پارہ چنار کے رہنے والے کیا پاکستانی اور مسلمان نہیں۔ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی

1
426

معزز قارئین کچھ دنوں سے میں شدید غم میں مبتلا ہوں ۔ قلم اٹھاتی ہوں اور رکھ دیتی ہوں ۔ سوچتی رہی کیا لکھوں ۔۔ کونسے دکھ کی داستان لکھوں ۔۔کسی ماں کا نوحہ لکھوں

پارہ چنار میں چھ ماہ کے دوران تیسری مرتبہ وہاں کے عام اور معصوم مسلمانوں کو بیدردی سے مار دیا گیا اور کوئی نہیں جو ان سے دو بول تعزیت کے ہی بول دے۔ حکومت جیسے بالکل اس معاملے الگ تحلگ نظر آ رہی ہے اور یوں لگتا ہے جیسے پارہ چنار کے لوگ نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی پاکستانی

دوہزار گیارہ میں بھی اسی طرح خون کی ہولی کھیلی گئی تھی تو میں نے لکھا تھا کہ اس ماں کے لیئے لکھوں کہ جس کی آنکھوں کے سامنے اس کے بچے کو بس سے اتار کر گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا ۔۔ان بجھتی آنکھوں کے خواب لکھوں جو مستونگ کے گلرنگ رستوں میں اپنے مولا امام رضا کے دیدار میں چمک رہی ہونگی یا اس کی ماں کی نصحتیں لکھوں جو اپنے بچے کو روضہ مبارک پہنچنے پر مودب رہنے کی تلقین کر رہی ہونگی ۔ یا ان نوجوانوں ، بوڑھوں کی خواہشیں لکھوں جس کاپلندہ لے کر وہ اپنے مام سے ملنے چلے تھے ۔

ابھی تو میں پارہ چنار کے دکھ سے ہی نہ الگ ہوئی تھی کہ کراچی کے بعد بلوچستان کے مرکز کوئٹہ کی باری آگئی ۔ خبریں بتا رہی ہیں بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور 2011 میں صرف اگست اور ستمبر میں صوبے کے مختلف شہروں میں لگ بھگ پینتیالیس افراد کو ہلاک اور زخمی کیا گیا ہے۔

میں اپنے قارئین کو یاد دلانا چاہتی ہوں کہ پارہ چنار میں اب تک طوری و بنگش قبائل سے شہیدوں کی کل تعداد ساڑھے تیرہ سو (1350) سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ مجروحین کی تعداد ساڑھے سات ہزار (7500) تک ہے جن میں 500 کے لگ بھگ عمر بھر کے لئے معذور ہو گئے ہیں۔

شہداء میں سے خواتین کی تعداد 40 ہے، کم سن شہداء کی تعداد 15 ہے، شہید ہونے والے طلباء 100 سے زیادہ ہیں، دوران سفر شہید ہونے والے 150 ہیں، ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہونے والے 20 ہیں، خودکش بم دھماکوں سے شہید ہونے والوں کی تعداد 115 ہے جبکہ لشکر کشیوں کو روکنے اور دوران دفاع شہید ہونے والوں کی تعداد تقریباً 700 ہے ۔

ہزارہ قوم کی پاکستانی صوبہ بلوچستان کے صوبائی دارلحکومت کوئٹہ شہر میں 1999 سے جاری ٹارگٹ کلنگ جہاں اب تک 623 سے زائد افراد شہید اور 2000 افراد زخمی ہو چکے ہیں .

یہ بات بھی میں نہیں تاریخ کہہ رہی ہے کہ ان تمام کاروائیوں میں کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ،لشکر جھنگوی اور ناصبی وہابی دہشت گردوں کی دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث ہیں اور ہر دفعہ انہوں نے اس دہشت گردانہ کاروائیوں کہ زمہ داری بھی قبول کی ہے ۔اور یہ بھی دھڑلے سے کہتے پائے گئے ہیں کہ شعیہ کافر ہیں اس لئے انہیں مارنا جائز ہے اور وہ ایسا کرتے ہوئے اسلام کو بلند کر رہے ہیں ۔

یہ یاد رہے کہ وہ یہ شدت پسندانہ کاروائیاں اکثر سنیوں کا چوغہ پہن کر بھی کرتے ہیں اور پھر پوری دنیا ایک ہی راگ الاپتی ہے شعیہ سنی فسادات ۔ صد شکر کہ گزشتہ دو برسوں سے دہشت گردوں نے اپنے اصل مکروہ چہروں کو بے نقاب کیا ہے تو سنی حیران ہے کہ آخر شعیہ ہی کیوں ٹارگٹ ہو رہے ہیں اور شعیہ حیران ہے کہ آخر ہم کیوں ٹارگٹ ہو رہے ہیں ۔

