اسرائیلی بمباری کے شکار غزہ کے فلسطینیوں کی بڑی تعداد معذور ہوچکی ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ معذور افراد اب غزہ میں ہیں۔
غزہ میں جاری جنگ نے فلسطینیوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے، اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ معذور افراد اب غزہ میں موجود ہیں، صرف حالیہ جنگ کے دوران تقریباً 4 ہزار 800 افراد کے اعضا کاٹنے پڑے جن میں سب سے زیادہ متاثر بچے ہیں، جنگ سے پہلے غزہ میں 2 ہزار سے زائد افراد معذوری کی زندگی گزار رہے تھے۔
غزہ کا سب سے بڑا اسپتال الشِفا کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہے، طبی شعبے پر شدید دباؤ ہے، مصنوعی اعضا اور ماہر سرجنز کی کمی ہے جبکہ بنیادی سہولتوں تک رسائی بھی نہ ہونے کے برابر ہے، بچوں میں جسمانی معذوری کے ساتھ نفسیاتی مسائل میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔













