ملک کی سیاسی صورتحال میں بڑھتے ہوئے تناؤ کو دیکھتے ہوئے اہم اپوزیشن جماعتوں نے دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر منصوبہ بندی کے تحت دی جانے والی حکومتی بریفنگ کے بائیکاٹ کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق جیعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن (جے یو آئی ف) پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ 28مارچ کو ہونے والی پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی جبکہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی اجلاس کے بائیکاٹ کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی پہلے ہی حکومت کو تجویز پیش کر چکی ہے کہ وہ نیشنل ایکشن پلان یا فوجی عدالتوں پر بریفنگ کے لیے پارلیمنٹ کا ان کیمرہ مشترکہ اجلاس بلائے۔
پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق بدھ کو اسلام آباد میں ان کی جماعت کے خلاف پولیس کی سفاکانہ کارروائی کے بعد پارٹی قیادت کا کسی بھی فورم پر حکومتی نمائندوں کے ساتھ بیٹھنا بہت مشکل ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ نے تصدیق کی کہ نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے طلب کیے گئے اجلاس پر حکمت عملی وضع کرنے کے لیے ان کی جماعت مسلم لیگ ن سے رابطے میں ہے اور دونوں جماعتوں کے بریفنگ سے دور رہنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ حکومت قومی مسائل کے حل کے لیے پارلیمنٹ کا استعمال کرے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن وزیر اعظم عمران خان پر زور دے گی کہ وہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کریں۔












