مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کو 76 سال بیت چکے، ہر سال کی طرح اس سال بھی 27 اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیریوں کے لیے یومِ سیاہ منایا جا رہا ہے۔

یومِ سیاہ کے موقع پر پاکستانی سیاست داں بھارت کی جانب سے کشمیر پر ڈھائے جانے والے مظالم پر مزمتی بیانات جاری کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں کشمیریوں کے حق میں ریلیاں بھی نکالی جا رہی ہیں۔

آصف زرداری نے کیا کہا؟
سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بھارتی قبضے سے آزادی مقبوضہ کشمیر کے عوام کا بنیادی اور جمہوری حق ہے، طاقت کے بل پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔

سابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کیا کہنا ہے؟

سابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے یوم سیاہ کشمیر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بھارت نے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں، 5 اگست 2019 کو بھارت نے 27 اکتوبر 1947 کی سیاہ تاریخ دہرائی، 76 سال میں بے گناہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی جبر واستبداد کا ہر ہتھکنڈا ناکام ہوا ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کشمیری نسل در نسل اپنی آزادی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، کشمیر اور فلسطین کے تنازعات کا 76 سال میں حل نہ ہونا اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی بڑی ناکامی ہے، اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، عالمی برادری جموں و کشمیر اور فلسطین کے عوام سے کیے وعدے پورے کرے۔

اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا….

اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے یومِ سیاہ پر کشمیری عوام سے مکمل یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر تقسیم پاک و ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے، خطےمیں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا پر امن حل ناگزیر ہے، پاکستان کشمیری عوام کی تمام فورمز پر سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

سینیٹر شیری رحمٰن کا بیان
نائب صدر پیپلزپارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، آج جموں و کشمیر پر بھارتی قبضے اور بربریت کے 76 سال ہو گئے، 27 اکتوبر 1947ء کے بھارتی قبضے کو کشمیریوں نے آج تک تسلیم نہیں کیا۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا پیغام
وزیرِ اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے کہا ہے کہ لاکھوں بھارتی فوجیوں نے کشمیریوں کو حراست میں لے رکھا ہے، کشمیری اپنے ہی گھروں میں قید ہیں، کشمیریوں نے ثابت کر دیا کہ بھارت ان کی تحریک کو دبا نہیں سکتا، پاکستان کشمیری بھائیوں کی سفارتی اوراخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

کنوینر ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے….
خالد مقبول کا کہنا ہے کہ 27 اکتوبر کشمیریوں سمیت تمام آزاد ریاستوں کے لیے سیاہ دن ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کے دن کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو سلب کیا گیا، آزاد ریاست پر جبراً مسلط ہو جانا کھلی دہشت گردی ہے۔

نگراں وزیرِ داخلہ سرفراز احمد بگٹی کا پیغام
نگراں وزیرِ داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 27 اکتوبر مقبوضہ کشمیر کی تاریخ میں سیاہ ترین دن ہے، جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے بڑے حصے کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور عالمی تنظیمیں بھارت کو مظالم سے باز نہیں رکھ سکیں، نریندر مودی نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی دھجیاں بکھیر دیں۔

نگراں وزیرِ داخلہ بلوچستان کا بیان
نگراں وزیرِ داخلہ بلوچستان محمد زبیر جمالی نے کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ 27 اکتوبر1947ء کشمیر کی تاریخ کا سیاہ دن تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ آزادی مقبوضہ کشمیر کے عوام کا بنیادی حق ہے، ہم آزادی کی اس جدوجہد میں کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

نگراں وزیرِ داخلہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ خطے کا امن مسئلہ کشمیر کے حل سے وابستہ ہے۔

نگراں وفاقی وزیرِ اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا….
یومِ سیاہ کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے نکالی گئی ریلی سے خطاب کے دوران نگراں وفاقی وزیرِ اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا ہے کہ بھارت نے 27 اکتوبر 1947ء کو مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا، کشمیری عوام پر ظلم کی تاریخ دہائیوں پر محیط ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جبر بڑھنے کے باوجود کشمیریوں میں آزادی کی تڑپ بڑھی ہے، دنیا کی کوئی طاقت آزادی کی تحریک کو نہیں روک سکتی۔

