اچھا سنو کل کا اسکین ۔۔۔اس سی ٹی اسکین کی طرح تکلیف دہ تونہیں ہوگا ۔۔ یعنی انجیکشن لگے گا ۔۔ آفتاب کو میری نیلے بازو یاد آگئے تھے۔ جس پر وہ ہر دو گھنٹے بعد ایک نیا آئس پیک رکھتے تھے کہ کسی طرح آپریشن سے پہلے بازو ٹھیک ہوجائیں تاکہ انیستھیزیا کی ٹیم کو ڈرپ لگانے میں مشکل نہ ہو۔۔
جی بون اسکین بھی کم وبیش ویسا ہی ہوتا ہے ۔۔ میں انہیں سمجھا رہی تھی جیسےمیں اپنے مریضوں کو بتایا کرتی تھی ۔
ہڈیوں کا اسکین ایک خصوصی ریڈیالوجی کا طریقہ کار ہے جو جسم کی مختلف ہڈیوں کی جانچ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ ٹیسٹ ہڈی میں جسمانی اور کیمیائی تبدیلیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ بعض حالات میں علاج کی پیش رفت جانچنے کے لیے ہڈیوں کا اسکین بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ہڈیوں کا اسکین جوہری ریڈیالوجی طریقہ کار کی ایک قسم ہے۔
ہمارے جسم میں 206 ہڈیاں ہیں ۔۔ لیکن آپ کو معلوم نہیں ہوگا کہ شیر خوار بچوں میں تقریباً 270 ہڈیاں ہوتی ہیں جو کہ بالغ ہونے پر ایک دوسرے میں ضم ہونے سے 206 سے 213 ہڈیاں بن جاتی ہیں۔ ہڈیوں کی تعداد میں تغیر کی وجہ یہ ہے کہ کچھ انسانوں کی پسلیاں، مہرے اور انگلیوں کی تعداد مختلف ہو سکتی ہے۔
جب ہم جسمانی طور پر بیمار ہوتے ہیں تو ہماری ہڈیاں بھی متاثر ہوتی ہیں ۔ ہڈیوں کے بارے میں مخصوص طبی مسائل کا تعین کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ دوسرے اعضاء کی جانچ پڑتال ضروری ہے ۔۔. یہ ایک جوہری ریڈیالوجی ٹیسٹ ہے جو عام طور پر ٹریکر یا
radionuclide
کے طور پر جانا جاتا ہے ، جس میں ایک تابکاری مادے کا استعمال کرتے ہیں جسے خون میں براہ راست
IV یا IV
انفیوژن یعنی ڈرپ سے شامل کیا جاتا ہے. ہڈی کے اندر ہونے والی بیماری کو جاننے کے لئے 2-3 گھنٹے کی مدت کی ضرورت ہوتی ہے. تاکہ تابکاری مادہ ہڈیوں میں وہاں وہاں جذب ہو جائے جہاں جہاں بیماری ہوتی ہے ۔ بون اسکین کی گاما ریز ہڈیوں کی تصاویر لے لیتی ہیں اور ہمیں پتہ چل جاتا ہے کہ ہماری ہڈیوں کی کیا حالت ہے ۔
یعنی بون اسکین میں آدھا دن لگ سکتا ہے ۔۔ آفتاب نے دوبارہ پوچھا ۔۔
جی پہلے تو وہ بغیر ٹریکر کے ایکسرے لیں گے پھر ٹریکر یا
radionuclide
کاانجکشن لگایئں گے ۔۔اس کے تین گھنٹے بعد پھر دوبارہ سے ایکسرے لیں گے ۔ بون سکینر میں منفرد کیمرے لگے ہوتے ہیں جو
“Geiger Counter”
کے مطابق کام کرتے ہیں اور تصاویر لینے میں 30 سے 90 منٹ تک لگ سکتے ہیں۔ پھر جب ہم تصاویر دیکھتے ہیں تو جہاں پر بیماری ہوتی ہے وہ سفید ہڈی میں کالے دھبے کے طور پر نظر آتی ہے اور اس طرح ہم جان جاتے ہیں کہ مسلہ کیا ہے یعنی بیماری کیا ہے اور کہاں ہے ۔۔یعنی
انفیکشن (Bone Infection )
ہڈی ٹیومرز (Bone Tumor)
گٹھیا (Arthritis)
ہڈی کا کینسر (Bone Cancer )
ہڈی کے فریکچر (Bone Fracture)
آسٹیوپروسیس (Osteoprosis)
کینسر سیکنڈریز
( Bone Metastasis )
یعنی پرائمری کینسر کہیں اور ہوتا ہے جو پھیل کر ہڈی میں آ جاتا ہے اسے بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔

ہڈیوں کا اسکین ایک خصوصی ریڈیالوجی کا طریقہ کار ہے