یہ شدت پسند جو خود کو اسلام کا اصل وارث سمجھتے ہیں ۔ سپاہ صحابہ،لشکر جھنگوی اور ناصبی وہابی دہشت گردوں کی بنیاد پرستی کی جڑیں 1703 تک جاتی ہیں اور سعودی عرب سے تعلق رکھتی ہیں اور اسی وقت سے یہ نظریہ وہاں مختلف اشکال میں غالب رہا ہے. سعودی بنیاد پرست جو اس نظریے پر یقین رکھتے ہیں ۔ان کا خیال ہے کہ تیسری اسلامی صدی کے بعد مسلم عقیدے کی ہونے والی ہر قسم کی ارتقا غلط ہے اور اسکو خارج کر دینا چاہیے. لہٰذا وہ کسی بھی قسم کی اصلاح, تجدید اور تعمیر نو کو سرے سے ہی رد کر دیتے ہیں. ان دہشت گرد انتہا پسندوں کا نظریہ مختلف محازوں پر کسی نہ کسی ملک یا قوم سے متصادم ہی رہتا ہے ۔

ان کے پسندیدہ محازوں میں عسکری ، اقتصادی، سیاسی اور نظریاتی محاز ہیں ۔ جن میں وہ نظریاتی محاز سب سے اہم جانتے ہیں ۔ جس کی توسط سے وہ نہ صرف فنڈ اکھٹا کرتے ہیں بلکہ قتل و غارت کا من چاہا بازار بھی گرم رکھتے ہیں ۔ اس ضمن میں یہ بات انتہائی حیرت انگیز اور مضحکہ خیز ہے کہ یہ لوگ اپنے نظریے کے علاوہ باقی تمام مذہبی فلسفوں کے جواز کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں. یہ اِشتعال انگیز نظریہ کی وجہ سے نہ صرف یہودیوں اورعیسائیوں سمیت غیر مسلموں بلکہ ان مسلم فرقوں کی بھی مذمت و ملامت کرتے ہیں جو ذرا برابر بھی انکے عقائد سے انحراف کرتے ہیں. انکا خیال ہے کہ یہود و نصاریٰ سے دشمنی اور نفرت مسلمانوں کا مذہبی فریضہ ہے اور جو مسلمان ایسا نہیں کرتے وہ کفّار سے بھی بد تر ہیں.

اگر افغانستان کے دور طالبان یا دنیا میں کہیں بھی موجود مسلم عسکریت پسندوں پر نظر ڈالی جاۓ تو یوں لگتا ہے جیسے یہ سب اسی نظریے کی خالص شکل ہیں. ایک پر تشدد نظام عقائد جو کہ خود سے مختلف تمام لوگوں اور نظریات کو رد کرتا ہے خاص طور پر روحانیت اور اسکے پیروکاروں کو. اس عقیدے کے ماننے والے ایک ایسے توسيع پسند فرقے سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ شيعت اور صوفی اسلام، یہودیت، عیسایت اور ہندو مذہب سے سخت نفرت کا اظہار کرتے ہیں ، بلکہ ان عقائد کو مکمل طور پر فنا کرنے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف ہیں۔

اس بات کو واضح کرنے کی انتہائی ضرورت ہے کہ اس نظریے کا قدیم اسلامی روایت یا عقائد سے کوئی تعلق نہیں ہے. اور یہ بھی کہ مغرب میں موجودہ تاثر کی مزمت پرزور ہر پلیٹ فارم پر کرنی ہوگہ اور ساری دنیا کو بتانا ہو گا کہ یہ غلط ہےکہ سعودی عرب میں رائج اسلام ہی دراصل اصل اسلام ہے اور سعودی شاہی گھرانہ خدانخواستہ اسلام کا وارث ہے ۔ ہمیں دنیا کو واشگاف الفاظ میں بتانا ہوگا کہ یہ نظریہ صرف 250 سال قبل ایک کٹر بنیاد پرست محمد بن عبد الوہاب‎ کی زیر نگرانی سامنے آیا تھا جس نے بعد میں بعد میں صحرائی لٹیروں اور ڈاکوؤں، سعودوں سے الحاق کر لیا تھا . تاریخ گواہ ہے کہ اس نے ان صحرائی قبائل کے سربراہوں سے ایک معاہدہ کیا تھا تاکہ جدید سعودی ریاست بنائی جا سکے۔ اور اپنی اسی وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے ان سے جدا عقائد رکھنے والوں کو باغیوں کی لسٹ میں ڈال دیا اور بیدردی سے یا تو جان سے مار دیا یا غلام بنا لیا ۔ یوں سعودی بنیاد پرستی کی جہاں بنیاد پڑی وہاں پورے عرب میں یہ نظریہ وبا کی پھیل گیا۔

