کاسترو تین اگست 1926 میں کیوبا کے ایک امیر خاندان میں پیدا ہوئے

0
266

فیدل الیہاندرو کاسترو تین اگست 1926 میں کیوبا کے ایک امیر خاندان میں پیدا ہوئے جو پیشے کے اعتبار سے جاگیردار تھا لیکن اپنی آرام دہ طرز زندگی لیکن اردگرد پھیلی اذیت ناک مفلسی کی صورت میں سماجی تفریق اور دیگر مصائب ان کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں تھے اور اسی نے انھیں انقلابی بناڈالا۔
اس وقت کیوبا پر فلجینسیو بتیستا کی حکومت تھی جن کا اقتدار بدعنوانی، تنزلی اور عدم مساوات کی علامت تھا۔ کاسترو اس کے خاتمے کے لیے پرعزم تھے۔
اس زمانے کا کیوبا کسی کھلنڈرے شخص کے لیے جنت کی مانند تھا لیکن درحقیقت وہ منظم مجرموں کی پناہ گاہ کی مانند تھا۔ وہاں جسم فروشی، جوئے بازی اور منشیات کی سمگلنگ عام تھی۔
کاسترو اور اس کے انقلابی گروہ نے موجودہ گوانتاناموبے کے جنوب میں واقع سیراما اسٹیا نامی پہاڑوں میں موجود اپنے اڈے سے بڑے پیمانے پر گوریلا مہم شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی۔

دو جولائی کو 1959 کو کیوبا کے صدر مقام ہوانا میں یہی باغی فوج داخل ہو گئی۔ نتیجتاً کاسترو فتحیاب ہوئے، بتیستا کو راہِ فرار اختیار کرنا پڑی اور کیوبا کو نئی حکومت مل گئی۔ یہ کامیابی ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے انقلابی ارنسٹ چی گیوارا کو بھی ملی تھی جنھوں نے کاسترو کی انقلابی تحریک میں حصہ لیا تھا اور بعد میں حکومت کا حصہ بھی بنے۔
کیوبا کے نئے حکمرانوں نے لوگوں کی زمینیں واپس کرنے اور غربا کے حقوق کے تحفظ کا وعدہ کیا۔ لیکن جلد ہی منظر نامہ بدل گیا، حکومت نے ملک میں یک جماعتی نظام مسلط کر دیا جس کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں کو جیل کی ہوا کھلائی گئی اور مزدوروں کے کیمپ سیاسی قیدیوں سے بھر گئے۔ صرف یہی نہیں ہزاروں لوگوں کو جلاء وطنی اختیار کرنی پڑی۔

بے آف پگ بغاوت کے دوران فیدل کاسترو ٹینک سے چھلانگ لگاتے ہوئے
کاسترو کا دعویٰ تھا کہ ان کے نظریے میں سب سے مقدم حیثیت کیوبا کے عوام کی ہے۔
انھوں نے ایک موقعے پر کہا تھا: ‘اشتراکیت اور مارکسیت سے نہیں، مگر بہتر منصوبہ بندی سے تشکیل دی گئی معیشت میں جمہوریت اور سماجی انصاف کی ترجمانی ہوتی ہے۔’
1960 میں فیدل کاسترو نے کیوبا میں موجود ان تمام کاروباروں کو قومی ملکیت میں لے لیا جو دراصل امریکہ کی ملکیت تھے۔ جواباً امریکہ نے کیوبا پر تجارتی پابندیاں عائد کر دیں جو حالیہ برسوں میں صدر براک اوباما کے دور میں کہیں جا کر اٹھنا شروع ہوئیں۔
کاسترو کا یہ دعویٰ کرتے تھے کہ انھیں مجبوراً سوویت یونین کے سربراہ نیکیتا کروسچو سے رابطے استوار کرنا پڑے، تاہم سے بہت سے تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ کاسترو نے اپنی خوشی اور مرضی سے سوویت یونین کو گلے لگایا تھا۔
اس سے قطع نظر کہ ان کے اس اقدام کے کیا پیچھے کیا محرکات تھے، نتیجتاً کیوبا سرد جنگ کا میدان بن گیا۔
اپریل 1961 میں امریکہ نے کیوبا سے کاسترو کے اقتدار کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے کے لیے اسیری کی زندگی گزارنے والے کیوبا کے باشندوں کو غیر سرکاری فوج میں بھرتی کرنا شروع کر دیا۔
کیوبا کے ساحل بے آف پگز میں امریکی معاونت میں تربیت حاصل کرنے والے کیوبن باشندوں نے حملہ کیا لیکن کیوبا کے فوجی دستوں نے اسے ناکام بنا دیا۔ اس لڑائی میں لاتعداد حملہ آور مارے گئے جبکہ ایک ہزار کے قریب گرفتار ہوئے۔
فیدل کاسترونے اس حملے کو ناکام بنا کے امریکہ کو ناکوں چنے چبوا دیے، جسے امریکہ ایک عرصے تک نہیں بھلا سکا۔
اگلے برس یعنی 1962 میں امریکہ کے جاسوس طیاروں نے کیوبا کے مختلف مقامات پر سوویت یونین کے میزائلوں کی موجودگی کا پتہ لگایا۔ اس کے بعد اچانک دنیا بھر پر ایٹمی جنگ کے سیاہ بادل چھا گئے۔
دو عالمی طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی ہو گئیں۔ لیکن پلک جھپکنے کی پہل روس کے صدر نیکیتا کروشیف نے کیوبا سے میزائل نکالنے کی صورت میں کی۔ اس کے بدلے میں ترکی سے امریکی ہتھیاروں کو نکالنے کا خفیہ معاہدہ طے ہوا۔