اس ٹیسٹ میں کوئی خطرہ نہیں ہوتا کیونکہ تابکاری جزو کم سے کم استعمال کیا جاتا ہے جو گھنٹوں کے اندر غائب ہو جاتا ہے. ۔۔ ہاں ٹرینر کا انجکشن تھوڑا تکلیف کا سبب بن سکتا ہے، لیکن یہ زیادہ تر مریضوں کے لئے برداشت کرنا آسان ہوتا ہے. صرف ایک مسئلہ ہے جو اس پروسیسنگ کے دوران ہو سکتاہے اور وہ ہے ریڈیو نیوکلائیڈ کی الرجی ۔۔ لیکن اس کے چانس بھی کم ہی ہوتے ہیں ۔
یعنی اتنی پریشانی کی بات نہیں ہے جتنی مجھے لگ رہی تھی ۔۔
جی جی ۔۔ ابتدائی تشخیص اور علاج افسوس سے تو بہتر ہے ناں .۔۔ کچھ تکلیف اٹھا لی جائے ۔۔ میں نے کل کی تیاری کے لئے ضروری رپورٹس بیگ کے ساتھ ہی رکھتے ہوئے کہا ۔
جب تم میڈیٹیشن کلاس میں تھیں ۔۔ آمنہ کافون آیا تھا
اچھا ۔۔۔۔ کیا کہہ رہی تھی ۔۔۔ میں نے آ فتاب سے پوچھا کیونکہ اس کافون تو روز ہی آتا تھا ۔۔ آج یقیننا کوئی نئی بات تھی جو آفتاب مجھے بتاناچاہ رہے تھے ۔
وہ کہہ رہی تھی ۔۔۔ جب ہم بون اسکین سے واپس آئیں گے وہ گھر آ چکی ہو گی
لیکن اس نے تو اپنے بھائیوں کے ساتھ ہفتہ چار جون کو آنا تھا
ہاں ۔۔ اور یہ بھی کہ اپنی بلیوں لیو
(Leo)
اور کلیو
(Cleo)
کے ساتھ آ رہی ہے ۔۔ کہہ رہی تھی کہ امی کو بتا دیں کہ میرے بچے میرے ساتھ آئیں گے اور پورے تین ہفتے نانی کے ساتھ رہیں گے ۔
سچ کہیئے !
ہاں وہ کل جمعے کی دوپہر تک گھر پہنچ جائے گی
اف ۔۔ابھی تو اس کاکمرہ بھی تیار نہیں کیا ۔۔
آمنہ کو بھی میری ہی طرح بستر پر سفید چادریں پسند ہیں اور کوئلٹ کوور بھی سفید ۔۔ ابھی بچھا لیں ۔۔۔کل تو جانےکیا ہو ۔۔ہاتھ بازو سب نیلے پیلے ۔۔جان ہی نہیں رہتی ٹیسٹ کے بعد۔۔۔ اور ہاں آپ نے اس کی لاڈلی بلیوں کا اسپیشل کھانا خرید لیا تھا ناں ۔۔ وہ پہلی بار نانی کے گھر آ رہے ہیں انہیں کوئی تکلیف نہ ہو ۔۔ میں خود ہی اپنی سوچ پر ہنس پڑی ۔۔
سنیئے ان کا لٹر باکس بھی اندر ہی رکھ دیجئے گا ۔۔
جانے بگینی کیا ری ایکٹکرے اور وہ دونوں بھی تو اتنے لاڈلے ہیں ۔۔ تین گھنٹوں کا سفر کر کے آئیں گے ۔۔حیران رہ جائیں گے ۔۔ لیو اور کلیو گھر میں رہنے والی بلیاں تھیں کیونکہ وہ یونٹ میں رہتے تھے ۔۔اور ہماری بگینی اور بینو آزاد ۔۔ گھر میں کم اور باہر زیادہ رہتے تھے ۔۔ اور ان کا دوست آرنلڈ جو پڑوسیوں کا بلا تھا لیکن ان کے ساتھ زیادہ رہتا تھا ۔۔ مجھے فکر کہ اگر دروازہ کھلا رہ گیا تو ۔۔ بچے گھر واپس کیسے آپائیں گے ۔۔ ہائے خدا نہ کرے جو میرے بچوں کو کچھ ہو ۔۔
اومائی گوڈ ۔۔بگی ، بینو اور آرنلڈ کا کیا ہو گا ۔۔ اب لیو کلیو کے لئے تو کیٹ فلیپ لگانا ہو گا اور باہر کادروازہ جوان کے لئے ہر وقت کھلا رہتا تھاوہ بھی بند رہے گا ۔
کام ڈاؤن (سکون کرو) یار ۔۔ سب ٹھیک رہے گا
کچھ نہیں ہو گا نہ ہماری بلیوں کو اور نہ آمنہ کی بلیوںکو ۔۔ سب ایک دوسرے کے ساتھ رہنا سیکھ لیںگے
اب بہت رات ہو گئی ہے ۔۔ جوہوگا اب صبح ہی ہو گا ۔۔ شکر ہے آفتاب نے فیصلہ سنا دیاتھا ورنہ میں تو آمنہ کے کمرے کی طرف چل پڑی تھی ۔۔
میں سوتے جاگتے سوچ رہی تھی ۔۔
جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم














آج کی تحریر حسب معمول بہترین رہی
بھیگی پلکوں کے ساتھ پڑھتی ہوں آخر مسیحا ہو نا ۔۔۔۔۔چاہتی ہو کہ تمہاری تکلیف بھی کسی کا بھلا کر دے سلامت رہو ڈھیروں دعائیں