بھی ـ میں ہواؤں میں اڑنے لگی اور بے خودی میں مدیر کو ایک عدد خط لکھ ڈالا ـ خط کیا تھا؟ پہاڑوں کے دامن میں بیٹھی ہوئ ایک پاگل لڑکی کے ان گنت خوابوں کی داستان ـ کتنا لمبا خط تھا وہ ـ میں نے جو لکھا وہ پڑھے بغیر لفافہ میں ڈالا اور خالہ زاد بھائ کی منتیں کر کے اس کو ڈاکخانے بھیجا ـ میں اکثر تنہائ میں سوچتی تھی یہ میں نے کیا کر ڈالا؟ اگر انھیں برا لگا تو؟ اگر انھوں نے جفاکش بھیجنا بند کر دیا تو؟ ( اس وقت تک جفاکش مجھے ملنا شروع ہوگیا تھا) کتنے سارے سوال تھے جن کا میرے پاس کوئ جواب نہیں تھا ـ میں سوتے جاگتے یہی سوچتی رہی آخر ایک ہفتے کی جان لیوا انتظار کے بعد میرے خط کا جواب آیا چار صفحوں پر مشتمل خط جو میری خالہ جان کے گھر کے ایڈریس پر آیا تھا ـ میں تو اپنا ہوش کھو بیٹھی تھی ـ یقین اور بے یقینی کے عالم میں، میں نے دوپہر کو چھت پر جا کر خط کو پڑھا ـ بار بار پڑھا ـ امیدوں، روشنیوں اور اچھے مستقبل کی نوید تھا وہ خط ـ کتنا کچھ لکھا تھا میری تعلیم، میری تربیت، مجھے کتابیں پڑھنے کی نصیحتیں، شفقت ،جذبات کیا کچھ نہیں تھا ـ وہ کسی دوسری دنیا کی باتیں تھیں ـ وہ خط نہیں تھا ـ ایک امید تھی ـ ایک راستہ تھا ـ جس پر مجھے چلنے کی تلقین کی گئ تھی ـ وہ روشنی جس تک مجھے پہنچنا تھا ـ مجھے دکھائ گئ تھی ـ میرے حصے کی دنیا جہاں سب کچھ تھا، وہ سب مجھے حاصل کرنا تھا ـ میں سوچتی تھی یہ سب کیسے ممکن ہوگا؟ بہت لمبا سفر ہے، کیا ایسا ہوسکے گا؟ اسی ادھیڑ بن میں دن گزرتے رہے ـ خطوط کا یہ نہ تھمنے والا سلسلہ بھی چلتا رہا ـ میرے استاد سے سوال، استاد کے جواب ـ اب میں اکیلی نہیں تھی میرے استاد میرے ساتھ تھے ـ ہم اپنی باتیں کرتے تھے ـ بہت ساری باتیں ـ خوشی کی غم کی ـ دکھ کی ـ امید کی ـ کبھی وہ اپنے دکھڑے سناتے تھے ـ جس کو پڑھ کر میں اداس ہوجایا کرتی تھی ـ میں ہوا میں ہاتھ لہراتی جیسے ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر انہیں تسلی دینا چاہتی ہوں ـ جیسے ان کے دکھ پر مجھے درد ہوا ہو ـ مگر آنکھیں کھولنے پر احساس ہوتا کہ وہاں کوئ نہیں ـ لیکن مجھے یقین تھا کہ میری دادرسی ان تک ضرور پہنچ گئ ہوگی ـ ایک دن ان کا خط ملا ـ خط میں لکھا تھا کہ ” وہ اپنے گھر سے چلے گئے ہیں اپنی بیوی کو چھوڑ کر ” مجھے بہت برا لگا ” مگر آپ کامریڈ ہوکر ایسا کیسے کرسکتے ہیں؟ میرا سوال تھا ـ لیکن وہ میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی ـ وہ بولے ـ ” مجھے شور اچھا نہیں لگتا وہ بولتی رہتی ہے کوستی رہتی ہے ـ جھگڑالو ہے ـ اسے اعتماد نہیں ـ مجھے بہت سارے خطوط آتے ہیں جس کو پڑھ کر مجھے جواب دینے ہوتے ہیں لیکن پتہ نہیں وہ کیا سمجھتی ہے؟ مجھے خاموشی چاہیے تم سمجھ رہی ہو نا میری بات کو، میرے مسئلے کو؟
مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا وہ کیوں ایسا کہہ رہے ہیں ـ کیا کبھی انسان خاموش رہ کر بھی خوش رہتا ہے؟ مگر اس کی بیوی اس طرح کیوں سمجھتی ہے؟ لیکن وہ استاد تھے میں یہ کیسے کہہ سکتی تھی ـ کوئ بات میری سمجھ میں آ ہی نہیں رہی تھی ـ ہم دوستوں کی طرح ایک دوسرے کو نہ جانے کیا کیا باتیں کہتے رہتے ـ یہ عجیب سا رشتہ تھا ہم ملے نہیں تھے ـ کبھی ایک دوسرے کی آواز نہیں سنی تھی مگر ہم ایک دوسرے کے احساسات سے واقف تھے ـ وہ باپ نہیں تھے مگر میرے لیے ایک مشفق پدری احساس ان پر غالب تھا ـ دن گزرتے گئے ـ ایک دن میں نے خط میں لکھا ” میں شادی کرنے جارہی ہوں اسی سے جو کزن ہے کامریڈ ہے آپ جانتے ہو نا؟
وہ بہت خوش ہوئے تھے لکھا تھا ” لیکن اب تمہاری سچی لڑائ کا وقت قریب ہے ـ لڑ سکوگی؟ اور میں نے نہ سمجھتے ہوئے انھیں جواب دیا تھا ” ہاں لڑ سکتی ہوں اتنی ہمت تو ہے مجھ میں آپ ہی نے تو جینے کے لیے لڑنا سکھایا ہے ” اور جواب میں وہ ہنس پڑے تھے ـ

کچھ عرصہ بعد ان کا خط آیا کہ وہ لاھور شفٹ ہورہے ہیں اور کچھ عرصے کے لیے ان کے خطوط نہیں آئیں گے ـ اب خط کے لیے مستقل ایڈریس ڈھونڈنا پڑے گا ـ خیر پھر میری بھی شادی ہوگئ خطوط کا سلسلہ بھی بند ہوا کہ ان کا اپنا ٹھکانہ نہیں تھا وہ گھومتے رہے لکھتے رہے ـ ایک دن میں نے اخبار میں ان کی تصویر دیکھ لی وہ کسی پروگرام میں تقریر کر رہے تھے ـ اب ٹی وی کے پروگراموں میں گاہے بگاہے نظر آتے رہے ـ اداس خاموش چہرہ ـ کنجوس مسکراہٹ ـ جیسے اگر کھل کر مسکرائیں گے تو مسکراہٹ چھن جائے گی ـ سفید بالوں کی ایک لٹ ماتھے پر ـ کیا شخصیت تھی ـ زندگی بہت تیزی سے گزرتی رہی ـ ایک دن ہمیں پتہ چلا وہ اسلام اباد میں ہیں ـ میں اور کامریڈ انور زیب ان سے ملنے ڈاکٹر حمیرا اشفاق کے گھر ملنے گئے ــ یہ پھر سے یقین اور بے یقینی کے لمحے تھے ـ کیا میرے سامنے میرے استاد ہیں ؟ ـ یہی تو ہیں جنھوں نے جدوجہد پر مجھے عملی طور پر آمادہ کیا تھا ـ یہ یقین دلایا تھا کہ میں اپنے لیے لڑ سکتی ہوں ـ وہ سب حاصل کرسکتی ہوں جو مجھے چاہیے ـ “زندگی خود ہی ایک میدان جنگ ہے جہاں ہر وقت انسان حالت جنگ میں ہوتا ہے ـ کبھی خود سے کبھی دوسروں سے ـ ” یہ ان کے الفاظ تھے ـ میں اس نرم خو انسان کے سامنے بیٹھی ہوئ ان کی دھیمی آواز کو سن رہی تھی ـ سفید بالوں میں جیسے کوئ فرشتہ ـ یہ دھیمی آنچ کس کو جلائے گی ـ یہ تو شاید خود جل رہے ہیں ـ اس کی بیوی پاگل تھی کیا؟ اس انسان کو نہ سمجھ پائ ـ مگر یہ بھی سچ تھا کہ “آگ اور پانی کی کبھی نہیں بنتی ـ اس وقت میرے ذہن میں ان کے خطوط کی آوازیں گونج رہی تھیں ـ میں کھو گئ تھی ان کو دیکھ رہی تھی وہ مسکرا دیے جیسے کہہ رہے ہوں ” کیوں اب بھی یقین نہیں آرہا ہے کہ میں موجود ہوں ـ؟ ہم نے نمبر لیا بعد میں ان سے فون پر بات ہوتی رہتی ـ اکثر ملنا ہوتا ـ تین سال پہلے ہم نصیر آباد صوفی کانفرنس کے لیے بلوچستان اکھٹے گئے تھے ـ وہ پانچھ چھ دن ہماری بہت ساری باتیں ہوئیں ـ میں نے شکریہ ادا کیا ” استاد آپ نہ ہوتے تو شاید آج میں یہاں اس کانفرنس میں نہ ہوتی ـ میں حالات سے لڑ ہی نہ پاتی ـ وہ ہنسے ” شکریہ کہو انورزیب کو پگلی ـ میں نے کیا تیر مارا ” میں نے کہا ” اس کے لیے بھی تو لڑی تھی اسی جذبے سے جو آپ نے دیا تھا نا؟ اگر جذبہ نہ ہوتا تو کیسے لڑتی ؟ اپنے لیے، اس کے لیے؟ وہ سر ہلا کر بولے ” ہاں بے شک یہ بڑی جنگ تم جیت گئ ہو ـ چلو پانی پلاؤ ـ میں نے گلاس بھر کر دیا – بس دو ہی گھونٹ پیے ـ وہ بہت کم کھاتے تھے ـ کم بولتے تھے ـ شاید کم سوتے بھی ہونگے ـ لیکن سٹیج پر بولنے پر آتے تو رکتے نہیں تھے ـ ان دنوں مجھے ایک فرحت بخش اطمینان محسوس ہوا جب میں نے حمیرا اشفاق کو ایک بیٹی کی طرح ان کی خدمت میں مصروف دیکھا ـ یقینا بیٹی بن کر اس لڑکی نے وہ کیا جو اپنے بچے بھی نہیں کر پاتے ـ ہم اسلام اباد میں بھی کئ بار ملے ـ کچھ ماہ پہلے ایک سیمینار کے سلسلے میں پھر سے اسلام اباد جانا ہوا تو میں نے حمیرا سے کہا مجھے بابا سے ملنا ہے ـ وقت لے کر میں پہنچ گئ اتنے میں محبوب ظفر صاحب اپنی بیگم کے ہمراہ آگئے ـ کئ گھنٹے ہم ساتھ رہے ـ کھانا کھایا ـ میں نے ان کی ویڈیو بنائ ہم پاس بیٹھے تھے میں نے پوچھا ” قوم کے نام کیا پیغام ہے؟ مسکرائے ” کہہ دو میں مطمئن ہوکر جارہا ہوں ـ میں نے اپنی ڈیوٹی مکمل کر دی ہے ـ تمہارے ساتھ گزرے ہوئے لمحے ہمیشہ یاد رہے ہیں اور رہیں گے ـ آج تم آئ ہو بہت اچھا لگا ہے تمہیں یوں مصروف دیکھ کر اپنے خوابوں کی تعبیر پائ ہے ـ تم آتی رہا کرو اچھا لگتا ہے ـ پھر گہری خاموشی میں ڈوب گئے ـ میں نے کہا ” مجھے اسلام اباد اچھا نہیں لگتا ـ یہاں گھٹن بہت ہے جیسے یہاں بہت سارے گدھ ہوں اور جان کا خطرہ ہو ” وہ میری طرف دیکھ کر ہولے سے مسکرائے ـ میں نے پوچھا تھک گئے ہیں آپ؟ کہنے لگے نہیں آج میں نہیں تھکا ـ ”
میں نے دیکھا ان کی آنکھوں میں آنسو تھے ـ میں نے اپنے دوپٹے کے پلو سے ان کے آنسو پونچھے ” نہیں آپ کی آنکھوں میں آنسو اچھے نہیں لگتے ـ آپ تو حوصلے کا نام ہیں ـ ” مسکرائے ” نہیں یہ خوشی کے آنسو ہیں ـ اکثر اوقات ان کے خاموش آڈیو میسجز وٹس ایپ پر ملتے ـ ان کو وائس میسج کرنا نہیں آتا تھا اور میسج لکھنا بھی نہیں ـ بس میرے میسج کا جواب یہی ہوتا تھا کہ وہ خاموش وایس میسج بھیج دے ـ
کسی نے کہا وہ چل بسے ـ مگر کیسے؟ کیا ایسے لوگ جاسکتے ہیں بھلا ؟ نہیں ، وہ جاتے کبھی نہیں بس نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں ـ وہ تو متحرک رہتے ہیں ہر جگہ اپنی تحریروں میں ـ اپنی تقریروں میں ـ اپنے لگائے ہوئے پودوں میں ـ جسمانی طور پر بے شک وہ موجود نہ ہوں مگر ان کا احساس ہمیشہ زندہ رہتا ہے ـ آج میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگئ ہوں کہ بچے پیدا کرنے والا باپ صرف باپ نہیں ہوتا ـ باپ تو وہ ہوتا ہے جو ایک کونپل کو پودا اور پودے کو تناور درخت بنائے ان کو پروان چڑھائے ان کو پھل اور پھول دینے کے قابل بنائے ان کی ذہنی نشونما کرے ـ پتہ نہیں اس طرح کے کتنے بچے ہوں گے ان کے ـ ؟
بے شک ایسے لوگ زندہ رہتے ہیں ان کا احساس زندہ رہتا ہے ـ پھر میں کیسے مان لوں کہ وہ موجود نہیں ہیں ـ
“سو میرے استاد میرے دوست! آپ زندہ ہو ـ ہماری پینتالیس سالہ رفاقت بھی زندہ ہے اور رہے گی ـ جب تک میں ہوں آپ کیسے مر سکتے ہیں ـ؟؟
اس سوال کا
جواب بھی تیار رکھیے گا ـ

SHARE

LEAVE A REPLY