فیدل کاسترو نے دعوی کیا تھا کے انھیں نکیتا خروشیف کے ساتھ اتحاد میں شمولیت کے لیے مجبور کیا گیا تھا
کاسترو امریکہ کے دشمنوں کی فہرست میں اول نمبر پر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے انھیں آپریشن مونگوس میں قتل کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ بچ نکلے۔
دوسری جانب سوویت یونین کیوبا میں پیسہ انڈیل رہا تھا۔ اس نے جزیرے کی گنے کی کاشت کا وسیع رقبہ خرید لیا۔ بدلے میں ہوانا کی بندرگاہ پر اس کے ساز و سامان سے لدے جہاز اترتے تھے۔ امریکہ کی جانب سے تجارتی بندشوں کی وجہ سے کیوبا میں ان اشیائے ضرورت کی شدید قلت تھی۔
سویت یونین پر انحصار کے باوجود کاسترو نے کیوبا کو غیر وابستہ تحریک میں شامل کیا جو اس وقت نوزائیدہ تھی۔ لیکن دوسری جانب کاسترو اتحادوں کا حصہ بھی بنے خاص طور پر انھوں نے افریقہ کی معاونت کی۔ انھوں نے اپنے فوجی دستے انگولا اور موزمبیق میں مارکسٹ گوریلوں کی مدد کے لیے بھیجے۔
80 کی دہائی کے نصف تک عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی منظر نامہ بدل رہا تھا۔ یہ میخیل گورباچوف، گلاس نوسٹ اور پیرسٹروئکا کا زمانہ تھا اور یہی کاسترو کے انقلاب کے لیے تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔
ادھر روس نے کیوبا کی معاشی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا اور اس سے مزید چینی لینے سے انکار کر دیا۔ امریکی تجارت کی بندش اور سویت یونین کی مدد نہ ملنے کی وجہ سے کیوبا میں بڑے پیمانے پر ضروری اشیا کی قلت پیدا ہو گئی۔ جب خوراک کے حصول کے لیے قطاریں طویل ہونے لگیں تو عوامی ضبط بھی مزید کم ہوتا چلا گیا۔