سعود یہ نے بقیہ قبائل اور ملاؤں سے معاہدہ کیا اور1924 میں مکّہ کو فتح کر لیا اور اسے اقتدار کا مرکز بنایا اور پوری ریاست پر قبضہ کر لیا تاکہ وہ تیل کی بے پناہ دولت سے فائدہ اٹھا کر اپنے بنیاد پرست نظریات کو دنیا بھر میں برآمد کر سکیں ۔ سعودیہ کا حالیہ ٹارگٹ پاکستان بنا وجہ صرف واحد اسلامی اٹیمی ملک بنی اور یوں اس نے اپنی شقی القلب نطریہ پاکستان میں سپاہ صحابہ ،لشکر جھنگوی اور ناصبی وہابیوں کی شکل میں منتقل کر کے اسلام کی خدمت کا بیڑہ پار کیا ۔

دنیا بڑی ہی دو رخی ہے اور خاص طور پر مغرب کی آنکھوں میں سوائے سعودی عرب کے ساری مسلم ریاستیں خاص طور پر اس وقت پاکستان ، افغانستان شہتیر بنی ہوئی ہیں جبکہ سعودی عرب کی طرف شک کی نگاہ بھی نہیں ڈالتے. سعودی بادشاہت نے ہمیشہ سے شدت پسند اسلامی نظریے کو پروان چڑھانے میں مدد کی ہے، اور تیل کی دولت سے مالا مل یہ ریاست نہ صرف دہشت گردوں کی نظریاتی مدد کرتی ہے بلکہ اس نظریہ کی بقا کے لئے مالی امداد کیلئے بھی پیش پیش رہتی ہے ۔ سعودی بادشاہت شدت پسندی کے نظریے کو پھیلانے, انتہا پسندی کی طرف اُکساہٹ اور ترغیب اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے جرم کبھی لفظی استفسار کے مرحلے سے بھی نہیں گزری۔

اب اس کی وجہ مغربی ممالک کی اپنی لالچ ہو یا درون پردہ مسلمانوں کے خاتمہ کے لئے مسلمانوں کو ہی چنننا ہو لیکن سعودی عرب اب زیادہ عرصہ تک خود کو اپنے منطقی انجام سے بچا نہ پائے گا اور ڈنڈے کے زور پر ملک پر حکومت کرنے ولے شاہی خاندان اس الزام سے کبھی نہیں بچ سکیں گے وہ اور ان کے ملا مولویوں کی سرپرستی کے بغیر القاعدہ یا دوسری دہشت گرد جماعتیں کبھی پنپ نہیں سکتی تھیں

ہم مسلمانوں کی ایک بدقسمتی یہ بھی ہے کہ ہم نے علم تو حاصل نہیں کرنا اور اپنے باپ دادا سے سنی سنائے اسلام پر قائم رہنے کا تہیہ کر رکھا ہے ۔ مکہ مدینہ شہر کے مالکوں کو مکہ مدینہ کے اصل وارث سمجھنے میں ہماری کم علمی بھی کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔عام انسان سے لے کر بڑے بڑے تجزیہ نگار سعودیہ کی حمایت کرتا ہے ۔ کیوں کرتا ہے صرف اس لئے کہ وہاں مکہ مدینہ ہے ۔ لیکن یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ اصل دہشت گرد کون ہے اور چھوٹے دہشت گردوں کی آبیاری کون کر رہا ہے ۔ آئے دن ان کے ہاتھوں شعیہ تشدد اور اذیت رسانی کا شکار رہتے ہیں ۔

کیا واقعی شعیہ کافر ہیں اور انہیں ٹارگٹ کر کے مار دینا چاہئے ۔۔۔ ؟

ہمارے پيغمبر حضرت محمد مصطفى صلى اللہ عليہ و آلہ _ لوگوں سے فرمايا كرتے تھے كہ ميں دنيا اور آخرت كى تمام بھلائي تمہارے لئے لايا ہوں _ خدا نے مجھے حكم ديا ہے كہ دنيا كے تمام لوگوں كو دين اسلام كى طرف بلاؤں _

دين اسلام كيا ہے؟
وہ تمام دستور جو محمد (ص) مصطفى اللہ كے حكم سے لائے ہيں اسے ” دين اسلام” كہا جاتا ہے _ دين اسلام بہترين اور كامل ترين دين ہے _

مسلمان كون ہے ؟

مسلمان وہ ہے جو تمام كاموں كو پيغمبر اسلام(ص) كے لائے ہوئے الہى حكم كے مطابق بجا لائے۔

حضور اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے آخری اور پہلے حج سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ خم غدیر کے مقام پر قیام فرمایا اور اللہ پاک کی حمد و ثنا کے بعد ولایت علی علیہ السلام کا اعلان فرمایا اور ارشاد مبارک کیا کہ من کنت مولا فھٰذا علی مولا یعنی میں جس جس کامولا علی اس اس کا مولا ۔ اس اعلان امامت کے بعد اگر ہم مسلمان اس اعلان کو نہ سمجھیں اور انکار امامت کریں تو ہم کونسے مسلمان رہ جائیں گے ۔ حضور اکرم نے صاف فرمایا کہ میں تمہارےدرمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک کتاب اللہ اور دوسرے اپنی عترت (اہلِ بیعت )کہ دیکھوں کہ میرے بعد تم میری نیابت کیسے کر تے ہو۔ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہونگی تاوقتیکہ یہ (سب) قیامت کو مجھ سے حوض کو ثر پر نہ آملیں “ ۔۔۔ یہ سلسلہ ولایت تھا جس کی بنیاد حضور اکرم نے رکھی تھی اور حضرت علی ع کو امام السالکین کا درجہ عطا فرمایا ۔ اور یہ تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضور اکرم کوئی بات خود نہ فرماتے تھے تا وقتیکہ کہ ارشاد خدا وند نہ ہوتا ۔

امام دين كا رہبر اور پيغمبر (ص) كاجانشين ہوتا ہے _ پيغمبر كے بعد اس كے كام انجام ديتا ہے امام لوگوں كا پيشوا ہوتا ہے _ امام دين كے قانون اور اس كے دستور كا عالم ہوتا ہے _ اسے لوگوں تك پہنچاتا ہے _ امام بھى پيغمبر (ص) كى طرح كامل رہبر ہوتا ہے اور ان تمام امور كو جانتا ہے جو ايك رہبر كے لئے ضرورى ہيں _ اسكو خدا كى مكمل معرفت ہوتى ہے وہ دين كے حلال و حرام اور _ برى اور اچھے اخلاق كو جانتا ہے _ قيامت اور جنّت و جہنم كے حالات سے آگاہ ہوتا ہے _ اللہ تعالى كى پرستش اور نجات كے راستوں كو جانتا ہے علم و دانش ميں تمام لوگوں سے بالاتر ہوتا ہے _ كوئي بھى اس كے مرتبے كو نہيں پہنچتا اگر امام جاہل ہو يا بعض احكام الہى كو نہ جانتا ہو تو وہ نہ تو ايك كامل رہبر بن سكتا ہے اور نہ ہى پيغمبر كے كاموں كا ذمہ دار بن سكتا ہے خداوند عالم نے پيغمبر كے ذريعہ تمام علوم امام كو عطا كئے ہيں _

آیئے میں آپ کو شعیہ مذہب کے بارہ اماموں کے نام مبارک سے آگاہ کروں اور یہ پوچھوں کہ اپنے دل اور دماغ کی ساری قوتیں اور نفرتیں ایک جگہ کر لیجئے اور ان ناموں کی سچائی ، عظمت اور اسلام کی ترقی و ترویج میں کسی کمی کی طرف اشارہ کیجئے ۔ کیا یہ اپنے تمام كاموں كو پيغمبر اسلام(ص) كے لائے ہوئے حكم الہی كے مطابق نہیں بجا لائے ۔ کیا وہ رسول اکرم کے بعد دین اسلام کے صحیح وارث نہیں ہیں ؟ کیا وہ امام دین بننے کی اوپر گنوائے ہوئے اوصاف پر پورا نہیں اترتے تھے ۔

