فیض احمد فیض۔ نصرت نسیم

0
49

اردو شاعری کے اُفق پرمیر سے لے کر ہمارے عہد تک بے شمار ستاروں کی کہکشائیں ہیں جہاں ہر ایک کی اپنی چمک دمک اور خوبصورتی ہےان جگ مگ کرتے ستاروں میں دو بڑے نام اقبال اورفیض کے ہیں۔جن کی شاعری دل ودماغ کو نئے نئے مفاہیم اور مُسرتوں سے ہم کنار کرتی ہے اور سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کے مقصدیت ااور پیغام کے باوجود شاعری پراپگنڈہ نہیں بنتی۔شعر کا داخلی پہلو اور مضمون جتنا مضبوط شعر کا خارجی حسن اس سے بھی بڑھ کر خوبصورت،دلکش ودل آویز۔
یہ ہمیں تھے جن کےلباس پر سرِ راہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سرِ بزمِ یار چلے گئے
نقش فریادی فیض کاپہلا مجموعہ کلام ہے،جس میں ابتدائے شباب کی رومانیت اور حسن پایا جاتا ہے۔
رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے
اس کے پہلے حصے میں ،خوبصور ت رومانی غزلیں مگر یہ دور مختصر رہا ۔جلد ہی عالمی جنگ،اقتصادی بد حالی، معاشرتی افراتفری انہیں رومانیت سے حقیقت کی تلخ دنیا میں لے آئی۔غمِ جاناں سے غمِ دوراں کے سفر میں محمود الظفر اور رشیدہ جہاں کی دوستی نےاور ترقی پسند تحریک سے وابستگی نے انہیں سکھایاکہ ادب برائے ادب کی بجائے ادب برائےزندگی کے تحت لکھناذہنی عیاشی نہیں بلکہ معاشرے کے پِسے ہوئے طبقات کو آوازدینا اور مقام دلانا ہے۔غمِ جاناں سے غمِ دوراں کی طرف آتے ہیں تو فیض بے اختیار کہہ اٹھتے ہیں۔
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
فیض نے پرانے استعاروں وتشبہات کو نئےمفاہیم سے آشنا کیا ہے۔ اردو شاعری رقیبِ روسیاہ کے تزکروں سے بھری پڑی ہےمگر فیض ایک انوکھے اور منفرد انداز سے رقیب سے یوں مخآطب ہیں۔
تجھ پہ اُٹھتی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے؟
نقشِ فریادی کے بعد دستِ صبا اور ذندان نامہ جیل اور جیل کے پر آشوب دور کی ترجمان ہے۔بقول فیض”جیل خانہ عاشقی کی طرح خود ایک بنیادی تجربہ ہے جس میں فکرو نظر کا ایک آدھا نیا دریچہ کھل جاتا ہےاور ابتدائے شباب کی طرح عام حسـیات پھر تیز ہو جاتی ہیں اور صبح کی پو،شام کے دھندلکے اور آسمان کی نیلاہٹ کے بارے میں پہلا سا تحیر لوٹ آتا ہے۔باہر کی دنیا کا وقت اور فاصلہ دونوں باطل ہو جاتےہیں۔
بجھا جو روزنِ زنداں تو دل یہ سمجھا ہے
کہ اب سحرتیرے رخ پر بکھر گئی ہو گی
چمک اُٹھے ہئں سلاسل تو ہم نے جانا ہے
کہ اب سحر تیرے رخ پر بکھر گئی ہو گی
فیض بڑے سے بڑے اور کڑے سے کڑے حالات میں بھی اُمید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتےان کی رجائیت اور خوش اُمیدی کا انداز ایلس کے نام خط سے ہوتا ہے شادی کی سالگرہ پر جیون ساتھی سے دور جیل کی تنگ وتاریک کوٹھری میں مقید ہیں اور اس عالم میں بھی فیض ایلس سے یُوں مخاطب ہیں۔
“آؤ ان بیتے دنوں کا شکرانہ ادا کریں دس برس ایسی دولت ہے جسے کو چھین نہیں سکتااگر کسی کو عقبیٰ اور آسمآںی احکا مات پر ایمان نہ ہو تونیکی اورایمان کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ جو لمحہ حق و صداقت کی پروش میں گزرے وہ بجائے خود خوشی کا اٰیسا خزینٰہ بن جاتا ھے جسے کوئی راہزن لُوٹ نہیں سکتا ہے۔شاید مذہبی اِصطلاح میں توشہِ آخرت کے صحیح معنی یہی ہیں۔
یوُنہی ھمیشہ کھِلاے ہیں ھم نےآگ میں پُھول
نہ اُن کی ہارنئی ہے نہ اپنی جیت نئی
فیض نے صرِف زُبانی دعوہ ا انقلاب کا نعرہ نہیں لگایا اپنے اُصولوں ا ورآدرشوں کے لیے عمرِ عزیز کا بیشتر حصہ زندان میں گزارا جیل کی تنگ وتاریک کوٹھری میں حوصلے ،جرات اور اُمیدکے دیپ جلاتے رہے۔
ہم اہلِ قفس تنہا بھی نہٰیں ہر روز نسیمِ صبح وطن
یادوں سے مؑعطر آتی ہے اشکوں سے منور جاتی ہے
فیض کی شاعری جہاں دلوں میں جذبے کی جوت جگاتی ہے وہیں خوبصورت تشبیہات معانی وبیاں کہ خوبصورتیاں دامنِ دل اور روح کی ہرائیوں میں ےوں اُترتی ہیں کہ اس مسرت کو لفظوں مےں بےان کرنا ممکن نہیں
اس قدرپیار سے اے جانِ جہاں رکھا ہے
دل کے رخسار پہ اس وقت تیری یاد نے ہاتھ
فیض میں ضبط وتحمل،اتحاد،اذیت کی موت سے نبردآزمائی کی بدولت پیدا ہوئی۔ایک ایسی موت جو جدو جُہد کے لیے خود کو وقف کر دینے والوں کے لیےنا گزیر ،ان کی شاعری میں اسیری کا اداس کر دینے والا غم اوردکھ مگر ساتھ ہی پر اُمیدی اور رجائیت اداسی کی اس تاثیر کو زائیل کر دیتی ہے۔
دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
اشفاق احمد جیسے ادیب انہیں ملامتی صوفی کہتے ہیں ،لکھتے ہیں ،یہ ادب یہ صبر یہ دھیما پن اس قدر کم سخنی ان سب کو دامن میں سمیٹ رکھا ہے اوپر سے اشتراکت کا گھنٹا بجائے پھرتے ہیں تاکہ کوئی قریب نہ آئے اورمحبوب کا راز کھل جائے۔
فیٖض صرف اپنے ملک کی بے انصافیوں ،اندھیروں پر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے مظلوم پسے ہوئے عوام کے حقوق کی بات کرتے ہیں چاہےوہ فلسطین ہو ایران ہویا عراق۔ان کی نظم “ہم جوتاریک راہوں میں مارے گئے”روز برگ جوڑے کی بے مثآال قربانی سے متاثرہو کر لکھی گئی یہ نظم آفاقیت کی دلیل ہے اس نے تمام دنیا کے شہیدوں کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا ۔
کربلا سے لے کر ایران، عراق،افریقہ،فلسطین تمام دنیا کے حریت پسند ایک ہی نعرہِ مستانہ “سرِوادیِ سینا” فیض کی شاعری کا ایک نیا موڑ ہے جہاں وہ اسلامی تشخـض کا ااظہار کرتے نظر آتے ہیں ۔
فیض دنیا بھر کے محنت کشں، مظلوموں اور بے نواؤکے جذبات کے ترجمان ہیں۔انہوں نےپاکستان،تیسری دنیا بلکہ دنیا کو رجائیت اُمید انسان اور انسانی اقداربلندی دی ہے۔
فیض کی بردباد،متحمل مزاج، میٹھی مسکان اور ان کی دھیمے مزاج اورخوبصورت شاعری کی بنا پر ان کی زندگی میں ہی انہیں زبردست پزیرائی ملی جو کہ کم ہہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔
دنیا میں ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جن کے نام سے ملک پہچانا جاتا ہے۔ فیض یقیناَ ملک کی پہچان تھے اورعالمی سطح پر دانشوروں ادبی سماجی حلقوں میں ان کا نام کافی سمجھا جاتا ہے۔( آغا ناصر)
احمد ندیم قاسمی جیسےبڑے شاعر فرماتے ہیں ،قاتل،بسمل،داروراسن، قفس وصیادگھسے پٹے الفاظ تھے مگر فیض کے معجز نما لمس نےزنہیں نئی زندگی بخش دی۔ان کے ہم اثر شاعر احمد فراز نے ایک نظم “بیادِ فیض ” میں انہیں یوں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
تو مجھ کو چھوڑ گیا لکھ کے نسخہ ہائے وفا
میں کس طرح تجھے اے دوست بے وفا لکھوں
شہید جسم سلامت اٹھائے جاتے ہیں
خدا نہ کردہ کے میں تیرا مرثیہ لکھوں
فیض نے اپنے نظریات وآدرشوں کی قیمت یوں چکائی کے طویل عرصہ قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔عمر کے آخری حصے میں جلا وطنی اوروطن سےدوری کے صدمات بھی سہنے پڑے
ہمیں کیا برا تھا مرنا اگرایک بار ہوتا
فیض کی شاعری جہاں دنیا کی بے انصافی، ظلم وستم،اونچ نیچ پر احتجاج اورغم کی کیفیت ہے۔وہاں امید اور آس کے دیپ بھی روشن ہیں۔اپنی ایک نظم میں مستقبل کے متعلق یوں خوشخبری دیتے ہیں کہ جب یومِ حساب ہو گاظلم وستم کے پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اُڑ جائیں اور سلطانی جمہور کا دور یوں آئے گاکہ میر وسلطان کے بت پاش پاش ہوجائیں گے۔تب راج کرے گی خلقِ خدا۔
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو منظر بھی ہے ناظر بھی
اٹھے گا اناالحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اورتم بھی ہو
اور راج کرےگی خلقِ خدا
جو تم بھی ہو اور میں بھی ہوں
کتابیات: نسخا ہائے وفا، فیض احمد فیض
فیض شاعری وسیاست۔ پروفیسر فتح ملک محمد

صلیبیں میرے دریچے میں۔ ازفیض

نصرت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY