انا پرستی نے ہمیں اس قدر بری طرح سے جھکڑ رکھا ہے ، کہ اپنے وراثتی نظریے کا غلط ثابت ہو جانا ننگ و عار سمجھتے ہیں ، اور اس کو درست اور حق ثابت کیے رکھنے کیلئے ہر جائز و ناجائز طریقہ اپناتے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔
ان ( جائز اور ناجائز ) طریقوں میں سے ایک طریقہ ” شخصیات ” کا دفاع ہے ، چاہے وہ شخصیات موجودہ ہوں یا تاریخی شخصیات ہوں ۔ ۔ ۔
مسلک یہ بنا لیا ہے کہ فرق نہیں پڑتا کہ فلاں شخصیت نے کیسی کیسی جنایت کاریوں کا ارتکاب کیا ، عدل کو پاوں تلے کیسے روندا ، الہیٰ اور انسانی اقدار کی حُرمت کیسے چاک کی ، اور کس طرح اپنے نفس کی غلامی میں مبتلا ہو کر ہر شے کو اپنی راحت و اطمینان کیلئے کیسے استعمال کیا ۔ ۔ ۔ ہمیں ان سب سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، ہمیں تو بحرصورت اس شخصیت کا دفاع کرنا ہے ، اور اس کو صاحبِ عصمت ثابت کیے رکھنا ہے ۔ ۔ ۔
چونکہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ یہ شخصیت یا شخصیات باطل پر اور گمراہ تھیں ، تو ان سے جڑی ہماری ساری زندگی کی نظریات کی عمارت یکدم گِر جائے گی ، جو ہمارے مطابق ننگ و عار کی بات ہے ۔ ۔ ۔
پس فرق نہیں پڑتا کہ شخصیت کیسی بھی رہی ہو ، اس کا بحرحال دفاع کرنا ہے ، تاکہ ہمارا نظریہ ( چاہے وہ درست ہو یا باطل ہو ) درست ثابت رہے ، اور ہماری انا کو ٹھیس نہ پہنچے ۔ ۔ ۔
جسٹن سنو ۔ ۔ ۔
انتخاب فائزہ عباس