ہمارے پيغمبر كے بعد بارہ امام ہيں جو ايك دوسرے كے بعد منصب امامت پر فائز ہوئے

1____ پہلے امام ____ حضرت على عليہ السلام

2____ دوسرے امام ____ حضرت حسن عليہ السلام

3____ تيسرے امام ____ حضرت حسين عليہ السلام

4____چوتھے امام ____ حضرت زين العابدين (سجاد) عليہ السلام

5____ پانچويں امام ____ حضرت محمد باقر عليہ السلام

6____ چھٹے امام ____ حضرت جعفر صادق عليہ السلام

7____ ساتويں امام ____ حضرت موسى كاظم عليہ السلام

8____آٹھويں امام ____ حضرت على رضا عليہ السلام

9____ نويں امام ____ حضرت محمد تقى عليہ السلام

10____ دسويں امام ____ حضرت على نقى عليہ السلام

11____ گيارہويں امام ____ حضرت حسن عسكرى عليہ السلام

12____ بارہويں امام ____ حضرت امام مہدی حجت عليہ السلام

کیا اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کسی کو عار ہو گا کہ اگر شعیہ مسلمان امام علی کی امامت کی یادہانی کی خاطر دن رات ایک نہ کریں ، امام حسین کی یا دمیں کربلا کی یاد میں فغان نہ کریں یا ہر امام علیہ السلام کے ظہور اور وصال کی مجالس نہ کریں تو اسلام کو اس شدت سے جانے گا کون اور کیسے ہمارے نبی کا دین اپنی پوری صحت کے ساتھ سلامت رہے گا ۔ یہ تو اللہ کریم و رحیم کا وعدہ ہے کہ اس کا دین غالب ہو کر رہے گا ۔ اور یقین جانئے کہ اسے اپنے دین کو غالب رکھنے کے لئے نہ تو شعیہ چاہئے ، نہ سنی اور نہ وہابی ۔ وہ تو پاک رب کسی غیر مسلم کو بھی اتنی روشنی دے سکتا ہے کہ وہ اپنی جان ہتھیلی پر لئے اس کے کام میں مشغول ہو جائے گا لیکن لمحہ فکریہ ہمارے لئے ہے کہ ہمارا ٹھکانہ کیا ہوگا ۔

سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ کو ئی دہشت گرد کسی بھی تنظیم کسی بھی ملک کی سرپرستی میں ہو وہ آخر کتنے شعیہ مسلمان مار لے گا اور کیا انہیں ختم کر دینے اسلام کا پرچم جھک جائے گا یا اسلام سعودیہ کے شاہی گھرانے کی لونڈی بن جائے گا ۔ اور دیکھنا یہ بھی ہے کہ مغربی ممالک جنہیں سعودی مسلمانوں کے علاوہ دنیا کا ہر مسلمان دہشت گرد یا بنیادپرست لگتا ہے کب تک آنکھیں بند کر کے آئی بلا کو ٹال سکیں گے ۔۔ اور اب تاریخ کویہ بھی فیصلہ کرنا ہے کہ صدیوں کی ملوکیت اور آمریت زدہ وہ مسلمان جنہوں نے اللہ کے نبی کو تقسیم کیا ۔۔ ان کی اولاد کو تقسیم کیا ۔۔ ان کے ازواج کو تقسیم کیا ۔۔ ان کے اصحاب کو تقسیم کیا ۔۔اب عام مسلمانوں کو تقسیم کر رہے ہیں اور چن چن کر شیعہ کو مار رہے ہیں وہ کب تک عافیت میں رہ سکیں گے ۔

یوں لگتا ہے کہ پاکستان کی وفاقی اور خاص طور بلوچستان کی صوبائی حکومت ان ناصبیوں کے اھداف کی تکمیل میں معاون ہے کہ ایک عرصے سے بے گناہوں کے کشت وخون کے باوجود حکومت اور اسکی سیکیورٹی ایجنسیوں نے کوئی اقدامات نہیں کیئے۔ ہو سکتا ہے کہ اس ڈولتی ہوئی اور بدترین معیشت کی ماری ہوئی حکومت کو بھی سعودی عرب سے سستے یا مفت تیل کی لالچ ہو ۔ ایک طرف دہشت گردی ختم کرنے کے نام پر امریکہ سے معاہدہ کر کے وطن عزیز کو جیسے جہنم بنا رکھا ہے اور دوسری طرف سعودی ملوکیت کو خوش رکھنے کے لیئے پوری سرکاری مشینری کوئٹے میں مسلسل شیعوں کی ٹارگٹ کلنگ سے آنکھیں بند کیئے ہوئے ہے۔ ایسے میں یہ یاد رکھیں کہ۔۔۔۔۔مارنے والے سے بڑا ظالم خاموش رہنے والا ہے۔

SHARE

1 COMMENT

  1. Nighat g,…..yeh baat wazah hai keh insan koi bhi mazhabi aqayad rakhta ho ya phir Allah ki zaat say munkar hi kun na ho who bhi Allah ki makhloq hai ussi nee peda kia hai or ussi k pass lout kar jana hai,….har kissi ko apnay nazriyat or aqayed ke sath zinda rehnay ka haq hai,….kissi insan ka qatal jaisz nahi,….Allah hum sab ko haq ke rastay per chalnay ki tofeeq ata farmaye ameen

LEAVE A REPLY