کاسترو کی فورسز 1959 میں ہوانا میں داخل ہوئیں
وہ ملک جس کے لیے کاسترو نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ دنیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک ہے، درحقیقت واپس ہل جوتنے کے زمانے میں پہنچ چکا تھا۔
90 کی دہائی کے وسط تک کیوبا کے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ اگر پہلے لوگ سیاسی اور معاشی وجوہات کی وجہ سے اسیری کی زندگی کی جانب مائل ہوئے تھے تو اب ہزاروں ایسے تھے جو ایک اچھی زندگی کا خواب آنکھوں میں سجائے سمندری راستے سے امریکی ریاست فلوریڈا ہجرت کر گئے۔
بہت سے ایسے تھے جو دوران سفر اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے لیکن ایسا کرنا ان کی جانب سے کاسترو کے لیے عدم اعتماد کا ووٹ تھا۔
بکھرنے والے خاندانوں می سے ایک مثال نو عمر بچے ایلین گونزالز کی ہے جس کی والدہ فلوریڈا کے سفر کے دوران وفات پا گئی تھیں۔ کیوبا اور میامی میں اس کے خاندان کے درمیان طویل تنازعے کے بعد وہ ہوانا واپس آ گیا تھا۔
اس عرصے میں کاسترو کی حکومت نے اندرونی سطح پر چند قابل توجہ اہداف حاصل کیے۔ ان میں تمام عوام کے لیے بہتر طبی سہولیات کی فراہمی نمایاں تھی، اسی کی بدولت کیوبا میں بچوں کی اموات ترقی پذیر ممالک سے کم ہو گئی۔ اپنے دور حکومت کے آخری عرصے میں کاسترو کافی حد تک بالغ نظر ہو چکے تھے ۔
1998 میں پوپ جان پال دوم نے کیوبا کا غیر معمولی دورہ کیا جس کے لیے اس سے پانچ سال قبل تک سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ اس موقعے پر پوپ نےانسانی حقوق کی پامالی کی وجہ سے کیوبا پر کڑی تنقید کی۔ عالمی میڈیا کے سامنے کاسترو کے لیے یہ سب باعث شرمندگی تھا۔
اپنی واضح کوتاہیوں کے دوسری طرف اقتدار کے آخری برسوں میں کاسترو نے کیریبئین کمیونزم کی ایک انوکھی طرز کو متعارف کروایا۔اپنے انقلاب کو بچانے کے لیے کاسترو سرمایہ کارانہ نظام ‘فری مارکیٹ’ کی اصلاحات کو اپنانے اور آہستہ آہستہ متعارف کروانے کے لیے مجبو ر ہو گئے۔

پوپ جان پال دوئم نے اپنے کیوبا کے دورے کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر تنقید کے لیے استعمال کیا
2004 میں کاسترو کی گھٹنے کی ہڈی ٹوٹ گئی اور بازو بھی متاثر ہوا جس کے بعد سے کاسترو کی صحت کے بارے میں مختلف افواہیں گردش کرنے لگیں۔ یہ بھی کہا جانے لگا کہ ان کا 24 سالہ بھائی راؤل ممکنہ طور پر ان کی جگہ ذمہ داریاں سنبھال لے گا۔
جولائی 2006 میں جب کاسترو کی 80 ویں سالگرہ میں چند ہی روز باقی تھے، کاسترو نے آنتوں کے آپریشن کے بعد اپنے اختیارات عارضی طور پر اپنے بھائی کے حوالے کر دیے۔
اس دوران کیوبا کی حکومت نے مسلسل طور پر اس خبر کی تردید کرتی رہی کہ کاسترو کو لاحق کینسر خطرناک حد کو پہنچ چکا ہے۔ بعدازاں فروری2007 میں کاسترو کے بھائی نے اعلان کیا کہ کاسترو کی صحت بہتر ہو رہی ہے۔
ٹھیک ایک سال بعد کاسترو نے اقتدار چھوڑنے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ قومی اسمبلی کے اگلے اجلاس میں صدر اور کمانڈرانچیف کی حیثیت سے شرکت نہیں کریں گے۔
کاسترو نے عوامی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور ‘ریفلیکشنز آف کامریڈ’ کے عنوان سے ملکی میڈیا کے لیے تحریریں لکھنے لگے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کیوبا کے بہت سے لوگوں نے کاسترو کو آزمانا چھوڑ دیا تھا لیکن بہت سے ایسے بھی تھے جنھیں ان سے حقیقی پیار تھا۔
وہ کاسترو کو ڈیوڈ کی طرح سمجھتے تھے جو امریکہ کے گولائتھ کے سامنے کھڑے ہونےکی ہمت رکھتا تھا اور جس نے کامیابی حاصل کی تھی۔
ان کے لیے کاسترو کیوبا اور کیوبا کاسترو تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY