بڑے غلام علی خان (2 اپریل 1902ء – 25 اپریل 1968ء) پٹیالا گھرانے سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی کلاسیکی گلوکار تھے۔ اپنے کمال فن کے باعث آپ کو متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔
عظیم موسیقار نے جو راگ گایا وہ مسلم اور مستند ٹھہرا۔
دل میں گھر کرنے والی میٹھی آواز اور پختہ سروں کے مالک پٹیالہ گھرانے کے چشم و چراغ استاد بڑے غلام علی خان دو اپریل انیس سو دو کو پنجاب کے شہر قصور میں پیدا ہوئے
استاد بڑے غلام علی خان نے اپنے والد استاد علی بخش خان اور چچا استاد کالے خان پٹیالہ والے سے موسیقی کی تربیت حاصل کی۔
چھ برس کی عمر میں ہی گلوکاری سے عشق کرنے والے استاد بڑے غلام علی خان نے کلاسیکی موسیقی کو نئے اسلوب سے آشنا کیا۔ موسیقی کی اس صنف خاص کو قصور پٹیالہ اسٹائل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
استاد بڑے غلام علی خان کلاسیکل میوزک کے ہر سر، تال اور راگ پر مکمل عبور رکھتے تھے۔ انہیں دھروید، بہرام خانی گائیکی، راگِ بہنگ، خیال، ایک تال، راگِ درباری اور راگِ ملہار پر بھی کمال دسترس حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں استاد اعظم کے نام سے بھی نوازا گیا ۔
استاد بڑے غلام علی خان نے گائیکی میں جو مقام حاصل کیا وہ آج تک کسی دوسرے فن کار کو نصیب نہیں ہو سکا۔
تئیس اپریل انیس سو اڑسٹھ کو موسیقی کا یہ شہنشاہ بھارت کے شہر حیدرآباد دکن میں جہان فانی سے کوچ کر گیا۔
فلم پروڈیوسروں اور موسیقاروں کی جانب سے بے حد اصرار اور درخواستوں کے باوجود آپ نے ایک طویل عرصے تک فلمی گیتوں سے کنارہ کشی اختیار کیے رکھی۔ البتہ، کے آصف کی خوشامد اور منانے پر آپ نے 1960 میں فلم مغل اعظم کے لیے دو گیت گائے جو راگ سوہنی اور راگ رنگیشری پر مبنی تھے۔ اس فلم کے موسیقار نوشاد تھے۔ تاہم خان صاحب نے یہ فلمی گیت گانے کا بھاری معاوضہ لیا اور جب اُس وقت کے معروف فلمی گلوکاروں، جیسے لتا منگیشکر اور محمد رفیع، کو ایک گیت کے پانچ سو روپے سے بھی کم ملا کرتے تھے، کہا یہ جاتا ہے کہ بڑے خان صاحب نے ایک گیت کے ڈھائی ہزار روپے لیے تھے۔[6]
استاد بڑے غلام علی خان کی خدمات کے اعتراف میں اُنہیں سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ اور 1962 میں پدم بھوشن سے نوازا گیا۔
آخری ایام میں طویل عرصے کی علالت نے اُنہیں جزوی طور پر مفلوج کر دیا تھا۔ 1968 میں بشیر باغ پیلس، حیدرآباد میں خان صاحب انتقال کر گئے۔ اپنی وفات سے قبل تک، وہ اپنے بیٹے منور علی خان کی مدد سے عوامی تقاریب میں فن کا مظاہرہ کرتے رہے۔