مرتضیٰ سولنگی نے یہ بھی کہا ہے کہ بھارت نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی شدید خلاف ورزی کی ہے، بھارت نے اس خلاف ورزی سے اپنے آئین سے بھی روگردانی کی ہے، دنیا میں انصاف ہو گا تو امن ہو گا۔

صوبۂ سندھ میں ریلی کا انعقاد
یومِ سیاہ کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے صوبۂ سندھ کے شہر کراچی میں بھی ریلی نکالی گئی۔

اسکول کے بچوں نے ہاتھوں میں کشمیری پرچم تھام کر یک جہتیٔ کشمیر ریلی میں شرکت کی۔

نگراں وزیرِ داخلہ سندھ بریگیڈیئر (ر) حارث نواز بھی ریلی میں شریک ہوئے۔

اس دوران اُن کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ 76 سال پہلے کشمیر کو زبردستی بھارت کا حصہ بنایا گیا، کشمیر کو زبردستی پاکستان سے چھینا گیا، قائدِ اعظم ہمیشہ کہتے تھے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔

بریگیڈیئر ریٹائرڈ حارث نواز نے یہ بھی کہا کہ انسانی حقوق کی بات ہوتی ہے تو فلسطین اور کشمیر میں کیا ہو رہا ہے اس پر بھی بات ہونی چاہیے، ہم ہمیشہ کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں۔

ہنگو اور اورکزئی میں ریلیاں
اورکزئی ہیڈکوارٹر سے مین جی ٹی روڈ تک کشمیریوں سے اظہارِ یک جہتی کے لیے ریلی نکالی گئی۔

یومِ سیاہ پر بھارت کے خلاف وادیٔ نیلم سمیت 8 مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں۔

دوسری جانب کشمیریوں سے اظہارِ یک جہتی کے لیے بدین، استور، مظفر گڑھ، غذر، گھوٹکی، خانیوال، نواب شاہ میں بھی ریلیاں نکالی گئیں۔

پشاور: ریلی میں گورنر اور نگراں وزیرِ اعلیٰ کی شرکت
پشاور میں کشمیریوں سے اظہارِ یک جہتی کے لیے سی ایم سیکریٹریٹ سے گورنر ہاؤس تک ریلی نکالی گئی۔

گورنر اور نگراں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا نے اس ریلی کی قیادت کی۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران گورنر خیبر پختون خوا غلام علی نے کہا کہ ملک بھر میں یومِ سیاہ منایا جا رہا ہے، پاکستان مقبوضہ کمشیر کے عوام کے ساتھ ہے، مظلوم کشمیریوں کی آزادی کے لیے کوشش کریں گے۔

گورنر پنجاب کا تقریب سے خطاب
گورنر پنجاب نے کہا ہے کہ ہم اپنی آواز کشمیروں کے ساتھ ملانے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں، عالمی براداری کو مسئلہ کشمیر اور فلسطین پر غور کرنا ہو گا، اقوامِ متحدہ کو کشمیر اور فلسطین کے لیے اپنا کرادار ادا کرنا ہو گا۔

بڑے ایئرپورٹس پر بینرز، پرچم آویزاں
ترجمان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق یومِ سیاہ کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایئر پورٹ کے مختلف حصوں میں سیاہ جھنڈے لہرائے گئے۔

ترجمان نے بتایا ہے کہ مختلف ایئر پورٹس کی سمت آنے والے راستوں پر بھی بینرز نصب کیے گئے ہیں، ایئر پورٹ لاؤنجز میں اسکرینوں پر آزادی کے گیت اور دستاویزی فلمیں چلائی گئیں جبکہ مسافروں کی آگاہی کے لیے پمفلٹ بھی تقسیم کیے گئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY